عاصمہ شیرازی کا کالم: تاریخ کی عدالت!

بے نظیر بھٹو، نواز شریف تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جنرل مشرف کمزور ہوئے تو انھیں انھی سیاست دانوں کی ضرورت محسوس ہوئی، قومی مفاہمت کا آغاز ہوا اور اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے ہر وہ چیز کرنے کو تیار ہوئے جسے آج این آر او کہا جاتا ہے

اختیار بے اختیار ہو جائے اور اقتدار بے مہار تو کہاں کا قانون اور کیسا انصاف۔ وقت کس قدر بے رحم ہے، بدلتا ہے تو اوقات دکھا دیتا ہے اور نہ بدلے تو انداز۔

یہ بیس اکتوبر دو ہزار تین کی سہ پہر تھی، قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد ہو رہا تھا۔ پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے سربراہان یعنی محترمہ بے نظیر بھٹو، نواز شریف اور شہباز شریف خود ساختہ جلاوطن تھے۔ ملک میں خواجہ آصف، احسن اقبال، جاوید ہاشمی اور خواجہ سعد رفیق پارٹی کو سنبھالے بیٹھے تھے۔

اطلاع ہوئی کہ مخدوم جاوید ہاشمی پارلیمنٹ کیفے ٹیریا میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے۔ اکا دکا چینلز کا دور تھا سو پارلیمانی رپورٹر کے طور پر یہ پریس کانفرنس رپورٹ کی۔

یہ پریس کانفرنس ایک ایسے خط کے اردگرد گھوم رہی تھی جو مبینہ طور پر پاکستان آرمی کے لیٹر ہیڈ پر تحریر تھا۔ یہ خط مختلف پارلیمنٹیریز کو بھیجے گئے تھے جس میں مبینہ طور پر یہ تاثر دیا گیا کہ جنرل مشرف اور فوج ایک صفحے پر نہیں۔

عاصمہ شیرازی کے دیگر کالم پڑھیے

اچھا سر سوری!

’پیچھے نہیں، آگے دیکھو‘

عزیز ہم وطنو!

مخدوم جاوید ہاشمی شعلہ بیاں مقرر تھے اور قومی اسمبلی میں جنرل مشرف کے خلاف سخت تنقید کرتے تھے۔

اس پریس کانفرنس کے تقریباً نو دن کے بعد ایک رات اپنے لاجز سے گرفتار کر لیے گئے، اُن پر بغاوت اور فوج کے خلاف اکسانے کا مقدمہ دائر ہوا اور مختلف قوانین کے تحت مجموعی طور پر تئیس سال سزا سُنا دی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مخدوم جاوید ہاشمی شعلہ بیاں مقرر تھے اور قومی اسمبلی میں جنرل مشرف کے خلاف سخت تنقید کرتے تھے

انھیں محض ایک خط سنانے کی پاداش میں سزا دی گئی مگر دراصل یہ اُس آواز کو خاموش کرانے کی کوششش تھی جو اس وقت کے طاقتور ترین کو چیلنج کر رہی تھی۔

اسی دور میں جنرل مشرف بڑے فخر سے کہتے دکھائی دیے کہ نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کا سیاست سے کردار ختم ہو چکا جبکہ نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت سے چند ہفتے پہلے ان کا مشہور زمانہ بیان کہ وہاں سے ماروں گا کہ پتا بھی نہیں چلے گا آج تک بھلایا نہیں جا سکتا۔۔۔ اور پھر دنیا نے دیکھا کہ نواب اکبر بگٹی کو کیسے مارا گیا۔

