حکمران کتنے آرام سے ’پٹاخے‘ پھوڑنے کی بات کر لیتے ہیں؟

پرویز تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سنہ 2007 میں پاکستان میں عدلیہ بحالی تحریک اپنے زوروں پر تھی اور اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب اور موجودہ سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کے بقول انھیں ایک غیر دستخط شدہ ’حکم نامہ‘ ملا تھا جس میں تجویز دی گئی تھی کہ وکلا بحالی کے لیے اعتزاز احسن کی سربراہی میں نکالے جانے والی ایک ریلی میں ’پٹاخہ‘ پھوڑ دیا جائے۔

حال ہی میں ایک نجی ٹیلیویژن چینل، ہم نیوز، پر اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری پرویز الہی نے بتایا کہ انھوں نے اس تجویز کو ماننے سے صاف انکار کر دیا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے انکار تو کر دیا ’مگر یہ پہلی دفعہ تھا کہ مشرف صاحب بہت ناراض ہوئے۔ میں نے کہا کہ وہ (عدلیہ بحالی تحریک والے) لاش ڈھونڈ رہے ہیں، ہم نے پنجاب میں لاش نہیں دینی۔‘

چوہدری پرویز الہی کے بقول اگر وہ اس وقت یہ تجویز مان لیتے تو ان کے اور ان کی پارٹی کے ساتھ وہی ہوتا جو ایم کیو ایم کے ساتھ ہوا جو ’آج بھی 12 مئی 2007 کو کراچی میں پیش آئے واقعے کو بھگت رہے ہیں‘۔ یاد رہے کہ 12 مئی کو سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کو کراچی میں ایک ریلی میں شریک ہونا تھا مگر اس سے قبل ہونے والے پرتشدد واقعات میں 42 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

حال ہی میں چوہدری پرویز الہی کا ٹی وی پر چلنے والا یہ کلپ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پوسٹ کرتے ہوئے ایک صارف نے سوال اٹھایا کہ ’مکمل طور پر معمول کا ایک اعتراف جس کے کوئی نتائج نہیں ہوں گے۔‘

ان کی اس ٹویٹ کے جواب میں بہت سے صارفین نے بھی سوالات اٹھائے کہ پاکستان جیسے ملک میں ایسے مبینہ دعوؤں کے بعد ملوث افراد کے خلاف کوئی ایکشن کیوں نہیں لیا جاتا؟

یہ بھی پڑھیے

دو نہیں ایک پاکستان!

بریگیڈیئر اعجاز شاہ: ایک پراسرار نام کی واپسی

فوج کی حمایت کو نادانی میں کمزوری نہ سمجھیں: فواد چوہدری

وکلا تحریک کے مرکزی کردار بیرسٹر اعتزاز احسن کہتے ہیں کہ ان کی ریلی میں دھماکہ کرنے یا کوئی پرتشدد کارروائی کرنے کا براہ راست علم انھیں پرویز مشرف کے ایک قریبی ساتھی کے ذریعے پانچ مئی 2007 کو ’ایک دھمکی کے طور پر پہنچایا گیا تھا‘۔

وہ کہتے ہیں ’پاکستان میں وقت کے ساتھ ساتھ مختلف وجوہات کی بنا پر سازشی نظریے بننے کا کلچر اتنا زیادہ ہوا ہے کہ اب کسی کو کسی دوسرے کی بات پر یقین نہیں آتا اور معاشرے میں ایک شک کی سی فضا قائم رہتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

’بات کرنے والا خود مشکوک ہے اور جس کے بارے میں کہی جا رہی وہ بھی معتبر نہیں رہا۔ یہ ایک معاشرتی رویہ بن چکا ہے اور سوسائٹی انتشار کا شکار ہو چکی ہے۔‘

صحافی اور تجزیہ کار عارف نظامی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس کی سب سے بڑی وجہ تو یہ ہے کہ پاکستان میں زیادہ وقت فوجی آمریتیں اور نیم فوجی آمریتیں برسراقتدار رہی ہیں اور ایسے سیٹ اپس میں موجود افراد کسی آئین اور قانون کے پابند نہیں ہوتے‘۔

’ہمارے سیاستدان اقتدار کی خاطر ہر طرح کی چیز اور عمل کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’پرویز الہی صاحب نے کہہ تو دیا ہے کہ میں نے انکار کر دیا تھا اور یہ انکشاف انھوں نے آج کل میں اس لیے کیا ہے کیونکہ ان کو معلوم ہے کہ آج مشرف ان کو کچھ کہہ نہیں سکتے‘۔

