کیا زلزلوں کے مقابلے میں آتش فشاں پھٹنے کی پیش گوئی زیادہ مشکل ہے؟

آتش فشاں تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کے شمالی علاقہ جات اور افغانستان کے کچھ حصوں میں جمعے کو 6.1 شدت کا زلزلہ آیا جس میں پاکستانی حکام کے مطابق کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا تاہم ایک دیوار گرنے سے ایک بچے کے زخمی ہونے کی اطلاع ضرور ہے۔

ہم آئے دن سنتے ہیں کہ زلزلہ آیا اور اتنا نقصان ہو گیا، زلزلے کے بعد آنے والی سونامی نے شہروں کو تباہ کر ڈالا اور اس طرح کی بہت سی خبریں۔

ابھی حال ہی میں نیوزی لینڈ میں ایک آتش فشاں پھٹنے سے کم از کم 16 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور وہ بھی وہ لوگ تھے جو اس آتش فشاں پہاڑ اور جس جزیرے میں وہ تھا اس کی سیر کرنے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

’یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے؟‘

'آتش فشانی حلقے کی سرگرمی معمول کے مطابق ہے‘

اٹلی میں ’ایک یورو کا مکان‘ آپ کا بھی ہو سکتا ہے

سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا زلزلے یا زلزلے کی وجہ سے آتش فشاں پھٹنے کی ہمیں پیشگی اطلاع ہوسکتی ہے؟

بی بی سی کی ریئیلٹی چیک نے یہ جانے کی کوشش کی ہے کہ ایسے واقعات یا ان کی شدت کے بارے میں پیشگی اطلاع حاصل کرنے میں ہم کتنے ماہر ہیں؟

آتش فشاں پھٹنے کا عمل تب ہوتا ہے جب لاوا یا بھاپ آتش فشاں سے باہر آنے لگے۔ یہ جاننا انتہائی مشکل ہوتا ہے کہ یہ دھماکہ کب ہوگا خاص کر ایسی صورت میں جب آتش فشاں کئی سالوں سے خاموش ہو۔

مگر سائنسدان اہم رجحانات اور علامتوں کی مدد سے کسی حد تک پیشگوئی کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

وہ آتش فشاوں کو مانیٹر کرنے کے لیے مندرجہ ذیل عوامل پر غور کرتے ہیں:

  • زلزلے
  • گیسوں کا اخراج
  • آتش فشاں کے حجم میں کسی قسم کی تبدیلی

اگر سائنسدانوں کو آتش فشاں سے نلکنے والی گیس کی مقدار یا رفتار میں تیزی نظر آئے یا قریب میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے جائیں تو انھیں اس کے پھٹنے کے بارے میں پریشان ہونا چاہیے۔

مگر اس بات کا تعین کرنا کہ ان علامتوں کی وجہ سے وہ ایک گھنٹے میں یا ایک مہینے میں پھٹے گا، اس کا انحصار اُس مخصوص آتش فشاں پر ہی ہوتا ہے۔

کسی بھی آتش فشاں کے بارے میں جتنی زیادہ معلومات ماہرین کے پاس ہوں گی، اتنے ہی بہتر انداز میں اس کے پھٹنے کے امکان کے بارے میں پیشگوئی کی جا سکے گی۔

زیادہ تر آتش فشاں پھٹنے سے قبل کے ہفتوں یا مہینوں میں یہ علامتیں ظاہر کرتے ہیں مگر کچھ واقعات انتہائی غیر متوقع اور ایک دم ہوتے ہیں۔

جو آتش فشاں کئی سالوں سے خاموش ہو یا جدید ٹیکنالوجی کے متعارف کروائے جانے سے پہلے پھٹے ہوں، ان کے بارے میں پیشگوئی کرنا تو اور بھی زیادہ مشکل ہوتا ہے۔

1991 میں تقریباً 5000 افراد کو اس وقت بچا لیا گیا جب فلپائن میں کوہ پیناتبو کے ارد گرد کے علاقے کو خالی کروا لیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس موقعے پر امریکی جیولاجیکل سروے اور فلپائن انسٹیٹیوٹ آف وولکینالوجی اینڈ سائزمولوجی نے واقعے سے قبل خبردار کیا تھا۔ انھوں نے اس آتش فشاں کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو دس ہفتوں تک مانیٹر کیا اور اس دوران اس کے اندر چھوٹے چھوٹے دھماکوں کو دیکھتے ہوئے حکام کو بڑے پیمانے پر علاقہ خالی کروانے کی ضرورت پر زور دیا۔

گذشتہ ایک صدی میں یہ کسی آتش فشاں کے پھٹنے کے سب سے بڑے واقعات میں سے ایک تھا۔

مگر 2014 میں جاپان میں کوہ اونٹاکے کے پھٹنے سے قبل کوئی تنبیہ نہیں کی گئی تھی اور یہ واقعہ ایک دم ہی پیش آیا تھا۔

اور ایسے واقعے بھی ہوئے ہیں کہ لوگوں کو کسی علاقے سے نکال لیا گیا اور توقع کی گئی کہ کوئی آتش فشاں پھٹے گا مگر ایسا نہیں ہوا۔

تاہم آتش فشاؤں کی نگرانی کرنے والے ادارے کتنے موثر ہیں اس کا انحصار وسائل اور تکنیکی مہارت پر ہوتا ہے۔

اور نیوزی لینڈ اس شعبے میں ایک ترقی یافتہ ملک مانا جاتا ہے۔ آتش فشاؤں کی نگرانی کے لیے یہ جی پی ایس ٹیکنالوجی، انتہائی جدید سینسرز اور ڈرون طیاروں کے ساتھ ساتھ زمینی ٹیموں کا استعمال کرتا ہے اور اس سلسلے میں وہ ترقی پزیر ممالک کی مدد بھی کرتا ہے۔

کینٹربری یونیورسٹی کے ماہرِ آتش فشاں بن کینیڈی کہتے ہیں کہ ہم ان واقعات کی پیش گوئی کرنے میں بہتر سے بہتر ہوتے جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ہم زلزلوں کے مقابلے میں آتش فشاں کے پھٹنے کی پیش گوئی کرنے میں بہت بہتر ہیں، خاص کر بڑی ٹیکٹانک زلزلوں کے مقابلے میں۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں