پرویز مشرف کو سزائے موت: ’کسی کو سزا ہو تو تضحیک کرنا یا مٹھائیاں بانٹنا مناسب نہیں لگتا‘

نواز شریف اور شہباز شریف تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شہباز شریف اور نواز شریف کے سیاست کرنے کے طریقے میں خاصا واضح فرق ہے۔

سابق فوجی آمر اور صدر پرویز مشرف کے مقدمے کا فیصلہ آنے کے بعد تقریباً ہر کسی نے اس پر اپنی خوشی یا ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ لیکن حیران کُن طور پر جس جماعت نے ان کے خلاف غداری کا مقدمہ دائر کیا تھا، اُس کی طرف سے اس فیصلے کے بعد سے کوئی معنی خیز بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

چند مسلم لیگی رہنماؤں نے پاکستان کے ٹی وی چینلز اور ٹاک شوز پر اپنا مؤقف دیا لیکن 17 دسمبر کو خصوصی عدالت کی طرف سے پرویز مشرف کے خلاف فیصلہ آنے کے بعد ایسا تاثر مل رہا ہے کہ مسلم لیگ نواز کی قیادت اور کارکنان اس حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

یہ فیصلہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ پاکستان کی تاریخ میں کسی فوجی آمر کو آئین سے بغاوت کی سزا نہیں سنائی گئی۔

یہ بھی پڑھیے

’ملزم پرویز مشرف بنام سرکار حاضر ہوں‘

پرویز مشرف کی ویڈیو نشر ہونے پر پیمرا نشانے پر

’آگ سے کھیلنے والوں کو علم نہیں کہ جل بھی سکتے ہیں‘

مشرف مردہ حالت میں ملیں تو لاش ڈی چوک پر لٹکائی جائے: جسٹس وقار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سنہ 1999 میں پرویز مشرف نے جب پاکستان میں مارشل لا لگایا تھا تو اس کے نتیجے میں اس وقت کے وزیرِ اعظم نواز شریف کی حکومت برطرف ہوئی تھی۔

جب نواز شریف 2013 کے انتخابات کے بعد پاکستان کے وزیرِ اعظم منتخب ہوئے تو انھوں نے سابق فوجی آمر پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ شروع کیا۔ اس کے بعد یہ مقدمہ کئی سال تک چلتا رہا۔

مسلم لیگ کے رہنما خواجہ آصف نے بی بی سی کو دیے گئے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’یہ بیشک ایک علامتی فیصلہ ہے، لیکن اس حمام میں ہم سب ہی ننگے ہیں۔ چاہے وہ جج ہوں، سیاستدان ہوں یا پھر میڈیا کے نمائندے۔‘

اس وقت شہباز شریف کی لندن میں بنائی گئی ایک ویڈیو سماجی رابطے کی ویب سائیٹ پر گردش کر رہی ہے جس میں مشرف فیصلے پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ جب تک وہ تفصیلی فیصلہ پڑھ نہ لیں تب تک کوئی بیان دینا مناسب نہیں سمجھتے۔

اس ویڈیو میں شہباز شریف سوال کا جواب دے کر جلدی میں وہاں سے نکلتے ہوئے نظر آئے۔

عارف نظامی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس وقت شہباز شریف کی خاموشی خاصی معنی خیز ہے۔ ایک طرف تو وہ جماعت کے صدر بھی ہیں اور قومی اسمبلی میں ان کی تقاریر کون نہیں جانتا۔ لیکن اِس وقت کی خاموشی کسی تدبیر کے تحت ہے۔‘

سنہ2017 میں جب پاکستان کی سپریم کورٹ نے نواز شریف کو نا اہل قرار دیا اور تاحیات انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی عائد کر دی تو اس وقت شہباز شریف نے جماعت کی قیادت سنبھالی۔

شہباز شریف اور نواز شریف کے سیاست کرنے میں بھی واضح فرق ہے۔ جہاں یہ تاثر ملتا ہے کہ شہباز شریف پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں اور اپنا بیان دینے سے کتراتے بھی نہیں، وہیں نواز شریف کے دورِ حکومت میں ان کا پاکستان کی فوج کے ساتھ ٹکراؤ اور اس کے نتیجے میں ہونے والے واقعات سب کے سامنے ہیں۔

مسلم لیگ نواز ذاتی اور قانونی مسائل سے دو چار ہے۔ اس وقت نواز شریف کی علاج کی غرض سے باہر رہنے کے لیے توسیع بڑا مسئلہ ہے، ساتھ ہی مریم نواز کی ضمانت کی درخواست اور ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نام نکالنے کا معاملہ بھی اب تک حل نہیں ہوا جبکہ مریم نواز کا پاسپورٹ عدالت کے پاس ہے۔

کالم نگار سیرل المیڈا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس بات کا اندازہ لگانا تو مشکل نہیں کہ نواز اس وقت مشرف مقدمے کے فیصلے سے خوش ہوں گے یا نہیں۔ لیکن اس وقت جماعت کو اس سے زیادہ ضروری معاملات پر غور کرنا ہے کہ آیا پاکستان تحریکِ انصاف کی جنرل باجوہ کو دی جانے والی توسیع کی کوششوں کی مخالفت کریں یا نہیں۔‘

سیرل کا مزید کہنا تھا کہ ’مشرف کے مقدمے کا فیصلہ اس وقت نواز کے لیے ذاتی فتح کا باعث ہو سکتا ہے۔ لیکن اب بھی مسلم لیگ نواز کو خاصا مشکل سول ملٹری تعلقات کا سفر طے کرنا ہے۔‘

مسلم لیگ نواز کے رہنما پرویز رشید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جماعت کی طرف سے بات چیت کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

’ہماری طرف سے جب جنرل سیکریٹری احسن اقبال بات کر لیتے ہیں تو جماعت کی ترجمانی ہو جاتی ہے۔ اب کسی کو سزا ہو تو اس شخص کی تضحیک کرنا یا مٹھائیاں بانٹنا مناسب نہیں لگتا۔‘

اسی بارے میں