اسرائیلی ٹیکنالوجی کی مدد سے پاکستانی حکام کے واٹس ایپ کی ہیکنگ کرنے میں کون ملوث ہے؟

واٹس ایپ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

برطانوی اخبار گارڈین کی ایک خبر کے مطابق رواں برس کے اوائل میں اسرائیلی کمپنی این ایس او کی بنائی گئی ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے کم از کم دو درجن پاکستانی سرکاری حکام کے موبائل فونز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

خبر کے مطابق یہ واضح نہیں کہ اس حملے میں کون ملوث ہے لیکن خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ ممکن ہے کہ پاکستان کا روایتی حریف انڈیا اس کے پیچھے ہو۔

اس خبر کی تصدیق کے لیے جب بی بی سی نے پاکستانی حکام سے رابطہ کیا تو انھوں نے کہا کہ اس ہیکنگ کے بارے میں انھیں کوئی علم نہیں ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ پاکستانیِ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ کمیونیکیشن کی جانب سے جاری کیا گیا ایک ’خفیہ‘ مراسلہ منظر عام پر آیا جس میں کہا گیا کہ ’وہ سینیئر حکومتی اہلکار جو کہ حساس عہدوں پر فائز ہیں وہ میسیجنگ ایپ واٹس ایپ پر سرکاری دستاویزات نہ بھیجیں، اپنے واٹس ایپ کو تازہ ترین اپ ڈیٹ کے ساتھ استعمال کریں اور 10 مئی 2019 سے پہلے خریدے گئے اپنے فون کا استعمال ترک کریں۔‘

یہ بھی پڑھیے

پاکستانی فوجی واٹس ایپ گروپ کیوں چھوڑ رہے ہیں؟

سرکاری ملازمین کے لیے واٹس ایپ کا متبادل زیر غور

’واٹس ایپ پر حملے میں اسرائیلی سافٹ ویئر استعمال ہوا‘

آٹھ نومبر کو جاری کیے گئے اس مراسلے میں بتایا گیا کہ ’دشمن ممالک کی خفیہ ایجنسیوں نے ایسی صلاحیت حاصل کر لی جس کی مدد سے موبائل فون تک رسائی ہو سکتی ہے اور کہا گیا کہ ایک اسرائیلی کمپنی این ایس او کے سپائی وئیر کی مدد سے 20 سے زائد ممالک میں صارفین متاثر ہوئے ہیں جس میں پاکستانی صارفین بھی شامل ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مراسلے کی اشاعت کے چھ ہفتے بعد، 20 دسمبر کو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے پریس ریلیز جاری کیا جس میں 'میڈیا رپورٹس' کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’پی ٹی اے نے پاکستان میں متاثرہ صارفین کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے نہ صرف واٹس ایپ انتظامیہ کے ساتھ معاملہ اٹھایا ہے بلکہ واٹس ایپ انتظامیہ کی جانب سے اختیار کیے گئےاحتیاطی اقدامات جن کے ذریعے مستقبل میں ہیکنگ کی روک تھام کی جا سکتی ہے کے بارے میں آگاہی حاصل کی جا سکے۔‘

پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز گارڈین اخبار میں شائع ہونے والی خبر سے ایک روز بعد جاری کی گئی۔

کیا یہ محض اتفاق ہے؟

بی بی سی نے جب پاکستان میں ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل رائٹس پر کام کرنے والے ذرائع سے بات کی تو انھوں نے حکومتی مؤقف کی تردید کرتے ہوئے یہ امکان ظاہر کیا کہ ’سٹیٹ ٹو سٹیٹ کی سطح پر جاسوسی ہوئی ہے یعنی (ممکن ہے کہ) ایک دوسرے ملک نے پاکستانی حکومت کے چند اہلکاروں کے فون ہیک کیے ہیں۔‘

واضح رہے کہ اس سال اکتوبر میں واٹس ایپ نے اسرائیلی سافٹ وئیر بنانے والی کمپنی این ایس او کے خلاف امریکی عدالت میں مقدمہ دائر کیا اور ان پر الزام لگایا کہ سائبر ہتھیار بنانے والی کمپنی نے ’دنیا کے 20 سے زائد ممالک میں کم از کم 1400 افراد کے موبائل فون کو واٹس ایپ میں موجود ایک خامی کی مدد سے نشانہ بنایا۔‘

واٹس ایپ نے اپنی پٹیشن میں کہا کہ تنظیم کے بنائے ہوئے سافٹ وئیر کی مدد سے وکلا، صحافی اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے افراد کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

