پاکستان کے مختلف شہروں میں متنازع بینرز: ’بینرز خود ہی لگ جاتے ہیں، لگانے والے نامعلوم ہوتے ہیں‘

سوشل میڈیا تصویر کے کاپی رائٹ SOCIAL MEDIA

پاکستان میں عوامی مقامات پر کہاں بینر لگیں گے، ان بینر پر کیا لکھا جا سکتا ہے اور کیا نہیں اس سب کے بارے میں قوانین موجود ہیں۔ تاہم چند لوگ شاید ایسے ضرور موجود ہیں جنھیں شہر کی مرکزی شاہراہوں اور چوک چوراہوں میں متنازع عبارات پر مبنی بینر لگانے کے لیے کسی اجازت کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں پڑتی۔

ہاں یہ بات ضرور ہے کہ اس صورت میں بھی، سوشل میڈیا پر ایسے بینرز کے خلاف اٹھنے والے شور کے بعد میونسپل کارپوریشن کے کارکن خاموشی سے آتے ہیں اور انہیں اتار کر ساتھ لے جاتے ہیں، مگر اس وقت تک 'پیغام' جہاں پہنچانا مقصود ہوتا ہے پہنچ جاتا ہے۔ ایسے بینر لگانے والے ان قوانین سے بالاتر معلوم ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

شِوسینا کے پیغام والے بینر ’ڈیزائنر کی غلطی کا نتیجہ‘

راحیل شریف کی حمایت میں ایک بار پھر بینرز لگ گئے

ہزارہ ایکسپریس وے پر ن لیگ کے بینر کہاں سے آئے؟

پہلے یہ کام رات کے اندھیرے میں ہوتا تھا مگر سیالکوٹ سے حال ہی میں منظرعام پر آنے والی ویڈیو سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب اس کام کے لیے رات کی تاریکی کی ضرورت نہیں ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر 'بدتمیز' نامی ایک اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سیالکوٹ میں ایک بغیر نمبر پلیٹ کے موٹر سائیکل کا پچھلا حصہ پرویز مشرف کے حق میں لکھے گئے بینرز سے بھرا ہوا ہے۔ دو نوجوان ہیں جنھوں نے اپنے چہرے ماسک سے ڈھانپ رکھے ہیں اور وہ سڑک کے درمیان لگے کھمبوں پر بینر لٹکا رہے ہیں۔

ویڈیو بنانے والا شخص ان نوجوانوں سے پوچھتا ہے کہ یہ پینا فلیکسز کون لگوا رہا ہے؟ جس پر دونوں نوجوان لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ 'ہمیں تو فلیکسز والی دُکان کے مالک نے کہا ہے۔'

دونوں ہی نوجوانوں نے دکان کے پتے کے بارے میں اپنی لاعلمی کا اظہار کیا۔ نوجوانوں نے کہا کہ بغیر نمبر پلیٹ والی موٹر سائیکل بھی انھیں دی گئی ہے۔

ان بینرز پر پرویز مشرف کے ساتھ یکجہتی کے پیغامات کے بعد 'منجانب سول سوسائٹی سیالکوٹ' لکھا ہوا ہے. جبکہ ایک بینر پر ججز کو برطرف کرنے کا مطالبہ بھی درج ہے۔

صرف یہی نہیں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی شاہراہوں پر 'موو آن، نامی ایک تنظیم نے بڑی تعداد میں پرویز مشرف کی حمایت میں بینر اور فلیکس آویزاں کیے ہیں۔ ان بینرز پر 'کل بھی تم سے پیار تھا ہم کو، آج بھی تم سے محبت ہے' ٹائپ کے نعرے درج ہیں۔ راولپنڈی کی سڑکوں پر بھی عدلیہ مخالف اور سابق صدر پرویز مشرف کی حمایت میں بینر لٹکائے گئے ہیں۔

Image caption ماضی میں بھی ایسے بینرز لگتے رہے ہیں

ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے حال ہی میں مولانا فضل الرحمان کے 'آزادی مارچ' سے قبل راولپنڈی اور بعض دیگر شہروں میں فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے خلاف متنازع عبارت والے بینر لگائے گئے تھے۔

اسی طرح سابق وزیر اعظم نواز شریف کی ضمانت کے بعد بھی مختلف بینر نظر آئے جن کے بار ے میں انتظامیہ نے بتایا کہ ان کو لگانے سے قبل اجازت نہیں لی گئی تھی۔ چند ماہ قبل انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد ہونے والے احتجاج کے درمیان دارالحکومت اسلام آباد کی سڑکوں پر راتوں رات بظاہر انڈیا کی حمایت میں بینر لگائے گئے۔ ان بینر پر کارروائی کی گئی اور بعد ازاں یہ پتا چلا کہ یہ پبلشر کی جانب سے تکنیکی غلطی کا نتیجہ تھے۔

