لیشمینیاسس: پاکستان میں یہ مرض تیزی سے کیوں پھیل رہا ہے اور اس کے علاج کی ادویات یہاں دستیاب کیوں نہیں؟

داد خان کا گھر
Image caption داد خان کا گھر جس میں وہ اپنے بچوں کے ہمرا ہ موجود ہے

’مجھے یہ دانے (زخم) سخت تکلیف دیتے ہیں مگر اس کے باوجود مزدوری کرنے پر مجبور ہوں۔ اگر نہیں کروں گا تو بچوں کو کھانا کہاں سے کھلاؤں گا۔‘

یہ الفاظ اینٹوں کے بھٹے پر کام کرنے والے مزدور صداقت شاہ کے ہیں۔

صداقت صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کی مضافاتی بستی بڈھ بیر کے علاقے ٹیلہ بند کے رہائشی ہیں۔

صداقت شاہ لیشمینیاسس کے مریض ہیں۔ اس مرض میں جلد پر زخم بنتے ہیں اور یہ بہت زیادہ تکلیف دیتے ہیں اور یہ تکلیف ان کے چہرے سے عیاں تھی۔

صداقت کا کہنا ہے کہ ان کے علاقے میں شاید کوئی فرد ایسا نہیں بچا جس کو یہ مرض نہ لگا ہو۔ ان سے ملنے کے بعد ہم ایک اور مقامی شخص داد خان کے کچے گھر گئے۔

دو کمروں، ایک کچن اور مال مویشی کے باڑے پر مشتمل اس گھر میں میاں بیوی سمیت گھر کے سات افراد مقیم ہیں جن میں سے میاں بیوی اور بڑی بیٹی لیشمینیاسس میں مبتلا ہونے کے بعد ٹھیک ہو چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’میں نہیں جانتا تھا ایڈز کس بَلا کا نام ہے‘

دنیا بھر میں لوگ ویکسین پر کتنا بھروسہ کرتے ہیں؟

ریبیز کی وبا اور ’پاگل‘ کتوں کو کیسے روکا جائے؟

مگر داد خان کی پریشانیاں یہاں ختم نہیں ہوئیں۔

اب ان کے مزید تین بچے اس اذیت ناک مرض میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ داد خان سے اپنے بچوں کی تکلیف دیکھی نہیں جاتی لیکن وہ ان کا مستقل بنیادوں پر علاج کروانے سے قاصر ہیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
عالمی ادارہ صحت لیشمینیاسس کو ’غربت سے منسلک بیماری‘ قرار دیتا ہے جو غریب ترین افراد کو متاثر کرتی ہے

علاج کے لیے انھیں اپنے بچوں کو لے کر پشاور کے گورنمنٹ نصیر اللہ خان بابر میموریل ہسپتال جانا پڑتا ہے جہاں پر غیر سرکاری تنظیم میڈیسینز سانز فرنٹیئرز والے مفت ٹیکے لگاتے ہیں، مگر داد خان کہتے ہیں کہ اس میں بھی ناغہ ہو جاتا ہے۔

’کبھی کرائے کے پیسے نہیں ہوتے اور کبھی ٹھیکیدار چھٹی نہیں دیتا کیونکہ میں اس کا مقروض ہوں۔‘

بڈھ بیر پشاور کی مضافاتی بستی ہے۔ یہاں زیادہ تر مکانات کچے ہیں اور جا بجا پھیلی ہوئی غربت واضح طور پر نظر آتی ہے۔

بڈھ بیر سے گزرتے ہوئے ٹیلہ بند پہنچے تو دیکھا کہ اس علاقے میں زیادہ تر افراد کی گزر بسر زراعت، مال مویشی یا صرف اینٹوں کے بھٹوں پر مزدوری ہے۔

اس علاقے کی ہر گلی اور موڑ میں اینٹوں کے بھٹوں اور ان کی چمنیوں سے نکلتا کالا دھواں نظر آیا۔ مردوں کی اکثریت ان بھٹوں پر مزدوری کرتی ہے۔

