آسیہ بی بی کے والد کا اپنی بیٹی کو پیغام: ’جاؤ میری بیٹی تم خدا کے سپرد ہو‘

  • سکندر کرمانی
  • بی بی سی نیوز
آسیہ بی بی

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن

سنہ 2010 میں آسیہ بی بی کو توہین مذہب کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی تھی

آسیہ بی بی کے والد نے آخری بار تقریباً ایک دہائی قبل اپنی بیٹی سے ان کی گرفتاری کے فوراً بعد ملاقات کی تھی۔

اس سال کے شروع میں آسیہ بی بی اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ ملک سے باہر چلی گئی تھیں۔ ان کے والد جو غربت کی زندگی گزار رہے ہیں، جانتے ہیں کہ شاید وہ اپنی بیٹی سے دوبارہ نہیں مل پائیں گے۔

انھوں نے آسیہ بی بی کی رہائی کے بعد ایک بار ایک رشتہ دار کے فون پر اپنی بیٹی سے ویڈیو کال پر بات کی۔

’ہمیں بہت خوشی ہوئی، اس نے ہمیں اپنا چہرہ دکھایا۔ اُس نے ہاتھ جوڑ کر کہا، ابا جی مجھے معاف کر دیں۔ میں نے رونا شروع کر دیا اور کہا جاؤ میری بیٹی تم خدا کے سپرد ہو۔‘

یہ بھی پڑھیے

آسیہ بی بی پر توہین مذہب کا الزام لگایا گیا تھا اور سنہ 2010 میں انھیں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

ان کا کیس پاکستان کے توہین مذہب کے قانون میں اس وقت تنازعے کی علامت بن گیا جب پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو آسیہ بی بی کی حمایت میں بولنے پر قتل کر دیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

آسیہ بی بی کا کیس پاکستان کے توہین مذہب کے قانون میں اس وقت تنازعے کی علامت بن گیا جب پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو ان کی حمایت کرنے پر قتل کر دیا گیا

گذشتہ برس پاکستان کی سپریم کورٹ نے ان کی سزا کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ ان پر توہین مذہب کا جھوٹا الزام لگایا گیا اور بڑے پیمانے پر احتجاج کے باوجود انھیں رہا کر دیا گیا۔

آسیہ بی بی کے والد کا بات کرنے کا انداز شاعرانہ ہے۔ ہم نے ان سے پوچھا کیا آپ انھیں یاد کرتے ہیں؟

’بالکل ہم انھیں یاد کرتے ہیں، ہم روز انھیں یاد کرتے ہیں۔ بجلی کی تار پر بیٹھے ان پرندوں کو دیکھیں، اگر ایک کوا بھی مر جائے تو باقی سب جمع ہو جاتے ہیں اور شور مچاتے ہیں۔۔۔ ہم سب کی یادیں ہیں۔‘

آسیہ بی بی پر توہین مذہب کا الزام لگنے کے بعد اس خاندان کو اپنا گھر چھوڑنا پڑا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے بعد انھیں دھمکیوں کا سامنا تو نہیں کرنا پڑا لیکن اپنے چھوٹے سے نئے گھر کی تعمیر کے لیے ان پر بڑا قرض ہے۔

آسیہ بی بی کے ایک بھائی نے ہمیں بتایا ’ ہم غصہ نہیں کرتے، ہم اپنے غصے سے کیا کر سکتے ہیں۔ ہم غریب لوگ ہیں، ہم مزدور ہیں۔‘

آسیہ بی بی کی رہائی کا دنیا بھر میں خیر مقدم کیا گیا۔ لیکن توہین رسالت کے جن قوانین کے تحت انھیں مجرم قرار دیا گیا تھا وہ اب بھی موجود ہیں اور ان میں اصلاحات کا امکان بہت کم ہے۔

ہفتے کے روز ایک یونیورسٹی لیکچرار جنید حفیظ کو مبینہ طور پر توہین رسالت کے ارتکاب کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی ہے۔

،تصویر کا کیپشن

یونیورسٹی لیکچرار جنید حفیظ کو مبینہ طور پر توہین رسالت کے ارتکاب کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی ہے

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ پیغمبر اسلام کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے قوانین کی ضرورت ہے جبکہ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ اکثر ذاتی جھگڑوں کو حل کرنے یا اقلیتی گروہوں کو نشانہ بنانے کے لیے ان قوانین کا غلط استعمال کیا جاتا ہے۔

آسیہ بی بی کا کیس لڑنے والے وکیل سیف الملوک سے جب ہم نے پوچھا کہ کیا آسیہ بی بی کی رہائی کے بعد کچھ تبدیل ہوا ہے تو ان کا جواب مختصر مگر پر زور تھا ’نہیں۔‘

وہ بہت سے تفتیشی افسران کے طرز عمل پر تنقید کرتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ جج اکثر سخت گیر گروہوں کے رد عمل سے ڈرتے ہیں۔ ’وہ وہی کرتے ہیں جو استغاثہ کا وکیل کہتا ہے۔‘

ہم نے ایک ایسے مسیحی شخص کی اہلیہ سے بھی ملاقات کی، جو گذشتہ 6 برسوں سے جیل میں ہیں اور توہین مذہب کے الزامات کے تحت مقدمہ ختم ہونے کے منتظر ہیں۔

یہ بتاتے ہوئے ان کی آنکھوں میں آنسو تھے کہ وہ وہ کس طرح کرسمس کے موقع پر کم سے کم ان کی ضمانت پر رہائی کی امید کر رہی ہیں۔

انھوں نے کہا ’میرے لیے اکیلے ہر چیز کا مقابلہ کرنا انتہائی مشکل ہے۔‘