رانا ثنا اللہ کیس میں ہائی کورٹ کا فیصلہ: ’انتقامی کارروائی کا پہلو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا‘

رانا ثنا اللہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیر قانون اور پاکستان مسلم لیگ کے رکن قومی اسمبلی رانا ثنا اللہ کی درخواست ضمانت منظور کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔

صحافی عبادالحق کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس چودھری مشتاق احمد نے نو صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں قرار دیا ہے کہ رانا ثنا اللہ کیس میں شریک ملزمان کی ٹرائل کورٹ سے پہلے ہی ضمانت ہو چکی ہے اور ٹرائل کورٹ کے اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج نہیں کیا گیا۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ رانا ثنا اللہ کے خلاف منشیات کے مقدمے میں ان کا جسمانی ریمانڈ ہی نہیں لیا گیا اور محض سنگین نوعیت کے الزامات پر کسی کو ملزم کو ضمانت کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیے

'کیا صرف ان ہی کے جج تبدیل ہونا تھے؟'

رانا ثنا اللہ کیس میں ’تاریخ پر تاریخ‘ کیوں؟

یہ کون ہے جسے رانا ثنا اللہ سے ملنے چل کے آنا پڑا

فیصلے میں جسٹس مشتاق احمد نے قرار دیا ہے کہ ضمانت کے مرحلے پر شک کا فائدہ ملزم کو جائے گا۔فیصلہ میں نشاندہی کی گئی کہ وکیل صفائی کے مطابق ملزم کا تعلق اپوزیشن سے ہے اور وہ حکومت کا ناقد رہا ہے اور ضمانت پر رہائی کے لیے ملزم کا حکومت کا ناقد ہونا کوئی ٹھوس جواز نہیں ہے اور اپوزیشن کے متحرک رہنما ہونے کی بنیاد پر انتقامی کارروائی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ہمارے ملک میں سیاسی انتقام کی حقیقت کا سب کو معلوم ہے۔

لاہور ہائی کورٹ نے ضمانت منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ رانا ثنا اللہ کے خلاف مقدمہ مزید تحقیقات کا متقاضی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ LAHORE HIGH COURT

عدالت کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ استغاثہ رانا ثنا اللہ کی جانب سے مبینہ طور پر چلائے جانے والے منشیات کے نیٹ ورک کو پکڑنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔

یاد رہے کہ 24 دسمبر کو لاہور ہائی کورٹ نے مسلم لیگ نواز کے رکن قومی اسمبلی اور سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔

رانا ثنا اللہ کو اپنی رہائی کے عوض دس، دس لاکھ روپے کے دو ضمانتی مچلکے جمع کروانے ہوں گے۔

منگل کے روز لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس چودھری مشتاق احمد نے راناثنا اللہ کی درخواست ضمانت پر فیصلہ سنایا۔ اس سے پہلے گذشتہ روز فاضل جج نے سابق وزیر قانون کی درخواست ضمانت پر دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

فیصلے کے وقت کمرہ عدالت میں رانا ثنا اللہ کی اہلیہ اور داماد شہر یار بھی موجود تھے۔

رانا ثنا اللہ پر 15 کلو منشیات رکھنے کا الزام ہے اور انسداد منشیات کے ادارے اینٹی نارکوٹکس فورس نے انھیں رواں برس کے وسط میں گرفتار کیا تھا۔

سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثنا کے خلاف مقدمہ اس وقت انسدادِ منشیات کی خصوصی عدالت میں زیر سماعت ہے اور اس پر مزید کارروائی آئندہ ماہ جنوری میں ہو گی۔

رانا ثنا اللہ کیساتھ گرفتار ہونے والے ان کے ملازمین پہلے ہی ضمانت پر رہا ہو چکے ہیں لیکن سابق وزیرِ قانون کی ٹرائل کے دوران ضمانت کی درخواست مسترد ہو گئی تھی۔

انسداد منشیات کی عدالت ماضی میں دو مرتبہ رانا ثنا اللہ کی درخواست ضمانت مسترد کر چکی ہے جبکہ ایک مرتبہ مسلم لیگ ن کے رہنما نے بطور احتجاج خود اپنی درخواست ضمانت واپس لے لی تھی۔

سابق وزیر قانون پنجاب کے وکیل فرہاد علی شاہ کے مطابق رانا ثنا اللہ کے خلاف مقدمے میں ابھی تک فرد جرم عائد نہیں ہوئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

رانا ثنا پر الزامات اور عدالتی کارروائی

رانا ثنا اللہ کو یکم جولائی کو پاکستان میں انسداد منشیات کے ادارے نے ایک شاہراہ پر مبینہ طور پر 15 کلو منشیات رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

وزیر مملکت برائے انسدادِ منشیات شہریار آفریدی نے رانا ثنا اللہ کو ’رنگے ہاتھوں‘ گرفتار کرنے اور ایک ویڈیو سمیت دیگر شواہد موجود ہونے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔

ان الزامات کے تحت انسداد منشیات فورس کے عدالت میں چالان پیش کرنے کے باوجود ابھی تک رانا ثنا پر فردِ جرم عائد نہیں کی جا سکی ہے۔

رانا ثنا اللہ خان کو اُن کی گرفتاری کے بعد سے اب تک ایک درجن سے زائد مرتبہ عدالت میں پیش کیا جا چکا ہے۔ پہلی مرتبہ انھیں دو جولائی کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

ہر سماعت پر سابق صوبائی وزیر کے جوڈیشنل ریمانڈ میں توسیع ہوتی رہی ہے لیکن ججوں کی تبدیلی کے باعث ان کے مقدمے پر کوئی باقاعدہ کارروائی اب تک شروع نہیں ہو سکی۔

اسی بارے میں