نصیر اللہ بابر میموریل ہسپتال پشاور کے ماہر جلد ڈاکٹر محمد نواز کے مطابق انھوں نے بڈھ بیر اور ٹیلہ بند کے علاقوں کے دورے کیے ہیں۔ انھوں نے ان دوروں میں دیکھا کہ ایک ایک گھر میں لیشمینیاسس کے کئی مریض موجود ہیں۔

Image caption نصیر اللہ بابر میموریل ہسپتال پشاور کے ماہر جلد ڈاکٹر محمد نواز

’ہم نے ان سے کہا کہ ہسپتال آجاؤ، یہاں تمہارا مفت علاج ہو گا۔ ایم ایس ایف والے ٹیکے لگائیں گے تو ان لوگوں نے ہم سے کہا کہ گاڑی یا بس کا کرایہ کہاں سے لائیں کہ ہسپتال پہنچ کر ٹیکہ لگوائیں۔‘

لیشمینیاسس کیا ہے اور کیسے پھیلتا ہے؟

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ایک رپورٹ کے مطابق سال 2014 سے لے کر 2018 تک پاکستان بھر میں 186703 مریض رپورٹ ہوئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق پنجاب میں 8902، سندھ میں 23,548، خیبر پختونخوا میں 37,848، اب خیبر پختونخوا میں ضم ہو چکے سابقہ قبائلی علاقہ جات میں 56,208 اور بلوچستان میں سب سے زیادہ 60,197 مریض شامل ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ وہ تعداد ہے جو کہ کسی نہ کسی طرح رپورٹ ہوئی ہے جبکہ اصل تعداد اس سے تین سے چار گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔

ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ چند سال پہلے تک پاکستان میں لیشمینیاسس کا وجود نہ ہونے کے برابر تھا مگر پڑوسی ممالک افغانستان اور ایران میں یہ وبائی اور مقامی مرض ہے۔

Image caption پشاور کی نواحی بستی بڈھ بیر میں ٹیلہ بند کا علاقہ

پاکستان میں اس کا آغاز افغان مہاجرین کی آمد اور ایران کے ساتھ زیادہ رابطوں کی بنا پر ہوا اور بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقے اس مرض سے سب سے پہلے متاثر ہوئے۔

پشاور یونیورسٹی شعبہ زولوجی کی پروفیسر ڈاکٹر ناظمہ حبیب کے مطابق لیشمینیاسس کے پھیلاؤ کا سبب اڑنے والا ایک کیڑا سینڈ فلائی ہے۔

سینڈ فلائی جسامت میں بہت چھوٹی ہوتی ہے اور تین چار فٹ سے اوپر نہیں اڑ سکتی، اس لیے زیادہ تر بچے اس کا نشانہ بنتے ہیں۔

ان کے مطابق یہ عموماً گرمیوں کے موسم میں انسانوں کو نشانہ بناتی ہے۔مگر اس کے اثرات سردیوں کے آغاز میں ظاہر ہونے شروع ہوتے ہیں۔

سینڈ فلائی کی آماجگاہیں عموماً کچے یا بغیر پلستر کی اینٹوں والے مکانات اور ایسے علاقے ہوتے ہیں جہاں پر مویشی یا گندگی ہو۔

ایسے علاقے عموماً غریب لوگوں کے ہوتے ہیں چنانچہ عالمی ادارہ صحت اسے ’غربت سے منسلک بیماری‘ قرار دیتا ہے جو ’غریب ترین افراد کو متاثر کرتی ہے۔‘

Image caption ٹیلہ بند میں مقامی افراد کی اکثریت غریب ہے اور علاج کے لیے پشاور تک کا سفر کرنے کی استطاعت نہیں رکھتی

