مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا معاملہ: وفاقی کابینہ نے متفقہ طور پر مریم نواز کا نام نہ نکالنے کی منظوری دے دی

مریم نواز تصویر کے کاپی رائٹ PMLN

وفاقی کابینہ نے سابق وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کی صاحبزادی اور پاکستان مسلم لیگ کی نائب صدر مریم نواز کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نہ نکالنے کی منظوری دی ہے۔

وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وزیر اعظم ہاؤس میں منعقد ہوا جس کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے وزیر اعظم کی مشیر برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ ’کابینہ نے متفقہ طور پر مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نہ نکالنے کی منظوری دی ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ کابینہ کے سامنے ایک ذیلی کمیٹی کی رپورٹ رکھی گئی جس کے تحت ای سی ایل سے چند نام نکالنے اور نئے نام ڈالنے کی اجازت طلب کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

نواز شریف کی روانگی کے بعد مریم نواز بھی خاموش

ای سی ایل کیا ہے، اس سے نام نکالنے کا عمل کیا ہے؟

’مریم نواز کی درخواست پر حکومت سات دن میں فیصلہ کرے‘

فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ آٹھ لوگوں کے نام ای سی ایل سے نکالنے کی منظوری دی گئی ہے جس میں ’وی آئی پی نام (مریم نواز)‘ شامل نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور حکومت آئین اور قانون کے مطابق فیصلے لے گی۔

انھوں نے کہا کہ کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی مخالفت کی تھی اور وفاقی کابینہ نے ذیلی کمیٹی کے اس فیصلے کی متفقہ طور پر توثیق کی ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز (پیر) حکومت کے مشیر ایڈووکیٹ بابر اعوان نے لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت کا مریم نواز سے متعلق فیصلہ حکمراں جماعت کی کور کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا تھا اور ’یہ قانون کی بالادستی ہے۔‘

دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ نے مریم نواز کی جانب سے ای سی ایل سے اپنا نام نکلوانے کے لیے دائر کی جانے والی درخواست پر سماعت 26 دسمبر تک ملتوی کر دی ہے۔

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا نام اگست 2018 سے ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں موجود ہے جس کی وجہ سے وہ بیرونِ ملک سفر نہیں کر سکتیں۔

حکومت کا کیا موقف ہے؟

پیر کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کے مشیر بابر اعوان نے بتایا کہ ’(نواز شریف کا) ایک سپیشل کیس تھا۔۔۔ (لیکن) مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نہیں نکالا جائے گا۔‘

اس سے قبل معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور وفاقی وزیر فیصل واؤڈا بھی حکومت کا یہ موقف دہرا چکے ہیں۔ ماضی میں مسلم لیگ نواز کے رہنما حکومتی موقف کو ’سیاسی انتقام‘ قرار دے چکے ہیں۔

بابر اعوان کا کہنا تھا کہ ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست پارلیمانی کمیٹی سے آئی تھی اور حکومت کے فیصلے میں کوئی سیاست نہیں ہے۔

’(حکمراں جماعت کی) کور کمیٹی کا فیصلہ ہے کہ حکومت کسی سزا یافتہ شخص کو بیرون ملک جانے نہیں دے گی۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’ورنہ آپ قانون میں ترمیم لے آئیں کہ جس کو بھی ابا جی سے ملنا ہے اسے باہر جانے کی اجازت دے دی جائے۔‘

وزیر اعظم کے مشیر کا کہنا تھا کہ ’قانون کی موجودگی میں اجازت نہ دینا قانون کی بالادستی ہے۔‘

بابر اعوان نے اسحاق ڈار اور نواز شریف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’لندن پہنچ کر جتنے بھی بیمار تھے صحت یاب ہو گئے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ حکومت نے ’نواز شریف کی بیماری پر کوئی سیاست نہیں کی۔‘

دریں اثنا پرویز مشرف پر سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کے فیصلے پر بابر اعوان کا کہنا تھا کہ ’جانبدار کیس کی صورت میں حکومت اگر چاہے تو اپیل کر سکتی ہے اور اس کی مثال موجود ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کی موجودگی میں اداروں میں تصادم نہیں ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PMLN

درخواست پر حکومت کو فیصلہ کرنے کا حکم

9 دسمبر کو لاہور ہائی کورٹ نے مریم نواز کی جانب سے ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے اپنا نام نکلوانے کی درخواست پر وفاقی حکومت کو ان کا موقف سن کر فیصلہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔

لاہور ہائیکورٹ کے ایک دو رکنی بنچ نے چار نومبر 2019 کو شریف خاندان کی ملکیت چودھری شوگر ملز کے ذریعے منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار مریم نواز شریف کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔

خیال رہے کہ مریم نواز کا پاسپورٹ عدالتی احکامات کی روشنی میں لاہور ہائیکورٹ کی تحویل میں ہے.

مریم نواز کے والد نواز شریف العزیزیہ ریفرنس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے طبی بنیادوں پر دی گئی ضمانت پر چھ ہفتے کے لیے ملک سے باہر ہیں۔

وہ 19 نومبر کو پاکستان سے لندن روانہ ہوئے تھے مگر مریم نواز نام ای سی ایل میں ہونے کی وجہ سے ان کے ساتھ نہیں جا سکی تھیں۔

مریم نواز کی سزائیں

ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز سات سال قید کی سزا سنائے جانے کے بعد اب پاکستان کے قانون کے مطابق انتخابات میں حصہ لینے کے لیے 10 سال تک نااہل ہوچکی ہیں۔ یہ نااہلی اس کیس میں بریت کی صورت میں ختم ہو سکتی ہے۔

مریم نواز کو کیلیبری فونٹ کے معاملے میں غلط بیانی پر شیڈول 2 کے تحت ایک برس قید کی سزا بھی سنائی گئی جبکہ ان پر 20 لاکھ پاؤنڈ کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ سے سزا کی معطلی کے بعد انھیں اڈیالہ جیل سے رہا کر دیا گیا تھا۔

اکتوبر 2018 میں نیب نے ان کی سزا کی معطلی کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی جسے سپریم کورٹ نے مسترد کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم برقرار رکھا تھا۔

انھیں اگست 2019 میں نیب نے چوہدری شوگر ملز میں مبینہ بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کیا تھا لیکن نومبر 2019 میں انھیں لاہور ہائی کورٹ سے ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔

ای سی ایل کیا ہے؟

وزارت داخلہ ایگزٹ کنٹرول لسٹ یا ای سی ایل میں ان افراد کے نام شامل کرتی ہے جن کے بارے میں کسی عدالت نے کوئی حکم نامہ جاری کیا ہو یا پھر نیب اور خفیہ اداروں کی طرف سے اس شخص کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی گئی ہوں۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ اگرچہ کسی بھی شخص کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کا اختیار ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کے پاس ہوتا ہے لیکن موجودہ حالات میں یہ اختیار وزیر داخلہ بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ APP

اسی بارے میں