جج ارشد ملک کیس: مسلم لیگ نواز کے لاہور سیکریٹیریٹ پر ایف آئی اے کا چھاپہ، کمپیوٹر ہارڈ ڈرائیو قبضے میں لے گئی

ویڈیو سکینڈل تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے جمعرات کو پاکستان مسلم لیگ نواز کے ماڈل ٹاؤن میں واقع سیکریٹیریٹ پر چھاپہ مار کر اہم ریکارڈ قبضے میں لے لیا ہے۔

لاہور میں پارٹی سیکریٹیریٹ کے باہر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل عطا اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا کہ یہ چھاپہ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کے کیس میں حاصل کیے گئے سرچ وارنٹس کی بنیاد پر مارا گیا ہے۔

بی بی سی اردو کی نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق انھوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز نے ارشد ملک کیس کے حوالے سے ایک نیوز کانفرنس کی تھی جس میں جج ارشد ملک کی ویڈیو دکھائی گئی تھی اور ایف آئی اے اسی حوالے سے کچھ ریکارڈ اپنے قبضے میں لینا چاہتی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

ارشد ملک ویڈیو کیس: مزید تین افراد گرفتار

’تو کیا عدالت نے میرا مؤقف تسلیم کرلیا ہے‘

جج ارشد ملک کیس: 'فیصلے کے لیے ویب سائٹ پر جائیں'

عطا اللہ تارڑ کے مطابق سیکریٹیریٹ میں موجود ایک کمپیوٹر کی ہارڈ ڈرائیو قبضے میں لی گئی ہے جبکہ ان سمیت پارٹی کے تین رہنماؤں کو کل اسی کیس میں ایف آئی اے کے سامنے طلبی کے نوٹس پہلے ہی مل چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہارڈ ڈسک میں پارٹی کا ڈیٹا، بلدیاتی اور عام انتخابات کا ڈیٹا اور مریم نواز کی تقریروں کا ڈیٹا موجود تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ آج کے ریڈ کے حوالے سے کوئی اطلاع نہیں تھی ہم نے ایف آئی اے کی ٹیم کو وارنٹ دیکھ کر اندر جانے کی اجازت دی۔

’نیازی حکومت اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے اور یہ فسطائیت اور انتقامی کارروائیوں کی انتہا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ REHAN DASHTI

انھوں نے کہا کہ قوم کو بتایا جائے کہ جج ارشد ملک سے اب تک کتنی تفتیش مکمل ہوئی ہے جبکہ دوسری جانب ہمیں نوٹس مل رہے ہیں اور پارٹی رہنما ناصر بٹ متعدد مرتبہ لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن گئے اور وہاں جج ارشد ملک کی اصل ویڈیو پیش کی مگر عملے کی جانب سے اسے موصول کرنے سے انکار کر دیا گیا۔

عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ ناصر بٹ متعدد مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ اس ویڈیو کا فرانزک آڈٹ کروایا جائے مگر ایسا نہیں کیا جا رہا۔

انھوں نے کہا کہ لاہور رنگ روڈ کے پراجیکٹ کے خلاف تحقیقات شروع کی گئی ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ رنگ روڈ کا منصوبہ تمام قواعد و ضوابط کو پورے کرنے کے بعد اس کا ٹھیکہ ایف ڈبلیو او کو دیا گیا۔

یاد رہے اس سے قبل مسلم لیگ ن کے رہنما پرویز رشید، عظمی بخاری اور عطا اللہ تارڑ کو کل بروز جمعہ ایف آئی اے کے سائبر کرائم ڈیپارٹمٹ نے طلب کر رکھا ہے۔ ڈپٹی سیکرٹری جنرل عطا اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ کل گیارہ بجے پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کروائیں گے۔ تاہم اس کیس میں ناصر ملک پہلے ہی سیکیورٹی کے ساتھ پیش ہونے کی حامی بھر چکے تھے۔

ایف آئی اے اس کاروائی کے حوالے سے مسلم لیگ ن کے رہنماوں کے مختلف بیاتات سامنے ہیں۔ مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگ زیب کا کہنا ہے کہ'ہم اس چھاپے کی شدید مزمت کرتے ہیں۔ ایسی غیر قانونی کاروائیوں کے خلاف کل بھرپور اندز یں احتجاجی ریلی نکالیں گئے اور ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیا کے خلاف ڈکیتی کا مقدمہ درج کروائیں گے '

تاہم اس ریڈ کے سے متعلق ناصر بٹ نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر پیغام دیا کہ ایف آئی نے یہ چھاپہ عمران خان کو خوش کرنے کے مارا ہے جبکہ جج ارشد ملک کیس کے تمام ثبوت میرے پاس لندن میں موجود ہیں۔ پاکستان میں کسی کے پاس اس کیس کے حوالے سے کوئی ثبوت نہیں ہے۔

اسی بارے میں