فواد چوہدری: معاملہ پرویز مشرف کی ذات کا نہیں بلکہ پاکستانی فوج کو ٹارگٹ کیا گیا ہے

فواد چوہدری تصویر کے کاپی رائٹ PID

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی اور ماضی میں جنرل (ر) پرویز مشرف کے ترجمان رہنے والے فواد چوہدری نے سنگین غداری کیس کا تفصیلی فیصلہ سامنے آنے کے بعد کہا ہے کہ یہ معاملہ پرویز مشرف کی ذات کا نہیں بلکہ پاکستانی فوج کو ہدف بنایا جا رہا ہے اور فوج کی حمایت کو ان کی کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے۔

پرویز مشرف کو آئین شکنی پر سزائے موت سنانے والی خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس سیٹھ وقار نے جمعرات کو جاری ہونے والے تفصیلی فیصلے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حکم دیا ہے کہ وہ مجرم کو گرفتار کر کے سزا پر عملدرآمد کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں اور اگر وہ مردہ حالت میں ملیں تو ان کی لاش اسلام آباد کے ڈی چوک لائی جائے جہاں اسے تین دن تک لٹکایا جائے۔

ان کے اس حکم پر پاکستان میں بحث جاری ہے اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس حکم سے یہ فیصلہ متنازع ہو گیا ہے۔ جمعے کو ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ملک میں پیش آنے والے واقعات کا ہدف پاکستانی فوج ہے۔

انھوں نے کہا ’معاملہ پرویز مشرف کی ذات کا ہے ہی نہیں بلکہ ایک خاص حکمت عملی کے ساتھ پاکستان فوج کو ٹارگٹ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پرویز مشرف غدار یا ہیرو، سوشل میڈیا پر بحث

’لفظ غدار کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے آج پتا تو چل گیا ہو گا‘

مشرف کو سزائے موت: ’افواج پاکستان میں شدید غم و غصہ اور اضطراب ہے‘

’پہلے لبیک دھرنا کیس میں فوج اور ISI کو ملوث کیا گیا، پھر آرمی چیف کے عہدے میں توسیع کو متنازع بنایا گیا اور اب ایک فوج کے مقبول سابق سربراہ کو بےعزت کیا گیا۔‘

وفاقی وزیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’واقعات کا تسلسل عدالتی اور قانونی معاملہ نہیں رہا اس سے بڑھ کر ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@fawadchaudhry

انھوں نے خبردار کیا کہ ’اگر ملک میں فوج کے ادارے کو تقسیم یا کمزور کر دیا گیا تو پھر انارکی سے نہیں بچا جا سکتا، جنرل باجوہ اور موجودہ فوجی سیٹ اپ نے جمہوری اداروں کا ساتھ دیا ہے، لیکن اس حمایت کو نادانی میں کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے

وفاقی وزیر فواد چوہدری نے جمعرات کو بھی اس معاملے پر اظہارِ خیال کیا تھا اور کہا تھا کہ ’افتخار چوہدری کی بحالی کے نتیجے میں ایسے لوگ بھی جج بن گئے جن کی اہلیت اور علم پر سنجیدہ سوالات ہیں، آگ سے کھیلنے کے شوقین حضرات کو علم ہی نہیں کہ جل بھی سکتے ہیں، نہ لفظ چننے کی اہلیت نہ بیان کا سلیقہ۔۔ یہ ریت نئی نہیں لیکن تاریخ کا سبق ہے کہ کوئی تاریخ سے سبق نہیں سیکھتا۔‘

تفصیلی فیصلے کے دیگر نکات سے زیادہ یہی بات پاکستان کے سوشل میڈیا پر بھی زیرِ بحث رہی کہ جسٹس سیٹھ نے فیصلے کے پیراگراف نمبر 66 میں جو کہا اس کی وجہ کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر ’ڈی چوک‘ صفِ اول کے ٹرینڈز میں شامل ہے۔ اس کے ساتھ #MusharafVerdict اور #پیرا نمبر66 بھی ٹرینڈ کر رہا ہے جس میں صارفین فیصلے پر اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔

صحافی زیب النسا برکی کا کہنا تھا کہ فیصلے میں جو بھی ’پاگل پن‘ ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ مشرف کو غداری کی سزا نہ دی جائے۔ جو چیز ناقابلِ معافی ہے وہ یہ کہ کس طرح ان چند سطروں نے اصل معاملے سے توجہ ہٹا دی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ @Ahmad_Noorani

ڈاکٹر کرم مغل کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کے 72 سال کے مسائل کا حل صرف ایک پیراگراف میں...` تاہم صحافی سرل المیڈا نے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ججز، آپ بہت آگے نکل گئے۔۔۔ چوکوں میں لاشیں لٹکانا طالبان کا وطیرہ رہا ہے۔‘

مبشر خان کہتے ہیں ’کسی انسان کی لاش کی بےحرمتی کرنا آئین اور قانون سے ماورا تو ہے ہی، ہمارا مذہب بھی ہمیں کسی لاش کی بے حرمتی سے واضح طور پر منع کرتا ہے۔ جسٹس وقار احمد سیٹھ کے فیصلے کے دور رس اور بھیانک نتائج برآمد ہوں گے۔‘

صحافی احمد نورانی کی رائے میں ’سیٹھ وقار اگر غدار مشرف کی لاش کو گھسیٹ کر ڈی چوک لانے اور تین دن تک لٹکائے رکھنے والی بات نہ بھی لکھتے تو بھی فیصلے پر عملدرآمد ہو جانا تھا، پاکستان کا آگے بڑھنا آمرانہ قوتوں کو پیچھے دھکیلنےاورانہیں نشانِ عبرت بنانےمیں ہی ہے، اگرایسا نہ ہوسکا تو پاکستان آگے چل ہی نہیں سکتا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر سینیٹر شیری رحمان نے لکھا کہ ’کوئی بھی عوامی سطح پر بربریت کی یا لاش کی بے حرمتی کی حمایت نہیں کر سکتا۔ لیکن وہ عملی طور پر نہیں ہو سکتا کیونکہ دوسرے جج نے اس کی مخالفت کی ہے۔ پیرا نمبر 66 مضمون کو مکمل طور پر تبدیل کرتا ہے، سخت زبان میں بحث کو الجھایا گیا ہے۔ اب کوئی بھی آئین کے تقدس اور قانون کی حکمرانی کی بات نہیں کر رہا‘۔

اعظم آفریدی کے مطابق ’اس سے یہ بات عیاں ہوگئی ہے کہ اس فیصلے سے ادارے کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ یہ پورا فیصلہ بغض اور عناد سے بھرا ہوا ہے جو ردی کی ٹوکری میں جائے گا۔‘

صحافی محمل سرفراز کا کہنا ہے ’ جسٹس وقار سیٹھ کے حکم یا الفاظ پر بحث کرتے ہوئے یہ مت بھولیے کہ مشرف قانون کے مجرم ہیں۔ وہ آئین کو پامال کرنے کے مجرم ہیں۔‘

عفت حسن رضوی کہتی ہیں ’لگتا ہے ڈی چوک پر مشرف کی لاش لٹکانے والا جملہ پورے فیصلے پر بھاری پڑے گا. اب بات صرف آئین شکنی کی سزا سنانے تک نہیں رہی۔ ردِ عمل کا انتظار کیجیے!‘

اسی بارے میں