وہ کون ہیں جنھیں اب بینظیر انکم سپورٹ نہیں ملے گی؟

  • عماد خالق
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
بی آئی ایس پی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وفاقی حکومت نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت امدادی رقم حاصل کرنے والے آٹھ لاکھ سے زائد افراد کو 'مستحق افراد' کی فہرست سے نکال دیا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام(بی آئی ایس پی) میں شامل افراد کے ڈیٹا پر نظر ثانی کی جارہی ہے تاکہ ایسے افراد کی نشاندہی کی جائے جن کے ذرائع آمدن کے مطابق وہ 'مستحق افراد' کی زمرے میں نہیں آتے۔

وفاقی کابینہ کے فیصلے کے بعد چیئرمین بی آئی ایس پی ثانیہ نشتر کی جانب سے ایک ٹویٹ کی گئی جس میں انھوں نے آٹھ لاکھ سے زائد افراد کے نام اس پروگرام سے نکالنے کا ذکر کیا۔

واضح رہے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سنہ 2008 میں پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں غریب اور پسماندہ طبقے خصوصاً عورتوں کو مالی مدد فراہم کرنے کے لیے شروع کیا گیا تھا جس کو مسلم لیگ ن کے دورِ حکومت میں بھی جاری رکھا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کس معیار کے تحت افراد کو نکالا گیا؟

وزیر اعظم کی معاون خصوصی کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق وہ تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے چیئرمین بی آئی ایس پی ثانیہ نشتر کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنی ٹویٹ میں جاری کردہ فہرست میں واضح طور پر اس معیار کی تفصیل جاری کی ہے جس کے تحت ان افراد کا نام بی آئی ایس پی کے مستحق افراد کی فہرست سے نکالا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان میں اب 820165 ایسے افراد کے ناموں کو نکال دیا گیا ہے جو اس پروگرام کے معیار کے مطابق مستحق افراد میں شامل نہیں ہوتے اور ان کی جگہ نئے افراد کو مکمل جانچ پڑتال کر کے شامل کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ نئے شامل کیے جانے والے افراد کو بھی اسی معیار پر پرکھا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ثانیہ نشتر کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد ہے کہ اس پروگرام میں صرف ان افراد کو شامل کیا جائے جو حقیقی معانوں میں مالی مدد کے مستحق ہے۔

بعض حلقوں کی جانب سے یہ الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ حکومت نے ان افراد کو اس لیے نکالا کیونکہ ان کا تعلق دیگر سیاسی جماعتوں کے مستحق ورکرز سے تھا جبکہ پی ٹی آئی کے ورکرز کو اس سے فائدہ حاصل نہیں ہو رہا۔

اس بارے میں پیپلز پارٹی کی رہنما نفیسہ شاہ کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے اس پروگرام کو جیسے چلایا جا رہا ہے اس پر شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے آتے ہی پیپلز پارٹی کے اس مثالی پروگرام کا نام تبدیل کر کے اسے احساس پروگرام کے تحت کر دیا ہے۔‘

’اگر حکومت آٹھ لاکھ سے زائد افراد کا نام اس پروگرام سے نکالتی ہے تو اس کا مطلب اس کا پانچواں حصہ بنتا ہے۔‘

پیپلز پارٹی کی رہنما نفیسہ شاہ کا کہنا تھا کہ حکومت کا یہ اقدام سیاسی ہے۔ انھوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دور حکمرانی میں مزید غربت بڑھی ہے اور اگر حکومت ایسے میں بہانے بناتی ہے تو ہمیں ان پر یقین نہیں آئے گا کیونکہ حکومت نے اس پروگرام کو غیر شفاف طریقے سے چلایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے اس پروگرام کو غیر سیاسی بنیادوں پر چلایا ہے تاکہ ملک میں غریب خصوصاً خواتین کو مالی مدد دی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کے بارے میں ہم اسمبلیوں میں آواز اٹھائیں گے کہ حکومت کو اس پروگرام سے اتنی دشمنی کیوں ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن ثانیہ نشتر

ثانیہ نشتر نے اس اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے صرف اور صرف طے شدہ معیار کے تحت لوگوں کے ناموں کو نکالا ہے نہ کہ سیاسی بنیادوں پر اس فہرست کا دوبارہ جائزہ لیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جس معیار کے تحت ان افراد کے نام نکالے گئے ہیں ان کو آزادانہ طور پر بھی ثابت کیا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی نادرا کے ڈیٹا بیس کا فارنزک کروانا چاہے تو یہ ثابت ہو جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ’اگر کوئی اس اقدام کو بھی متنازع بنانا چاہتا ہے تو یہ بہت افسوس کی بات ہے۔ اور پھر ہمیں اس ملک میں شفافیت اور ایمانداری کی کہانی چھوڑ دینی چاہیے اور کرپشن کا بازار جیسے گرم ہے اس کو ایسے ہی چلنے دینا چاہیے۔‘

