وسعت اللہ خان کا کالم بات سے بات: اتنا سناٹا کیوں ہے بھائی؟

بات سے بات

عام طور پر عدلیہ کے تاریخی فیصلوں کا متن اخبارات میں تفصیلاً شائع کر دیا جاتا ہے۔ ٹی وی چینلز اہم فیصلوں کا خلاصہ ضرور بیان کرتے ہیں، مگر پرویز مشرف کے بارے میں 150 صفحات سے زائد کے فیصلے میں صرف پیرا نمبر 66 ہی اب تک زیرِ بحث آ سکا ہے۔

باقی صفحات میں کیا کیا اہم باتیں کہی گئی ہیں، اس بابت کوئی تفصیلاً بات کرنے یا سننے پر آمادہ نہیں۔

صف بندی درحقیقت اسی دن ہو گئی تھی جب تفصیلی فیصلے کا انتظار کیے بغیر مختصر فیصلے پر ہر کسی نے اپنا فیصلہ ایسی شد و مد سے دے ڈالا کہ تفصیلی فیصلے کو لفظ بہ لفظ پڑھنے کی ضرورت ہی نہ سمجھی گئی۔

ہو سکتا ہے جن علما نے عدالتی فیصلے کو غیر شرعی قرار دے دیا، انھوں نے پورا فیصلہ پڑھ کر یہ رائے قائم کی ہو۔

وسعت اللہ خان کے مزید کالم پڑھیے

بانٹنے والا ہی اپن کا بھگوان ہے

اور کتنے غدار باقی ہیں دوست؟

جھوٹ سچ اور حق ناحق کا ڈرامہ

73 برس سے امید کی زمین میں ڈرلنگ کرنے والی قوم

ممکن ہے صفِ اول کے جن سیاستدانوں نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے، انھیں یہ فیصلہ اب تک پڑھنے کا وقت ہی نہ ملا ہو یا پھر وہ پورا فیصلہ پڑھنے کے بعد ہی خاموش ہو گئے ہوں۔

جن نامعلوم لوگوں نے بڑے شہروں میں راتوں رات پرویز مشرف کے حق میں پوسٹرز لگا دیے، ممکن ہے کہ انھوں نے یہ فیصلہ تفصیل سے پڑھنے کے بعد راتوں رات پوسٹر چپکائے ہوں۔

بہرحال پڑھ کر یا بنا پڑھے اس قدر تنقیدی دھول اڑ چکی ہے کہ مجھ جیسوں کو اب یہ شبہ ہونے لگا ہے کہ کیا یہ رائے زنی کسی پاکستانی عدالت کے فیصلے پر ہو رہی ہے یا کسی انڈین عدالت کا فیصلہ نشانے پر ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سنا ہے خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فہد اکرام قاضی کو صوبائی چیف سیکرٹری نے ’ڈسپلن توڑنے‘ کی بنیاد پر معطل کر دیا کیونکہ قاضی صاحب نے مبینہ طور پر یہ کہا تھا کہ حالات جیسے بھی ہوں سول سروس قانون اور عدلیہ کے ساتھ کھڑی ہے۔

جب فوج کا ترجمان کہے کہ یہ عدالتی فیصلہ آئینی، قانونی اور تہذیبی اقدار سے متصادم ہے اور جب چیف جسٹس سبکدوش ہونے سے پہلے یہ کہے کہ اس فیصلے کے بعد عدلیہ کو ایک گھناؤنی اور تضیحک آمیز مہم کا سامنا ہے تو پھر یہ اندازہ لگانے کے لیے کون سی راکٹ سائنس درکار ہے کہ صورتحال کتنی نازک ہو چکی ہے۔

ہر ریاست کو اپنا وجود برقرار رکھنے کے لیے فوج کی ضرورت ہے، بھلے کیسی بھی ہو۔ ہر ریاست کو افراتفری، طوائف الملوکی، جنگل کے قانون اور فسطائیت سے بچنے کے لیے عدلیہ کی ضرورت ہے بھلے اس کا معیار کچھ بھی ہو۔

ہر ریاست کو قانون سازی کے لیے پارلیمان کی ضرورت ہے بھلے پارلیمان کتنی ہی اہل یا نااہل ہو، اور ہر ریاست کو روز مرہ امور چلانے کے لیے حکومت کی ضرورت ہے بھلے حکومت کتنی اچھی یا ناقص ہو۔

ان اداروں میں سے جو بھی اپنے طے شدہ آئینی و قانونی دائرہ کار سے تجاوز کر کے ریاست کے وجود کی قیمت پر ذاتی یا ادارتی مفاد کی خاطر دوسرے اداروں کو نیچا دکھا کر کمزور کرنے کی کوشش کرے، دراصل یہی کوشش غداری کے برابر ہے۔

اور اس غداری کا نتیجہ صومالیہ، روانڈا، یوگو سلاویہ، کمپوچیا (کمبوڈیا)، بنگلہ دیش اور افغانستان کی شکل میں نکلنا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔

اب سے 78 برس پہلے 26 اپریل 1942 کو جرمن پارلیمنٹ (ریشاغ) سے خطاب کرتے ہوئے ایک صاحب نے فرمایا تھا:

’جرمن عدلیہ کو سمجھ لینا چاہیے کہ قوم اس سے نہیں بلکہ اس کا وجود قوم کا مرہونِ منت ہے۔ آج کے بعد ان تمام ججوں کو سبکدوش کر دیا جائے گا جو قومی ترجیحات اور وقت کی نزاکت سمجھنے سے عاری ہیں۔’

بظاہر اس بیان میں کوئی خرابی نہیں، مگر یہ بیان ایڈولف ہٹلر نے دیا تھا۔

اسی بارے میں