واٹس ایپ کی جانب سے کی گئی تحقیق میں ان کی مدد کرنے والے تحقیقی ادارے ’سٹیزن لیب‘ میں موجود ذرائع سے جب بی بی سی سے نے سوال کیا کہ آیا پاکستانی حکام کے فون بھی متاثر ہوئے تھے تو انھوں نے جواب میں واضح تصدیق یا تردید تو نہیں کی لیکن ساتھ ہی کہا کہ ’اس معاملے کو ضرور دیکھا جانا چاہیے۔‘

پاکستان میں ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل رائٹس سے منسلک ذرائع نے بھی بی بی سی کو بتایا کہ وہ سٹیزن لیب سے قریبی روابط قائم رکھے ہوئے ہیں جنھوں نے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اہم اور حساس عہدوں پر فائز پاکستانی حکام کے فون ’سٹیٹ ٹو سٹیٹ حملے میں میں متاثر ہوئے تھے۔‘

یاد رہے کہ اس سال کے آغاز میں بھی پاکستانی فوج کے کور کمانڈرز میٹنگ میں ہونے والے ایک اجلاس سے خبر آئی تھی کہ پاکستانی فوج کے حکام کو اپنے واٹس ایپ گروپس بند کرنے یا ان سے نکل جانے کو کہا گیا ہے۔

اسی طرح کے ایک اور پیغام کے مطابق فوج کے تمام حاضر سروس افسران کو مبینہ طور پر متنبہ بھی کیا گیا کہ اگر انھوں نے تمام واٹس ایپ گروپس سے قطع تعلق نہ کیا تو ان کے خلاف انضباطی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔

پاکستانی فوج کے متعدد افسران نے اُس وقت بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ یہ پیغامات درست ہیں اور مزید بتایا تھا کہ ان احکامات کی وجہ ’سکیورٹی‘ ہے۔

فوج کی جانب سے جنوری میں دیے گئے حکم کے 11 ماہ بعد پی ٹی اے کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز سے کئی سوالات نے جنم لیا کہ آیا حالیہ خبروں میں لگائے گئے الزامات اور حکومتی احکامات کے درمیان کوئی تعلق تو نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

نومبر میں ہی حکومتی ادارے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے بھی کہا کہ وہ واٹس ایپ کی جگہ مقامی طور پر تیار کی گئی میسیجنگ ایپ بنا رہے ہیں۔

ان شکوک کی وضاحت کے لیے جب بی بی سی نے نیشنل آئی ٹی بورڈ کے سربراہ شباہت علی شاہ سے سوال کیا تو انھوں بتایا کہ این آئی ٹی بی اس ایپ کی تیاری کے حوالے سے گذشتہ چھ ماہ سے کام کر رہی ہے تاکہ وفاقی سطح پر ایک کمیونیکشن ٹیکنالوجی منتخب کی جائے اور اس پروگرام کو تیار کرنے کا مقصد حکومتی سطح پر رابطے بہتر اور آسان بنانا ہے۔

’ہمارے اس پراجیکٹ کا ہیکنگ کے بارے میں کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی ہمارے پاس واٹس ایپ ہیکنگ کے بارے میں کوئی معلومات ہیں۔‘

این آئی ٹی بی سے ہی منسلک ایک اور اہلکار فیصل اقبال نے بھی بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ادارے کی جانب سے بنانے والے ایپ کا گارڈین اخبار میں دی گئی رپورٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

دوسری جانب سٹیزن لیب کے سینیئر محقق جان سکاٹ رائیلٹن نے گارڈین اخبار کو دیے گئے بیان میں کہا کہ اس نوعیت کے سپائی وئیر دشمن ممالک ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرتے ہیں اور اس کے ذریعے وہ جاسوسی اور نگرانی کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ جب واٹس ایپ کی جانب سے اس مقدمے کو دائر کیا گیا تو اس کے بعد یہ واضح ہو گیا تھا کہ انڈیا میں انسانی حقوق پر کام کرنے والے کارکنان، وکلا اور صحافیوں سمیت کم از کم 100 سے زائد افراد کے فون کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

انڈیا میں انسانی حقوق پر کام کرنے والے متعدد اداروں اور افراد نے انڈین حکومت پر تنقید کی اور سوالات اٹھائے کہ آیا انھوں نے این ایس او کا سپائی وئیر خریدا ہے اور اس کی مدد سے صحافی اور انسانی حقوق کے کارکنان کے فون کو نشانہ بنایا ہے۔

این ایس او نے اپنے طور پر ان لگائے گئے الزامات کی بھرپور تردید کی اور کہا کہ وہ صرف اور صرف حکومتوں کو اپنی ٹیکنالوجی فراہم کرتے ہیں تاکہ وہ دہشت گردی اور سنگین جرائم کے خاتمے کے لیے کام کر سکیں۔

انڈین حکومت نے این ایس او کی جانب سے دیے گئے جواب کی تردید کی تھی۔

اسی بارے میں