چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ: خصوصی عدالت کے فیصلے کے بعد عدلیہ کے خلاف تضحیک آمیز مہم چلائی گئی

سپریم کورٹ تصویر کے کاپی رائٹ SUPREME COURT OF PAKISTAN

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنی ریٹائرمنٹ کے موقع پر منعقد ہونے والے فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کا تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد اُن کے اور پوری عدلیہ کے خلاف گھناؤنی مہم شروع ہو چکی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ خصوصی عدالت کے فیصلے کے بعد عدلیہ کے خلاف تضحیک آمیز مہم چلائی گئی۔

اُنھوں نے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بھی میڈیا سے بات کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان (آصف سعید کھوسہ) کی جانب سے اس کیس پر اثر انداز ہونے سے متعلق بات کی جو بے بنیاد اور تضحیک آمیز ہے۔

واضح رہے کہ آرمی چیف کی مدتِ ملازمت سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران بھی چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ اس درخواست کی سماعت کرنے والے بینچ میں شامل ججز کے خلاف سوشل میڈیا پر تضیحک آمیز مہم چلائی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’ہم سمجھے تھے جیّد لوگ کوئی خامی نہیں چھوڑیں گے‘

چیف جسٹس: ’احتیاط کریں، طاقتور کا طعنہ ہمیں نہ دیں‘

چیف جسٹس آصف کھوسہ کے دور کے اہم فیصلے اور تنازعات

چیف جسٹس نے اپنی تقریر کے دوران فہمیدہ ریاض کا یہ شعر بھی پڑھا

کچھ لوگ تمہیں سمجھائیں گے

وہ تم کو خوف دلائیں گے

اُنھوں نے کہا کہ بطور جج انھوں نے ہمیشہ اپنے حلف کی پاسداری کی ہے اور تمام فیصلے بے خوف و خطر اور غیر جانبداری سے دیے۔

ان کا کہنا تھا کہ اُن کے لیے یہ اہم نہیں کہ ان کے دیے گئے فیصلوں پر دوسروں کا ردعمل یا نتائج کیا ہو سکتے ہیں کیونکہ انھوں نے ہمیشہ وہ کیا جسے اُنھوں نے درست سمجھا۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ ایک جج کا دل شیر کی طرح اور اعصاب فولاد کی طرح ہونے چاہییں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Supreme Court of Pakistan

اُنھوں نے کہا کہ بطور چیف جسٹس انھوں نے 337 دن ذمہ داری نبھائی اور اگر ہفتہ وار اور دیگر تعطیلات نکال دی جائیں تو 235 دن کام کے لیے ملے اور اس عرصے کے دوران عدالتی شعبے میں اصلاحات کے لیے اہم اقدامات کیے۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ جب وہ پیدا ہوئے تو ان کے منھ میں ایک دانت تھا اور اس وقت خاندان میں یہ بات مشہور ہو گئی کہ بچہ بہت خوش قسمت ہو گا۔

پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین امجد شاہ نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سابق فوجی آمر پرویز مشرف کے خلاف فیصلہ آئین کی بالادستی اور قانون کی عملداری کا غماز ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کے فیصلے سے آئندہ کسی طالع آزما کو آئین شکنی اور جمہوری حکومت کو گرانے کی جرات نہیں ہو گی۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان بار کونسل جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو سزا دینے کے فیصلے کو سراہتی ہے۔

امجد شاہ کا کہنا تھا کہ خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس وقار اور ان کے ساتھی رکن جج کو ہمیشہ عزت و تکریم سے یاد رکھا جائے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ جسٹس وقار سیٹھ کے بارے میں ہرزہ سرائی پر سپریم کورٹ کو نوٹس لینا چاہیے۔

اُنھوں نے کہا کہ پرویز مشرف کے خلاف عدالتی فیصلے پر حکومتی حلقوں کا ردعمل توہین آمیز ہے اور ان کا یہ اقدام انصاف کی فراہمی میں دخل اندازی کے مترادف ہے۔

پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین نے عندیہ دیا کہ اگر جسٹس وقار سیٹھ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس دائر کیا گیا تو وکلا اس کی بھرپور مخالفت کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اُنھوں نے کہا کہ خفیہ اداروں کے اہلکاروں کی جانب سے اربابِ اختیار کی نجی زندگیوں کی معلومات پر اُنھیں بلیک میل کرنے سے اداروں کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ازخود نوٹس اختیار کے تحت مقدمات سننے کی حوصلہ شکنی کی تاہم اُنھوں نے یہ مطالبہ بھی دھرایا کہ سپریم کورٹ کے از خود نوٹس پر ہونے والے فیصلے پر متاثرہ فریق کو نظرثانی کی اپیل کا حق بھی دیا جائے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر سید قلب حسن شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ المیہ ہے کہ ملکی عدلیہ کو ایگزیکٹیو کی جانب سے اکثر دباؤ کا سامنا رہا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ وکلا برادری سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف مبینہ طور پر بدنیتی پر مبنی صدارتی ریفرنس کی سختی سے مذمت کرتی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر ایک دیانت دار جج کو ایگزیکٹیو کی طرف فارغ کیا گیا تو دوسرے ججز کے لیے بھی راستہ کھل جائے گا۔ اُنھوں نے کہا کہ کئی اہم تاریخی مقدمات کا بروقت فیصلہ نہ ہونا ایک المیہ ہے۔ اُنھوں نے مطالبہ کیا کہ محفوظ شدہ فیصلوں پر کسی تاخیر کے بغیر فیصلہ سنایا جانا چاہیے۔

اٹارنی جنرل انور منصور کی عدم موجودگی میں ایڈشنل اٹارنی جنرل عامر الرحمان نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آصف سعید کھوسہ نے بطور جج 55 ہزار مقدمات کا فیصلہ کیا۔

اُنھوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کے حالیہ فیصلے میں جسٹس کھوسہ کے وضع کردہ قانونی اصولوں کو مد نظر نہیں رکھا گیا۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس وقار احمد سیٹھ کا فیصلہ تعصب اور بدلے کا اظہار کرتا ہے اور جسٹس وقار کی جانب سے سزا پر عملدرآمد کا طریقہ غیر قانونی، غیر انسانی، وحشیانہ اور بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ خصوصی عدالت کا فیصلہ کریمینل جسٹس سسٹم کی روایات سے بھی متصادم ہے۔

ایڈشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے مقدمے میں جسٹس کھوسہ نے ریاست کی رٹ اور عدلیہ کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے آزادانہ فیصلہ دیا۔ اُنھوں نے کہا کہ عدالت کے وقار اور بنیادی انسانی حقوق کی تحفظ کی ایک عمدہ مثال جسٹس کھوسہ کا آسیہ بی بی کیس کا فیصلہ بھی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے مقدمے میں اہم آبرویشنز دی گئیں۔

فل کورٹ ریفرنس سے نامزد چیف جسٹس گلزار احمد نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ سپریم کورٹ قانون کی حکمرانی ،آئین کا تحفظ اور آزاد عدلیہ کے چیلنجز سے نبرد آزما ہوتی آئی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں