نسٹ: طالبہ کے مبینہ ریپ پر تاحال کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جا سکی

نسٹ تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK/NUST

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں واقع نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کی ایک طالبہ کے مبینہ ریپ کی خبریں گذشتہ تین روز سے سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں تاہم اس حوالے سے اب تک کوئی قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی ہے۔

پولیس کی جانب سے تاحال کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ نے کیمپس میں مبینہ جنسی زیادتی کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ایک تازہ بیان جاری کیا ہے جس میں انھوں نے معاملے کی جامع تحقیقات کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

اب تک مبینہ طور پر ریپ کا شکار ہونے والی طالبہ کے خاندان میں سے بھی کسی نے کوئی بیان نہیں دیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شمس کالونی پولیس سٹیشن کے اہلکاروں نے بتایا کہ ’ابھی تک ہمارے پاس اس قسم کا کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا ہے۔‘

چند روز قبل مبینہ ریپ کی خبریں سوشل میڈیا پر اس وقت گردش کرنا شروع ہوئی تھیں جب یونیورسٹی کے چند سابق اور موجودہ طالبعلموں نے مبینہ ریپ کے حوالے سے پیغامات پوسٹ کرنا شروع کیے اور الزام لگایا کہ یونیورسٹی انتظامیہ معاملے کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

فیصل آباد: بچوں سے جنسی زیادتی کے پانچ ملزمان گرفتار

’پاکستان میں ہر روز 9 بچے جنسی زیادتی کا شکار‘

45 لڑکیوں کے ریپ میں ملوث جوڑا گرفتار: پولیس کا دعویٰ

اس کے بعد یونیورسٹی کی جانب سے ان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے ایک بیان جاری کیا گیا جس میں طالبہ کے مبینہ ریپ کی خبر کو مکمل طور پر رد کیا گیا۔

انتظامیہ کے ٹویٹس میں کہا گیا کہ ’ریپ کا جھوٹا الزام کس طرح کا انسان لگا سکتا ہے؟‘ اور ساتھ ہی لکھا گیا کہ یونیورسٹی نے اپنی طرف سے تفتیش مکمل کر لی ہے جس کے نتیجے میں کچھ ثابت نہیں ہو سکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER/@OFFICIAL_NUST
Image caption نسٹ کا چند روز قبل ٹوئٹر پر جاری ہونے والا بیان

اس بیان کے لب و لہجے پر سوال اٹھاتے ہوئے کئی سوشل میڈیا صارفین نے نسٹ انتظامیہ پر سخت تنقید کی تھی، جس کے بعد یونیورسٹی کی جانب سے بدھ کے روز ان کے سوشل میڈیا صفحات پر ایک تازہ وضاحت جاری کی گئی جس میں انتظامیہ نے اس واقعے کا حوالہ دے کر دعویٰ کیا کہ کسی بھی طالبہ کی جانب سے مبینہ ریپ کے حوالے سے ابھی تک کوئی شواہد سامنے نہیں لائے گئے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ نسٹ نے معاملے پر اپنے طور پر تحقیقات کی ہیں تاہم اگر کسی طالب علم کے پاس اس واقعے کے حوالے سے شواہد موجود ہیں تو ان سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ انتظامیہ کو ان سے آگاہ کریں۔ یونیورسٹی کے بیان میں کہا گیا کہ قیاس آرائیوں کے برعکس اس واقعے کو دبانے کی کسی طرح کی کوشش نہیں کی جا رہی ہے۔

چند طلبا نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات کی دوپہر یونیورسٹی کے ریکٹر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نوید زمان نے یونیورسٹی ہاسٹل میں رہائش پذیر طالبات کو اسی حوالے سے بات کرنے کے لیے یونیورسٹی آڈیٹوریم طلب کیا ہے۔