ڈاکٹر ناظمہ کہتی ہیں کہ اس مرض اور سینڈ فلائی کے پھیلنے کی ایک وجہ ماحولیات اور موسمی تبدیلیاں بھی ہیں۔

’انسانوں نے ماحول کو متاثر کیا ہے۔ آبادیاں اب ان علاقوں تک پہنچ چکی ہیں جو پہلے ویرانے تھے۔ اب وہاں پر پہلے سے سینڈ فلائی کی آماجگاہیں تھیں تو انھوں نے انسانوں کو نقصان پہنچانا شروع کر دیا۔ اسی طرح سے درختوں کا کم ہونا بھی ایک بڑی وجہ ہے۔‘

ڈاکٹر محمد نواز کا کہنا تھا کہ اب یہ مرض پنجاب اور سندھ کے ان دیہی علاقوں تک بھی پہنچ چکا ہے جن کے بلوچستان اور خیبر پختونخوا سے سرحدی رابطے ہیں یا جہاں بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے لوگوں کا آنا جانا ہے۔

ان کے مطابق ان علاقوں میں ابھی مریضوں کی تعداد کم رپورٹ ہو رہی ہے مگر یہی صورتحال رہی تو اس کے مزید پھیلنے کا خدشہ رد نہیں کیا جا سکتا۔

ڈاکٹر رحمان آفریدی کے مطابق اس سال کے دوران ضم شدہ قبائلی اضلاع سمیت کوئی 38,000 مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔

بلوچستان کے محکمہ صحت کے ذرائع کا بھی کہنا ہے کہ اس سال مریضوں کی تعداد بڑھ چکی ہے مگر وہ بی بی سی کو حتمی اعداد و شمار نہیں بتا سکے۔

ڈبلیو ایچ او نے صوبہ خیبر پختونخوا کو لیشمینیاسس کے علاج کے لیے 61 ہزار جبکہ ایم ایس ایف نے 5000 انجیکشن عطیہ کیے تھے۔ ڈبلیو ایچ او نے صوبہ خیبر پختونخوا کو لیشمینیاسس کے علاج کے لیے چار ضروری مشینیں بھی فراہم کی ہیں جبکہ بلوچستان کو بھی 55 ہزار انجیکشن فراہم کیے ہیں۔

ایم ایس ایف کے مطابق انھوں نے گذشتہ سال خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں مجموعی طور پر 5146 مریضوں کو جبکہ اس سال کے پہلے دس ماہ میں 5487 مریضوں کو مفت علاج معالجہ فراہم کیا۔ مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر محمد نواز کا کہنا تھا کہ چند سال پہلے تک ان کے مریض قبائلی علاقہ جات اور غریب علاقوں سے آتے تھے مگر 2016 سے تو ان کے مریض مردان، نوشہرہ، کرک، کوہاٹ، سوات ہر ضلع سے آ رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’پشاور کا ہر علاقہ متاثر ہو چکا ہے۔ حیات آباد پشاور کا سب سے پوش علاقہ ہے وہاں سے بھی مریض آرہے ہیں، یہ نئی صورتحال ہے۔‘

’روزانہ 60 سے 70 مریض آرہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے لیشمینیاسس کا بھونچال آ گیا ہو۔‘

Image caption پشاور کے نصیر اللہ خان بابر میموریل ہسپتال میں ایم ایس ایف کے زیرِ اہتمام وزارتِ صحت خیبر پختونخواہ کے اشتراک سے قائم کیا گیا لیشمینیا کے علاج کا مرکز

لیشمینیاسس کے علاج میں حائل رکاوٹیں

پشاور کے نصیر اللہ خان بابر میموریل ہسپتال کے سامنے جب ہم نے میڈیکل سٹورز سے لیشمینیاسس کے علاج کے لیے مستند تصور کی جانے والی ایک بین الاقوامی کمپنی کی دوائی گولوکاٹائم طلب کی تو ایک میڈیکل سٹور والے نے بتایا کہ یہ ان کے پاس موجود نہیں مگر ساتھ والے میڈیکل سٹور کے بارے میں بتایا کہ وہاں سے مل جائے گی۔