جنرل مشرف کمزور ہوئے تو انھیں انھی سیاست دانوں کی ضرورت محسوس ہوئی، قومی مفاہمت کا آغاز ہوا اور اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے ہر وہ چیز کرنے کو تیار ہوئے جسے آج این آر او کہا جاتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس این آر او سے بھی جتنا فائدہ متحدہ قومی موومنٹ کو ہوا وہ کسی اور جماعت کو نہیں، بہرحال بدنام پاکستان پیپلز پارٹی ہوئی اور محترمہ وطن واپسی کی ضرورت کے تحت جنرل مشرف سے بات کرنے پر مجبور ہوئیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس مفاہمت کے چیدہ نکات میں یہ شامل تھا کہ جنرل مشرف وردی کے بغیر بھی صدارت کے عہدے پر فائز رہیں گے۔ یہ این آر او جنرل مشرف کے فائدے کے لیے تھا مگر اس کا بھر پور نقصان پیپلز پارٹی کو ہوا۔

محترمہ واپس آئیں تو بھانپ لیا کہ جنرل مشرف عوام میں انتہائی غیر مقبول ہو چکے ہیں یہاں تک کہ لال مسجد کے واقعے کے بعد افواج پاکستان کا وردی پہن کر نکلنا بھی محال اور ہماری افواج پر خودکش حملوں کا آغاز بھی ہو چکا تھا۔

ججز نظر بند، سانحہ کارساز میں سینکڑوں پی پی کارکنوں کی ہلاکت اور میڈیا پابند سلاسل تھا۔ وکلا تحریک عروج پر تھی اور محترمہ نے سول سوسائٹی اور وکلاء کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کر لیا جو جنرل مشرف سے کی گئی ہم آہنگی سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔

یہ وہ نکتہ تھا جس نے اندرونی اور بیرونی طاقتوں کو ناراض کر دیا مگر محترمہ یہ سمجھ گئیں تھیں کہ اگر عوامی طاقت کے ہاتھ ملک کی حکمرانی نہ ہوئی تو پاکستان کی سالمیت کو نقصان ہو گا۔ یہ وہ دن تھے جب سوات میں تحریک طالبان سر اُٹھا چکی تھی اور آئے دن اسلام آباد فتح کرنے کی خبریں گرم تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption تحقیقات بتاتی ہیں کہ بی بی کو مارنے کے لیے کئی ٹیمیں واپسی کے راستے پر جگہ جگہ موجود تھیں۔ کس نے مارا؟ کیوں مارا؟ سوال بہت، جواب مگر پوچھیں کس سے؟

ستائیس دسمبر کی شام اپنے پنپنے سے ہی ایک اداس شام تھی۔ اُدھر لیاقت باغ کا جلسہ شروع ہوا اُدھر شام کی اداسی مزید گہری ہو گئی اور پھر وہ سانحہ ہوا جس کا ازالہ کبھی نہیں ہو سکے گا۔ محترمہ کو لیاقت باغ میں قتل کر دیا گیا۔

کان یہ خبر سننے کو تیار نہ تھے، آنکھیں وحشت زدہ اور ملال تھا کہ ختم ہونے کا نام نہ لے رہا تھا۔ بھٹو کے بعد اُن کی بیٹی کا جنازہ بھی پنڈی سے اٹھ رہا تھا۔ محترمہ کے دشمن بھی بلک بلک کر رو رہے تھے۔

تحقیقات بتاتی ہیں کہ بی بی کو مارنے کے لیے کئی ٹیمیں واپسی کے راستے پر جگہ جگہ موجود تھیں۔ کس نے مارا؟ کیوں مارا؟ سوال بہت، جواب مگر پوچھیں کس سے؟

محترمہ بے نظیر بھٹو کی موت کو ستائیس دسمبر کو بارہ سال مکمل ہو جائیں گے، نہ بی بی کو انصاف ملا نہ ہی اُن کے خاندان کو۔ اب بلاول ایک بار پھر راولپنڈی میں انصاف مانگیں گے، ہو سکتا ہے کہ دو دفعہ کی منتخب اور امت مسلمہ کی پہلی خاتون وزیراعظم کے خون ناحق پر پھر انصاف طلب کریں۔

مگر یہ سب لکھتے ہوئے میں سوچ رہی تھی کہ اختیار اور اقتدار کی اس جنگ میں فیصلہ انصاف کی عدالت پر چھوڑیں یا تاریخ پر۔۔۔؟

اسی بارے میں