معاملہ کیسے اٹھا؟

چند دن سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اسلام آباد کی ایک نجی یونیورسٹی کی طالبہ کے ساتھ مبینہ ریپ کے بارے میں بحث جاری تھی اور صارفین کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے طلبہ کو اس حوالے سے میڈیا یا سوشل میڈیا پر کسی قسم کی بات کرنے سے منع کر دیا گیا تھا۔

یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے استعمال ہونے والے الفاظ پر بھی خاصی تنقید کی گئی جس سے ایسا تاثر ملا جیسے وہ طالبہ پر الزام لگا رہے ہوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK/NUST
Image caption بدھ کو جاری ہونے والا نسٹ کا تازہ بیان

طلبہ نے یہ بھی پوچھا کہ یونیورسٹی کی جانب سے تفتیشی عمل کب اور کیسے مکمل کیا گیا اور اس کے نتائج کیا نکلے لیکن یونیورسٹی نے اس حوالے سے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

کراچی کی رہائشی اور صحافی منال خان نے پہلی بار اس واقعے کا ذکر اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے کیا جس میں انھوں نے لکھا کہ جامعہ کے کیمپس کی ایک نئی تعمیر ہونے والی عمارت کے پاس ایک طالبہ کو وہاں کام کرنے والے ایک مزدور نے مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

جب بی بی سی نے نسٹ کے طلبہ سے اس حوالے سے بات کی تو انھوں نے بتایا کہ طالبہ نے ریپ کی شکایت یونیورسٹی انتظامیہ سے کی لیکن انتظامیہ کی طرف سے اس پر کوئی واضح ردِعمل سامنے نہیں آیا لڑکی کی بات پر کسی نے کان نہیں دھرے۔

نسٹ کے زیادہ تر طلبہ نے یہ کہہ کر اپنا موقف دینے سے انکار کر دیا کہ ان پر یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے کافی دباؤ ہے۔

بی بی سی نے نسٹ کی انتظامیہ سے کئی بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تاہم یونیورسٹی کے ایک اہلکار کی جانب سے صرف اتنا کہا گیا کہ ٹوئٹر پر موجود یونیورسٹی کی جانب سے کی گئی ٹوئٹس کو ہی انتظامیہ کا حتمی بیان سمجھا جائے۔

قانون کیا کہتا ہے؟

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کوئی یونیورسٹی یا ادارہ اپنے طور پر تحقیقات کر کے اس طرح کا مقدمے نمٹا سکتا ہے؟

پاکستانی قانون میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 154 کے تحت کسی بھی مبینہ ریپ کے معاملے میں پولیس ازخود معاملے کی تحقیقات کرسکتی ہے، یہاں تک کہ کانسٹیبل بھی یہ مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کر سکتا ہے، بیشک والدین کی طرف سے قانونی کارروائی کی درخواست نہ کی گئی ہو۔

بی بی سی بات کرتے ہوئے ایڈووکیٹ ہائی کورٹ امتیاز احمد سومرہ نے بتایا کہ ’یونیورسٹی کا کام تفتیش کرنا نہیں ہے۔ یہ کام پولیس کا ہے۔ تاہم درخواست یا ایف آئی آر کی غیر موجودگی میں پولیس جائے وقوعہ پر نہیں جاتی۔‘

ان کے مطابق پولیس کو زیادہ تر اپنے حقوق اور فرائض کے حوالے سے آگاہی نہیں ہوتی۔ پولیس کے سامنے بتائی گئی یا لکھی ہوئی گواہی مبینہ ریپ کا شکار افراد کا مقدمہ مضبوط بناتی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ قانون کے تحت ریپ کے بعد ایف آئی آر درج کروانا، لیڈی ڈاکٹر سے معائنہ اور متاثرہ شخص کی اجازت کے بعد اُن کا بیان خاتون مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کرنا ضروری ہے۔

تاہم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے حارث خلیق کہتے ہیں کہ ’ریاست اپنے لوگوں کی محافظ ہے، اس لیے قانوناً پولیس ریاست کی مدعیت میں مقدمہ درج کر سکتی ہے کیونکہ یہ ان کا قانونی حق ہے۔‘

اسی بارے میں