جب مذکورہ میڈیکل سٹور سے وہی برانڈ طلب کیا تو بتایا گیا کہ وہ برانڈ تو موجود نہیں کیونکہ آج کل حکومت کی جانب سے سختی ہے اور مذکورہ برانڈ پاکستان کی وزارتِ صحت سے منظور شدہ نہیں ہے۔

مگر انھوں نے بتایا کہ انڈیا کی مقامی کمپنیوں کے تیار کردہ برانڈ موجود ہیں جن کی قیمت 2000 روپے تک ہے۔

حالانکہ گولوکاٹائم کی قیمت چند سال تک 275 روپے تھی جو کہ اب بھی اگر دستیاب ہو 700 سے 900 روپے میں مل جاتی ہے۔

میڈیکل سٹور والے نے بتایا ’گولوکاٹائم فروخت کرنا غیر قانونی ہے۔ ڈاکٹر لکھتے ہیں جس وجہ سے ہم بھی رکھتے ہیں۔ یہ افغانستان کے راستے سمگل ہو کر پاکستان پہنچتی ہے۔‘

مگر عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق مستند کمپنی کی اس برانڈ کو بھی جعلی طریقے سے پھیلایا گیا تھا اور رپورٹس موجود ہیں کہ اس کا جعلی کارخانہ کراچی میں لگایا گیا تھا۔

چنانچہ سمگل ہو کر پاکستان پہنچنے والی تقریباً تمام ادویات ہی جعلی ہیں جو مریضوں کو فائدہ پہنچانے کے بجائے نقصان دے رہی ہیں۔

ڈاکٹر رحمان آفریدی کا کہنا تھا کہ اس وقت لیشمینیاسس کے حوالے سے صورتحال تشویش ناک ہے۔ سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ اس مرض کے علاج کا مستند برانڈ پاکستان میں رجسڑ نہیں، جس کی وجہ سے علاج میں مسائل رہیں گے۔

اس انجیکشن کی رجسٹریشن اس کی تیار کنندہ کمپنی سے کچھ کاروباری امور پر اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے نہیں ہو سکی ہے تاہم وزارت صحت کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ رجسڑیشن کے لیے کمپنی سے بات چیت جاری ہے اور امید ہے کہ جلد ہی رجسڑیشن والے معاملات حل ہو جائیں گے۔

ڈاکٹر رحمان آفریدی کو امید ہے کہ جلد ہی یہ انجیکشن پاکستان میں رجسٹر ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس فنڈز کی کمی نہیں ہے جبکہ ڈبلیو ایچ او اور ایم ایس ایف نے عطیات بھی کیے ہیں۔ اس کے علاوہ اسے باہر سے منگوانے کے لیے بھی کارروائی جاری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption لیشمینیاسس سے جسم پر گہرے زخم پڑ جاتے ہیں

ڈاکٹر رحمان آفریدی کا کہنا تھا ’اس وقت تو ہمارے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ اس مرض میں مبتلا مریضوں کو علاج معالجہ فراہم کردیں۔ ایم ایس ایف سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ پشاور کی طرز پر بنوں میں بھی اپنا مرکز قائم کریں۔‘

ان کا کہنا تھا ’لیشمینیاسس سے پیدا ہونے والی صورتحال ہمارے لیے نئی ہے۔ بیماری کے اس ذریعے کو ختم کرنے کی پالیسی بنائی جا رہی ہے اور بین الاقوامی اداروں سے بھی اس سلسلے میں مدد طلب کی گئی ہے۔‘

’خواتین اور بچے سب سے زیادہ متاثر‘

پروفیسر ڈاکٹر ناظمہ حبیب کے مطابق اس مرض میں مبتلا بڑی تعداد میں مریض دباؤ اور ڈپریشن کے شکار ہو جاتے ہیں۔

