پرویز مشرف کو غداری کیس میں سزا: عمران خان کی حکومت فوج کی ترجمانی کیوں کر رہی ہے؟

فروغ نسیم تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption وفاقی وزیرِ قانون فروغ نسیم وزیرِ اعظم کی معاونِ خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان اور وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کے ہمراہ اسلام آباد میں 19 دسمبر 2019 کو سنگین غداری کیس کا فیصلہ آنے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کیا تھا

پاکستان کے سابق فوجی آمر اور صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو آئین شکنی پر سنگین غداری کے مقدمے میں موت کی سزا سنائے جانے کے بعد جہاں ملک کے تمام سیاسی و سماجی حلقوں نے اپنی اپنی آرا کا اظہار کیا ہے وہیں فوج نے بھی اس فیصلے پر اپنا شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔

تاہم اس بات پر بھی تعجب کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ حکومت جو اس کیس میں خود مدعی ہے اور موجودہ وزیر اعظم جو ماضی میں سابق صدر کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں، اب ان ہی کی وفاقی کابینہ کے اراکین، اٹارنی جنرل اور وزیر اعظم کے مشیران و معاونین خصوصی اس معاملے میں فوج کی ترجمانی کا تاثر کیوں دے رہے ہیں۔

یہ تاثر اس وقت ابھرا جب فیصلہ آنے کے چند ہی منٹ بعد وفاقی وزیر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے اپنی ایک ٹویٹ کے ذریعے اس فیصلے پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ فواد چوہدری ماضی میں جنرل (ر) پرویز مشرف کی جماعت کے پنجاب میں جنرل سیکریٹری اور ترجمان رہ چکے ہیں۔

اسی طرح پاکستان کے اٹارنی جنرل انور منصور خان اور وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم بھی سابق صدر پرویز مشرف کے وکیل رہ چکے ہیں۔

حال ہی میں فوج کے سربراہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے میں بھی وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کابینہ میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے کر جنرل قمر جاوید باجوہ کی وکالت کی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

’آگ سے کھیلنے والوں کو علم نہیں کہ جل بھی سکتے ہیں‘

مشرف مردہ حالت میں ملیں تو لاش ڈی چوک پر لٹکائی جائے: جسٹس وقار

مشرف کو سزائے موت: ’افواج پاکستان میں شدید غم و غصہ اور اضطراب ہے‘

پیرا 66 سے آگے: خصوصی عدالت کے فیصلے میں کیا ہے؟

یہ معاملہ جب سپریم کورٹ کی جانب سے نمٹا دیا گیا تو فروغ نسیم ایک مرتبہ پھر وفاقی وزارت کا حلف اٹھاتے ہوئے دکھائی دیے۔

آئین شکنی کے مقدمے میں عدالت کے تفصیلی فیصلے کے بعد وزیروں اور مشیروں کی جانب سے کی گئی پریس کانفرنس سے بھی اس بات کا واضح اظہار ہوتا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب فوج کے ترجمان نے اس معاملے پر اپنا واضح ردعمل دے دیا ہے، تو اس کے باوجود حکومت کی جانب سے فوج کی ترجمانی کا تاثر کیوں ابھر رہا ہے؟

’عمران خان اس معاملے کو سنبھال لیں گے‘

اس بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی کا کہنا تھا کہ ’ہمارا کردار اس معاملے میں ثالث کا ہونا چاہیے اور عمران خان اس معاملے کو سنبھال لیں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’فوج بھی تو حکومت کا ادارہ ہے اور اگر حکومتی ارکان فوج کی بات کر رہے ہیں تو وہ حکومت کی ترجمانی کر رہے ہیں۔‘

وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کے حکومتی قانونی ٹیم کے ساتھ پریس کانفرنس کرنے پر ان کا کہنا تھا کہ وہ حکومت کے ترجمانوں کی فہرست میں شامل ہیں۔

انھوں نے کہا کہ حکومت کا مؤقف ہے کہ جس طرح تفصیلی فیصلے کے پیراگراف نمبر 66 میں آئین اور قانون کے خلاف سزا کے طریقہ کار پر عمل کرنے کا کہا ہے یہ غلط ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس پیراگراف نے پورے فیصلے کو متنازع کر دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے سابق فوجی آمر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری مقدمے کے فیصلے پر فوج کی جانب سے شدید ردِ عمل دیا تھا

’وزیر اعظم پر کوئی دباؤ ہوگا‘

اس سوال پر بات کرتے ہوئے حزب اختلاف کی جماعت پیپلز پارٹی کے رہنما قمر الزمان کائرہ کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت ہر معاملے میں ہی ابہام کا شکار ہے، اس مقدمے میں بھی فیصلہ آنے سے پہلے اسے رکوایا کہ سابق صدر پرویز مشرف کو دفاع کا پورا موقع دیا جائے۔

