آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے معاملے پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف تحریکِ انصاف حکومت کی نظر ثانی کی اپیل دائر

جنرل قمر جاوید باجوہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے دیے گئے فیصلے میں آئینی اور قانونی نقائص ہیں

وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر دیے گئے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست دائر کر دی ہے۔

وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ وہ اپنے فیصلے کو کالعدم قرار دے کیونکہ اس فیصلے میں اہم آئینی اور قانونی نکات کو مدِنظر نہیں رکھا گیا۔

26 صفحات پر مشتمل نظر ثانی اپیل میں وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے اس حوالے سے دیے گئے تفصیلی فیصلے پر 26 قانونی سوالات اٹھائے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

آرمی چیف کی مدت ملازمت: اپوزیشن کہاں کھڑی ہے؟

’وزیراعظم ریٹائرڈ جرنیل کو بھی آرمی چیف لگا سکتا ہے‘

’چھ ماہ میں قانون سازی نہ ہوئی تو فوج کا نیا سربراہ آئے گا‘

وزیر اعظم کی مشیر برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے میڈیا کو اس حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے پہلے فیصلے میں بہت زیادہ قانونی اور آئینی نقائص ہیں اور اسی سبب وفاقی حکومت نے ان نقائص کی درستگی کے لیے سپریم کورٹ میں فیصلے کے خلاف نظر ثانی اپیل دائر کی جا رہی ہے۔

ان کے مطابق حکومت کی قانونی ٹیم نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ یہ نظر ثانی کی اپیل ’انتہائی عوامی مفاد‘ میں دائر کی جائے۔

انھوں نے کہا کہ پارلیمان میں جا کر اس حوالے سے قانون سازی کا آپشن اب بھی حکومت کے پاس موجود ہے اور اس کو بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

نظر ثانی اپیل میں وفاقی حکومت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے قانون سازی کی ضرورت نہیں ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ یہ سروس کا معاملہ ہے اور کسی بھی افسر کی مدتِ ملازمت کو ادارہ جاتی ہدایات، آفس میمورنڈمز، کنوینشنز، کسٹمز اور دیگر ایگزیکٹیو ہدایات کے ذریعے ریگولیٹ کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ ایسا کرتے ہوئے قانونی دفعات کی خلاف ورزی نہ ہو۔

’موجودہ معاملے میں، آرمی چیف کی تقرری سات دہائیوں سے رائج محکمانہ پریکٹیس کے عین مطابق کی گئی تھی۔‘

حکومت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ آئین یا قانون سازی میں موجود خلا کی صورت میں، یعنی وہ معاملات جہاں آئین یا قانون خاموش ہے، کنوینشنز کو اختیار کرنا ضروری ہوتا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اگر کسی آئینی اور قانونی خلا کو آئینی کنوینشنز، کسٹمز یا ادارہ جاتی روایات کے ذریعے پُر کیا جائے تو عدالت کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ ایسے کنوینشنز یا روایات کو ایکٹ آف پارلیمنٹ میں بدلنے کے لیے مجبور کرے۔

’اگر گذشتہ 70 برسوں میں پارلیمان نے اس معاملے پر جانتے بوجھتے اور کھلی آنکھوں سے قانون سازی نہیں کی اور اس معاملے کو روایات کے ذریعے چلنے دیا تو یہ اس بات کا واضح اظہار ہے کہ پارلیمان نے اس معاملے پر قانون سازی نہ کرنے کی اپنی مرضی کا اطلاق کیا۔‘

وفاقی حکومت نے کہا ہے کہ کیس کے حقائق کو مدِ نظر رکھتے ہوئے معزز عدالت قانون سازی کے دائرہ کار میں مداخلت نہیں کر سکتی یا اپنے آپ کو متوازی قانون ساز اتھارٹی سے لیس نہیں کر سکتی۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے پاکستان کی برّی فوج کے سربراہ کی مدت ملازمت کے حوالے سے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں چھ ماہ کی مشروط توسیع دینے کا اعلان کیا تھا۔

اس معاملے کی سماعت چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس مظہر میاں خیل پر مشتمل تین رکنی بینچ کر رہا تھا۔

اس مختصر فیصلے میں عدالت کا کہنا تھا کہ جنرل باجوہ کی موجودہ تقرری چھ ماہ کے لیے ہو گی اور اس توسیع کا اطلاق جمعرات 28 نومبر 2019 سے ہو گا۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے 29 نومبر کو ریٹائر ہونا تھا تاہم وزیراعظم عمران خان نے ان کی ریٹائرمنٹ سے تین ماہ قبل ہی انھیں تین برس کے لیے توسیع دینے کا اعلان کیا تھا جس کے خلاف عدالت سے رجوع کیا گیا۔

فیصلے میں کہا گیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 243، آرمی ایکٹ 1952 اور آرمی ریگولیشنز رولز 1998 میں کہیں بھی مدت ملازمت میں توسیع یا دوبارہ تعیناتی کا ذکر نہیں تاہم عدالت نے اس معاملے میں تحمل کا مظاہرہ کیا اور معاملات کو قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔

عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ وفاقی حکومت نے یقین دلایا ہے کہ اس معاملے میں قانون سازی کی جائے گی اور عدالت چھ ماہ بعد اس سلسلے میں ہونے والی قانون سازی کا جائزہ لے گی۔

اسی بارے میں