انھوں نے کہا کہ انکشافات ہوتے رہتے ہیں اور سیاسی عمل میں مداخلت کی شکایات اور اعترافات سامنے آتے رہتے ہیں مگر کوئی ایکشن نہیں ہوتا۔

’پرویز الہی اس وقت سپیکر ہیں اور ملک کے ایک بڑے پاور بروکر بھی، جبکہ (اس وقت کے وزیرِ داخلہ) اعجاز شاہ کابینہ کا حصہ ہیں تو آپ کیسے توقع کر سکتے ہیں کہ کوئی طاقتور لوگوں کے خلاف ایکشن لے؟‘

انھوں نے کہا کہ آج کے وفاقی وزیرِ داخلہ اعجاز شاہ اس دور میں سیکرٹری داخلہ بھی تھے اور ڈی جی آئی بی بھی۔ ’اعجاز شاہ اور لاہور کے اس وقت کے ڈی جی رینجرز میجر جنرل حسین مہدی کا پی ایم ایل کیو اور پیپلز پارٹی پیٹریاٹ بنوانے میں کلیدی کردار تھا۔‘

خیال رہے کہ رواں برس جولائی میں اعجاز احمد شاہ نے دنیا ٹی وی پر دیے گئے ایک انٹرویو میں اس سوال پر کہ سیاسی جماعت پی ایم ایل ق بنوانے میں ان کا کردار تھا تو انھوں نے برملا کہا کہ ’اس وقت تو میں الیکشن کا انچارج تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

تاہم اس مقصد کے لیے انھوں نے سیاستدانوں پر تشدد یا بلیک میل کرنے کے الزامات کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان مسلم لیگ یا پیپلز پارٹی میں کسی سے پوچھ لیں کے میں نے بدتمیزی کی ہو یا ڈنڈے کے زور پر کسی کو پارٹی میں لایا ہوں۔‘

عارف نظامی کہتے ہیں ’ایسی طاقتوں کے خلاف ایکشن لینا ایسے ہی ہے کہ جیسے خصوصی عدالت کے فیصلے پر فوج نے اپنے انتہائی غصے کا اظہار کیا ہے مگر سب خاموش ہیں۔ اگرچہ یہ سب آئین کی دفعہ چھ کے تحت ہوا مگر فوج کہتی ہے کہ یہ ناقابل قبول ہے اور آپ ہمارے کسی آدمی کی جوابدہی کر ہی نہیں سکتے۔'

حال ہی میں ریٹائر ہونے والے ایک سابق بیوروکریٹ نے، جو متعدد اہم پوسٹوں پر تعینات رہے ہیں، بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جب ایجنسیوں کو کوئی ایسا بڑا کام کرنا ہوتا ہے (جیسا کہ پرویز الہی نے بتایا) تو عموماً صوبے کے سربراہ کو کام کرنے سے قبل اعتماد میں لیا جاتا ہے اور ایسا صرف اس وقت ہوتا ہے جب سیاستدان آپ کا قریبی یا انتہائی قابل اعتماد ہو‘۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان نے زیادہ وقت مارشل لا کے زیر سایہ گزرا ہے اور جب فوج آتی ہے تو انھیں بیوروکریسی میں ایسے بااعتماد افسران اور سیاستدانوں کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کے اقتدار کو ایک قانونی حیثیت فراہم کریں۔

اس سوال کے جواب میں کہ اس نوعیت کے انکشافات کے بعد کوئی انکوائری یا سزا اور جزا کا تصور پاکستان میں کیوں نہیں ہے، انھوں نے کہا کہ ’ہمارا سسٹم باقی دنیا سے مختلف ہے‘۔

وہ کہتے ہیں ’پاکستان میں سزا اور جزا کا تصور بہت محدود ہے۔ قانون کی حکمرانی صرف اس وقت تک ہے جب تک اس کی زد میں مقتدر حلقوں کا مفاد نہ آئے اور یہ وہی ضابطہ ہے جو برٹش ایمپائر میں رائج تھا یعنی قانون کی حکمرانی صرف اس وقت تک تھی جب تک اصل حکمرانوں کا مفاد اس سے متاثر نہ ہو وگرنہ سب جائز ہے اور آج بھی یہی کچھ ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’آپ کیسے پاکستان میں ایک ایسے شخص کی انکوائری یا اسے سزا دے سکتے ہیں جو مقتدر حلقوں کا بااعتماد ساتھی ہو؟‘

اسی بارے میں