لیشمینیاسس کے حوالے سے مختلف قسم کی باتیں مشہور ہیں، جس بناء پر اکثر اوقات مریض معاشرے سے الگ تھلگ ہو جاتا ہے۔

مریض کے ساتھ ہاتھ نہیں ملایا جاتا، اسے کھانے میں شریک نہیں کیا جاتا اور ڈاکٹر کے پاس جانے کے بجائے مختلف قسم کے دیسی ٹوٹکے استعمال کیے جاتے ہیں جس سے یہ بگڑ کر زیادہ تکلیف دیتا ہے۔

ہسپتالوں میں مرد مریض جن میں نو عمر بچے بھی شامل ہیں، زیادہ رپورٹ ہوتے ہیں جبکہ خواتین کی تعداد کم رپورٹ ہوتی ہے۔ اس کی ایک وجہ تو خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی روایات ہیں جن کی بنا پر عموماً خواتین اس مرض پر خاموشی ہی اختیار کر لیتی ہیں، کیونکہ وہ یہ نہیں چاہتیں کہ ان کو طبی بنیادوں پر توجہ ملے، جس سے ان کے لیے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

ان کے مطابق دوسری اہم وجہ معاشرے کے اندر مردوں اور لڑکوں کو زیادہ توجہ کا مستحق سمجھا جانا ہے۔

’خواتین عموماً اس وقت ہی ہسپتال جاتی ہیں جب وہ یا ان کے خاندان والے بگڑتے ہوئے حالات میں مجبور ہوجاتے ہیں۔‘

ڈاکٹر محمد نواز کا کہنا تھا ’اس کے زخم کے نشانات یعنی داغ باقی رہ جاتے ہیں۔ بچوں کے چہرے پر تو مزید نمایاں ہو جاتے ہیں۔ اس کا حل صرف پلاسٹک سرجری ہی ہوتا ہے، جو بہت مہنگا کام ہے۔‘

Image caption پشاور کے نصیر اللہ خان بابر میموریل ہسپتال میں ایم ایس ایف کے زیرِ انتظام میڈیکل کیمپ میں لیشمینیاسس کے مریضوں کا علاج کیا جا رہا ہے

لیشمینیاسس سے کیسے بچا جاسکتا ہے؟

ڈبلیو ایچ او کے ملیریا اور لیشمینیاسس کے لیے فوکل پرسن ڈاکٹر قطب الدین کاکڑ کے مطابق یہ مرض بڑھتا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے بچاؤ کے لیے اس کا ذریعہ بننے والی مکھی سینڈ فلائی کو کنٹرول کرنا ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ مکھی زیادہ تر ان ہی جگہوں پر پرورش پاتی ہے جہاں پر صفائی اور ماحولیات کی صورتحال اچھی نہیں ہوتی۔

ڈاکٹر کاکڑ کے مطابق اسے کنٹرول کرنے کے لیے دو طریقے ہو سکتے ہیں، ایک طریقہ کیمیکل اور دوسرا ماحولیاتی ہے۔

کیمیکل طریقے میں اس کے خاتمے کے لیے سپرے کیا جانا چاہیے۔ سینڈ فلائی کے کاٹنے کا وہ ہی وقت ہوتا ہے جو کہ مچھر کے کاٹنے کا ہوتا ہے، اس لیے رات کے وقت سپرے شدہ مچھر دانی کا استعمال بہت زیادہ فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر قطب الدین کاکڑ کا کہنا تھا کہ مویشی روزگار کا ذریعہ ہونے کی وجہ سے ضروری ہیں، مگر پہلے تو ان کو گھروں میں نہ رکھیں اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو پھر ان کے رہنے کی جگہ جہاں پر ان کا گھاس اور گوبر موجود ہوتا ہے، اس کو بہتر بنایا جائے تاکہ یہ وہاں پر پرورش نہ پا سکیں۔

اسی بارے میں