اسی طرح جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کی حمایت میں جب بھی بینر لگے وہ مشہور بھی ہوئے اور خبروں کا موضوع بھی بنے۔

'جانے کی باتیں جانے دو' کے عنوان سے جب یہ بینر پہلی بار منظر عام پر آئے تو ان پر اس قدر بات چیت ہوئی کہ اس وقت کے ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل ریٹائرڈ عاصم باجوہ کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر پیغام دینا پڑا کہ 'ان بینر یا ان کے لگانے والوں سے پاکستانی فوج یا آئی ایس پی آر کا کوئی تعلق نہیں ہے۔'

پنجاب کی اسی غیر معروف تنظیم 'موو آن' نے دوسری بار پھر جنرل راحیل شریف کے حق میں مختلف شہروں میں بینر لگائے تھے۔

یہ تشہیری بینر لگانے کے لیے قانونی طریقہ کار کیا ہے،اس پر بات کرنے کے لیے ہم نے میونسپل کارپوریشن سے رابطہ کیا۔

ڈائریکٹر میونسپل اتھارٹی ظفر اقبال نے بتایا کہ کسی بھی کمپنی، بزنس یا پروگرامز کی تشہیر کے لیے ان کے پاس درخواستیں آتی ہیں جن میں تشہیری مواد کی عبارت بھی درج ہوتی ہے اور جس جگہ یہ بینر یا اشتہار آویزاں کرنا ہو وہ جگہ بھی بتائی جاتی ہے۔

'عام طور پر تسلی کرنے کے بعد ہم ایک ہی دن میں اجازت نامہ جاری کر دیتے ہیں۔'

تاہم ان کا کہنا تھا کہ سیاسی نوعیت کے اشتہاروں یا مہم کی اجازت صرف اس وقت دی جاتی ہے 'جب درخواست گزار ڈپٹی کمشنر کے دفتر سے این او سی لے کر آتا ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ سابق صدر پرویز مشرف سے متعلق آویزاں بینرز کے لیے ان کے شعبے کے پاس نہ تو کوئی درخواست آئی ہے اور نہ ہی ایسی کوئی اجازت دی گئی ہے۔

جب اس معاملے پر اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں سیاسی مہم کے اشتہار وغیرہ لگانے پر مکمل پابندی ہے۔ انھوں نے کہا کہ 'سیاسی تشہیر کے لیے لوگ ہمارے پاس آتے ہیں، اپنا فارمیٹ دیتے ہیں، جس کا موازنہ ہم الیکشن کمیشن کی جاری کردہ ہدایات سے کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کیا اس اشتہار میں کوئی بات قانون، عوامی جذبات کے خلاف، اخلاقیات سے متصادم تو نہیں ہے یا یہ بینر مذہبی نوعیت کے تو نہیں؟'

انھوں نے کہا کہ ان گائیڈ لائنز پر پورا اترنے کی صورت میں انھیں بینر لگانے کی اجازت دی جاتی ہے اور اس کے عوض ملنے والا ٹیکس یا فیس میونسپل اتھارٹی میں جمع ہوتا ہے اور اجازت نامہ جاری کر دیا جاتا ہے۔

لیکن حمزہ شفقات نے تصدیق کی کہ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ سیاسی نوعیت کے بینر لگاتے وقت انتظامیہ سے اجازت نہیں لی جاتی۔ 'یہ بینر رات کو لگا دیے جاتے ہیں۔'

انھوں نے بھی ڈائریکٹر ڈی ایم اے ظفر اقبال سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ 'سابق صدر اور آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے حق میں اسلام آباد میں آویزاں بینرز سے متعلق این او سی نہیں لیا گیا ہے۔ بلکہ اسلام آباد میں گذشتہ تین، چار مہینوں میں ہمارے پاس نہ تو سیاسی نوعیت کی کوئی درخواست آئی ہے اور نہ ہی ہم نے اجازت دی ہے۔'

انھوں نے بتایا کہ سیاسی تشہیر سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں میونسپل اتھارٹی ہی ایکشن لیتی ہے۔

پبلشر اور پرنٹر اگر اسلام آباد سے ہو تو انھیں گرفتار کیا جاتا ہے، عام طور پر سی ڈی اے یعنی وفاقی ترقیاتی ادارہ کیس بنا کر مجسٹریٹ کو بھیج دیتا ہے۔

دوسری جانب سی ڈی اے کے ایک اہلکار نے سابق صدر پرویز مشرف کے بینرز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'اس قسم کے بینر خود ہی لگ جاتے ہیں،لگانے والے نامعلوم ہوتے ہیں، کسی کو خبر ہی نہیں ہوتی، دو تین دن گزرنے کے بعد انھیں اتار دیا جاتا ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں