پرویز مشرف کیس: خصوصی عدالت کی تشکیل کے خلاف درخواست کی سماعت فل بینچ کرے گا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی طرف سے سنگین غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کی تشکیل کو چیلنج کرنے والی درخواست کی سماعت کے لیے فل بنچ بنا دیا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کا تین رکنی فل بینچ آئندہ ماہ نو جنوری سے سابق فوجی صدر کی درخواست پر سماعت کرے گا۔ تین رکنی فل بینچ کے سربراہی ہائیکورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کریں گے۔

صحافی عباد الحق کے مطابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سردار شمیم احمد خان نے تین رکنی بینچ تشکیل دیا ہے جس کے دیگر ارکان میں جسٹس امیر بھٹی اور جسٹس مسعود جہانگیر شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

مشرف مردہ حالت میں ملیں تو لاش ڈی چوک پر لٹکائی جائے: جسٹس وقار

’آگ سے کھیلنے والوں کو علم نہیں کہ جل بھی سکتے ہیں‘

مشرف کو سزائے موت: ’افواج پاکستان میں شدید غم و غصہ اور اضطراب ہے‘

پیرا 66 سے آگے: خصوصی عدالت کے فیصلے میں کیا ہے؟

جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے عین اس دن فل بنچ بنانے کی سفارش کی تھی جس دن خصوصی عدالت نے سابق آرمی چیف کو آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت موت کی سزا سنائی تھی۔

سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے سابق گورنر پنجاب خواجہ احمد طارق رحیم کے توسط سے درخواست دائر کی جس میں سنگین غداری کے الزام میں اُس وقت سماعت کرنے والی عدالت کی تشکیل کو چیلنج کیا تھا۔

گزشتہ سماعت کے دوران خواجہ احمد طارق اور اُن کے معاون وکیل اظہر صدیق نے اعتراض اٹھایا تھا کہ سابق جنرل کے خلاف خصوصی عدالت کی تشکیل کے لیے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔

اظہر صدیق ایڈووکیٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کا تین رکنی فل بنچ سابق آرمی چیف کی درخواست کے قابل سماعت ہونے کے بارے میں فیصلے کرے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں