سعودی وزیر خارجہ کا دورہ: ریاض اب پاکستان کو کیا تسلی دے گا؟

سعودی عرب تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان جمعرات کو پاکستان کا (ایک) روزہ دورہ کر رہے ہیں

سعودی عرب کے نئے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اپنے ایک روزہ دورہ پاکستان کے دوران جمعرات کے روز وزیر اعظم عمران خان اور وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقاتیں کی ہیں۔

یہ نئے تعینات ہونے والے سعودی وزیر خارجہ کا پاکستان کا پہلا دورہ ہے جس کے دوران باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

دفتر خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گہرے اور دیرینہ برادرانہ تعلقات ہیں۔ اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ اس نوعیت کے اعلیٰ سطح کے دورے تعلقات کی ایک اہم خصوصیت ہیں اور باہمی تعاون کو مزید گہرا اور وسیع کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔

تاہم تجزیہ کار ان کے اس دورے کو ملائشیا کے شہر کوالالمپور میں ہونے والی سربراہی کانفرنس کے تناظر میں اہم قرار دے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ ملائیشیا کے شہر کوالالمپور میں 18 دسمبر سے 21 دسمبر تک ہونے والے سربراہی اجلاس میں پاکستان نے شرکت کرنے سے معذرت کر لی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

سعودی عرب کو پاکستان کی ضرورت کیوں؟

پاکستان کوالالمپور سمٹ میں شرکت کیوں نہیں کر رہا؟

’پاکستان کو دھمکی دی نہ عدم شرکت پر مجبور کیا‘

’اب پیسے دیں تو بھی لوگ سعودی عرب نہیں جانا چاہتے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

وزیر اعظم عمران خان نے پہلے اس کانفرنس میں شرکت کرنے کے لیے ملائشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد کی طرف سے بھیجی گئی دعوت پر لبیک کہا لیکن بعد میں سعودی عرب کے ایک روزہ دورے کے بعد نہ صرف خود جانے سے معذوری ظاہر کی بلکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو بھی اس کانفرنس میں شرکت کے لیے نہیں بھیجا۔

پاکستان کی طرف سے اس کانفرنس میں شرکت نہ کرنے سے متعلق ترکی کے صدر طیب اردوغان کا ترک میڈیا میں یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ سعودی عرب نے دھمکی دے کر پاکستان کو اس کانفرنس میں شرکت سے روکا۔

تاہم سعودی سفارت خانے کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ’سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات ایسے نہیں جہاں دھمکیوں کی زبان استعمال ہوتی ہو، اس لیے کہ یہ گہرے تزویراتی تعلقات ہیں جو اعتماد، افہام و تفہیم اور باہمی احترام پر قائم ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان بیشتر علاقائی، عالمی اور بطور خاص امت مسلمہ کے معاملات میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔‘

جبکہ پاکستان کے دفتر خارجہ نے وضاحت جاری کی کہ پاکستان نے سمٹ میں حصہ اس لیے نہیں لیا کیوں کہ ’مسلم امہ میں تقسیم پر مسلمان ممالک کے خدشات کو دور کرنے کے لیے پاکستان کو وقت درکار ہے۔‘

اس سے قبل اس بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سابق سفیر آصف درانی نےسابق سفیر آصف درانی نے کہا تھا کہ یہ تاثر درست ہے کہ پاکستان ملائیشیا میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں سعودی عرب کے دباؤ کے باعث شرکت نہیں کر رہا۔

سعودی وزیرِ خارجہ کے دورے کی اہمیت

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس تمام صورتحال میں سعودی عرب کے نئے وزیر خارجہ کا اس وقت دورہ کیا اہمیت رکھتا ہے اس پر بات کرتے ہوئے امریکی سیاسی اور سکیورٹی تجزیہ کار مائیکل کگلمین نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان، ایران اور سعودی عرب کے درمیان صیحح معنوں میں غیر جانبدار رہ کر کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا تھا ایسے میں یقیناً سعودی عرب کے دباؤ ڈالنے کے ہتھکنڈے وزیر اعظم عمران خان کے لیے بہت شرمندگی کا باعث بنے ہیں۔

ان کے خیال میں اس سب کے باوجود اس کے پاک سعودی تعلقات پر زیادہ اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جب پاکستان کو ان کی ضرورت ہوتی ہے تو ریاض پاکستان کے ان چند انتہائی قریبی اتحادیوں میں سے ایک ہوتا ہے جو مدد کرتا ہے خاص طور پر معاشی تعاون۔‘

تجزیہ کار عادل نجم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’سعودی عرب سے اگر کوئی بھی پاکستان کا دورہ کرے اور کسی بھی نوعیت کا دورہ کرے یہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ خصوصاً کوالالمپور سمٹ کے تناظر میں یہ دورہ زیادہ اہمیت کا حامل اس لیے ہے کیونکہ جس طرح پاکستان نے اس سربراہی اجلاس سے کنارہ کشی اختیار کی اور اس کے بعد ترکی کی جانب سے سعودی عرب کے دھمکانے اور دباؤ کے بیانات سامنے آنے کے بعد اب سعودی عرب پاکستان کو کوئی سپورٹ ظاہر کرے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس مدد کا پیمانہ یہ ہو گا کہ آج دورہ کے اختتام پر دونوں ممالک کے مشترکہ اعلامیے میں کس قسم کی مدد یا یکجہتی کا اعلان ہوتا ہے۔