انھوں نے بتایا کہ اگر ان غیر مستحق افراد کو ایک برس تک بی آئی ایس پی کے تحت مالی مدد دی جاتی تو قومی خزانے پر 16 ارب روپے کا بوجھ پڑتا۔ لیکن اب اس اقدام سے نہ صرف ملکی خزانے کی بچت ہوگی بلکہ اگلے برس سے زیادہ مستحق افراد تک یہ رقم پہنچے گی۔

بی آئی ایس پی میں ملک بھر سے شامل افراد کی تعداد کے بارے میں سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اس وقت اس پروگرام میں 52 لاکھ افراد شامل ہیں جن کو حکومت مالی مدد فراہم کر رہی ہے۔

ان افراد کی نشاندہی کیسے کی گئی؟

ثانیہ نشتر کے مطابق ان افراد کی جانچ پڑتال اور ان کی نشاندہی نادرا کے ڈیٹا بیس کی مدد سے کی گئی۔ ان کے مطابق بی آئی ایس پی نے اس کے لیے بڑے متحرک انداز میں نادرہ اور دیگر ایجنسیوں اور ذرائع سے معلومات اکٹھی کر کے ان کی جانچ پڑتال کی، ان کی تجزیاتی رپورٹ مرتب کی ہے اور اس کے بعد یہ رپورٹ پہلے بی آئی ایس پی بورڈ میں پیش کی گئی جہاں اس پر تفصیلی بحث کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس کے بعد یہ رپورٹ وفاقی کابینہ کے سامنے لے کر گئی جہاں کسی ایک کابینہ رکن نے بھی اس سے اختلاف نہیں کیا کہ یہ نہیں ہونا چاہیے۔‘

بیرون ملک دورے کرنے والے افراد کو پروگرام سے نکالے جانے کے تناظر میں کسی کی مالی مدد سے حج یا عمرہ پر جانے والے افراد کے بارے میں سوال پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو کہیں یہ واضح کرنا ہے کہ اس پروگرام کے تحت انتہائی مستحق کون ہے۔ حج اور عمرہ کرنے والے چاہیے کسی کی مالی مدد سے ہی کر رہے ہیں اس پروگرام کے تحت انتہائی مستحق افراد کی فہرست میں شامل نہیں ہو سکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’نکالے جانے والے آٹھ لاکھ سے زائد افراد کی نشاندہی اور جانچ پڑتال کا عمل چند مہینوں سے جاری ہے۔ یہ سب ایک عمل کے تحت ہوا ہے، میرے اکیلے کا فیصلہ نہیں تھا۔‘

اسی طرح انھوں ارجنٹ یا ایگزیکیٹو فِیس دے کر شناختی کارڈ بنوانے والوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایک شخص نے کسی ضرورت کے باعث ارجنٹ فیس دے کر شناختی کارڈ بنوایا ہے تو اس پر بھی بڑے غور و فکر سے جائزہ لیا گیا ہے اور ان افراد کو اس فہرست سے نکالا ہے جنھوں نے یا تو خود یا ان کے اہلخانے میں سے کسی نے متعدد بار ارجنٹ فیس دے کر شناختی کارڈ بنوایا۔

انھوں نے کہا کہ جن کا نام نکالا گیا ہے انھیں اپیل کا حق حاصل ہے لیکن ان کا دوبارہ اندراج اسی مروجہ معیار اور جانچ پڑتال کے تحت کیا جائے گا۔

بی آئی ایس پی کا مستقبل کیا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ثانیہ نشتر کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے احساس پروگرام میں 134 مختلف منصوبے چل رہے ہیں جن میں سے 7 صرف بی آئی ایس پی کے تحت چل رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ایک ادارے کا نام ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو رہی۔ بلکہ اگلے برس جنوری کے آخر میں بی آئی ایس پی کے تحت ایک نیا پروگرام ’کفالت‘ شروع ہو گا جو خواتین کے لیے ڈیجیٹل اور مالی سطح پر شمولیت کا پروگرام ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس نئے پروگرام میں مالی مدد کی رقم میں بھی اضافہ کیا جائے گا لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی اہم ہے کہ اس کے تحت رجسڑڈ ہونے والی نئی خواتین کو بھی اس ڈیٹا انالیکٹس سے گزرنا ہوگا جس کا بہت اہم کردار ہو گا۔

’ اس سے ہمیں یہ علم ہو گا کہ غریب ترین افراد کون ہیں جن کہ پاس کوئی گاڑی نہیں ہے، جو بیرون ملک سفر نہیں کرتے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جاری کردہ فہرست میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جو خود یا ان کے خاوند یا بیوی سرکاری ملازم ہیں لیکن اگلے برس سے شروع ہونے والے پروگرام میں کسی بھی سطح کے سرکاری ملازم یا ان کے اہلخانہ کو اس میں شامل ہونے کی اجازت نہیں ہو گی۔