’مختصر فیصلہ آیا تو تحفظات کا اظہار کیا گیا، اب تفصیلی فیصلہ آیا تو بھی تنقید کی گئی۔‘

انھوں نے خیال ظاہر کیا کہ ’وزیر اعظم پر کوئی دباؤ ہوگا، ویسے بھی وزیر اعظم کہتے ہیں کہ ان کی پسندیدہ پالیسی یوٹرن لینا ہے انھوں نے اس پر بھی یوٹرن لے لیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف کے خلاف مقدمے کے تفصیلی فیصلے میں دو ججز کا ان کو موت کی سزا دینے پر اتفاق رائے تھا مگر پیراگراف 66 میں سزا کے طریقہ کار کے حوالے سے جو لکھا گیا، پاکستان کا آئین و قانون اس کی اجازت نہیں دیتا اور حکومت نے اس پر بحث و مباحثے کو اس رخ موڑ دیا کہ جیسے فوج کے ادارے کو بدنام کرنے کی کوشش ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’فوج اور حکومت تو ایک ہی چیز ہے اور دوسری جانب عدلیہ کھڑی نظر آتی ہے جیسا کہ اپنے عہدے سے سکبدوش ہونے والے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے بھی کہا ہے کہ انھیں اور ان کے ادارے کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس سے محاذ آرائی کا تاثر ملتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں ’حکومت کو اس معاملے سے دور رہنا چاہیے تھا کیونکہ یہ ایک شخص کا مسئلہ اور آئین پاکستان کا مسئلہ ہے۔‘

’حکومت فوج کی خوشنودی حاصل کر رہی ہے‘

اس بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سینیئر صحافی اور تجزیہ کار عارف نظامی کا کہنا تھا کہ یقیناً ایسا ہی ہے اور اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت فوج کی حمایت اور مدد پر انحصار کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت ایسا فوج کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کر رہی ہے۔ حکومت فوج کی ترجمانی کرنے پر مجبور ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ماضی میں وزیر اعظم عمران خان جب اپوزیشن میں تھے تو کئی مرتبہ سابق صدر پرویز مشرف کے ٹرائل اور سول بالادستی کی بات کر چکے ہیں لیکن یہ حکمت عملی بھی ان کے نظریے یوٹرن کے تحت اختیار کی گئی ہے اور یہ ان کا ایک اور یوٹرن ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان خود تو اس معاملے میں بظاہر خاموش ہیں لیکن ان کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان کی کابینہ کے ارکان خصوصاً قانونی ٹیم نہ صرف پرویز مشرف کی کابینہ کے رکن بھی رہے بلکہ ان کے وکیل بھی رہ چکے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان کے اٹارنی جنرل انور منصور خان اور وزیرِ اعظم کی معاونِ خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے 17 دسمبر 2019 کو خصوصی عدالت کا فیصلہ آنے کے فوراً بعد پریس کانفرنس کی

’یہ حکومت کی ذمہ داری اور ضرورت ہے‘

اسی بارے میں بات کرتے ہوئے دفاعی تجزیہ کار اور سابق جنرل امجد شعیب کا کہنا تھا کہ حکومت فوج کی ترجمانی نہیں کر رہی بلکہ وہ دو اداروں کے درمیان کشمکش کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ یہ حکومت کی ذمہ داری اور ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ حکومت کے فائدے میں نہیں ہوگا کہ دو اداروں کے درمیان براہ راست تصادم کی صورت پیدا ہو۔ وہ عدم استحکام نہیں لانا چاہتی۔

انھوں نے کہا کہ اس معاملے میں تصادم کی صورت اس لیے پیدا ہو رہی ہے کیونکہ فوج یہ سمجھتی ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کو منصفانہ ٹرائل کا موقع نہیں ملا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’فوج حکومت کا ادارہ ہے۔ وہ براہ راست عدالتوں کے ساتھ جا کر لڑ نہیں سکتی، اس میں وکیل نہیں کر سکتی، یہ حکومت کا کام ہے، قانونی ٹیم اور اٹارنی جنرل حکومت کا کام ہے، اس لیے فوج کے سربراہ قمر جاوید باجوہ نے وزیر اعظم سے بات کی اور اپنی سوچ اور مؤقف واضح کیا۔ اگر فوج حکومت کے پاس نہیں جائے گی تو کہاں جائے گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ فوج کو پرویز مشرف کے ٹرائل پر نہیں بلکہ اس کے طریقہ کار پر اعتراض ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’پرویز مشرف کے مقدمے میں انھیں دفاع کا حق نہیں دیا گیا اور انھوں نے جن ججوں کو نکالا تھا وہ ہی منصف بن کر بیٹھ گئے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’صدر مشرف کو اس مقدمے میں پہلے دن سے ہی ٹارگٹ کیا گیا تھا۔‘

اسی بارے میں