ان کے مطابق ’یہ دورہ ’ڈیمِج کنٹرول کا دورہ ہے لیکن اس میں سعودی عرب اور پاکستان دونوں ’ڈیمِج کنٹرول‘ کر رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کون کتنا ڈیمِیج کنٹرول کر پاتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ان کا کہنا تھا کہ آج کے مرتب کردہ مشترکہ اعلامیے کو ملائیشیا، ترکی اور ایران سمیت تمام مسلم ممالک میں بڑے غور سے دیکھا جائے گا کہ سعودی عرب نے پاکستان کو کس قسم کی مدد دی ہے۔ ’آج کے دورے کا اعلامیہ دونوں ممالک بڑے غور و فکر اور دھیان سے مرتب کریں گے۔‘

ان کا کہنا تھا جب پاکستان نے صرف سعودی عرب کی اس دھمکی پر کہ وہاں کام کرنے والے پاکستانیوں کو واپس بھیج دیا جائے گا اپنی خارجہ پالیسی میں یوٹرن لیا ہے تو اب پاکستان کے پاس موقع ہے کہ وہ سعودی عرب پر اپنا دباؤ ڈالے کہ ان کی وجہ سے بین الاقوامی سیاست اور ملکی سیاست میں حکومت پر دباؤ آیا ہے۔

’کہیں پاکستان کو مدد لینا بھاری نہ پڑ جائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption سعودی فرمانروا شاہ سلمان اور پاکستانی وزیر اعظم عمران خان

مائیکل کگلمین کے خیال میں جب تعلقات اتنے خراب ہی نہیں ہوئے ہیں تو پھر سعودی عرب کو کچھ زیادہ کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اب بھی پاکستان سعودی عرب اور ایران کے درمیان غیر جانبدار رہنے کی کوشش کرے گا لیکن ریاض کو پاکستان پر جو سبقت حاصل ہے اس میں یہ سب بہت مشکل لگتا ہے۔ خاص طور پر یہ سبقت اس وقت اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے جب وہ پاکستان کو انتہائی دگرگوں معاشی بحران میں مالی مدد فراہم کرتا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اس کے باجود کے پاکستان غیر جانبداری کی کوششیں کرتا ہے لیکن یہ تاثر ہے کہ عرصے سے پاکستان سعودی عرب کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے۔

عادل نجم نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں سعودی عرب پاکستان کو مالی معاونت، قرضوں کی ادائیگی میں آسانی، سستے تیل کی فراہمی سمیت پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کے منصوبوں میں مدد دے سکتا ہے۔

ان کے کہنا تھا کہ ’پاکستان کی اقتصادی صورتحال کو دیکھتے ہوئے کسی بھی قسم کی مدد فائدہ مند ہو گی لیکن پاکستان کو دیکھنا یہ ہے کہ یہ مدد کس قیمت میں پاکستان کو ملتی ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بھلے ایک غریب ملک ہے لیکن اس کو پاکستان کی بہت ضرورت ہے تاکہ وہ مشرق وسطی کی سیاست میں اپنا اثر قائم رکھ سکے۔

تاہم ان کے خیال میں پاکستان کو کسی بھی قسم کی مدد کے عوض جانبدار نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اسے مسلم امہ کے تمام ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو غیر جانبدار انداز میں قائم رکھنے کی ضرورت ہے۔ ’کہیں ایسا نہ ہو کہ مدد لینے کی قیمت پاکستان پر بھاری پڑے۔‘

’اسی موقعے پر سفارتکاری کی ضرورت ہوتی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مائیکل کگلمین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے سعودی اتحادی ہوتے ہوئے ویسے بھی ترکی یا ملائیشیا کو منانا ایک مشکل مرحلہ ہوتا۔ تاہم ان کے خیال میں پاکستان کو اس سب کے باوجود ترکی اور ملائیشیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو خراب نہیں ہونے دینا چائیے۔

’ایک ایسے وقت میں جب پاکستان انڈیا پر اس کی کشمیر پالیسیوں کی وجہ سے عالمی دباؤ بڑھانے کی کوششیں کر رہا ہے تو یہ دو ممالک ایسے ہیں کہ جن کے ساتھ پاکستان دیرینہ اور مضبوط تعلقات کا خواہاں رہا ہے۔‘

مائیکل کگلمین نے تبصرہ کرتہ ہوئے کہا کہ ترکی اور ملائیشیا اسلام آباد کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں لیکن یہ تب ہی ممکن ہو گا کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کی وجہ سے پاکستان کسی مصلحت کا شکار نہ ہو جائے۔

عادل نجم کے خیال میں پاکستان کے دنیا کے دیگر ممالک سے جس نوعیت کے تعلقات ہیں ان کے تحت پاکستان اس وقت کسی ملک کا حریف نہیں بن سکتا خصوصاً سعودی عرب کی جانب اتنا نہیں جھک سکتا کہ مسئلہ خراب ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا ’ایسے ہی موقع ہوتے ہیں جب آپ کو سفارتکاری کی ضرورت ہوتی ہے، آج سفارتکاری کی ضرورت ہے یعنی ایک طرف سعودی عرب پر دباؤ ڈالا جائے کہ ہم نے آپ کے لیے یہ سب کچھ کیا تو دوسری جانب دیگر ممالک سے اپنے طویل مدتی تعلقات قائم کرے۔

اسی بارے میں