پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں سزائے موت: خصوصی عدالت کا فیصلہ لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج

مشرف تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے سنگین غداری کیس میں دیے گئے خصوصی عدالت کے فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے استدعا کی ہے کہ ان کو دی گئی سزائے موت کو کالعدم قرار دیا جائے۔

86 صفحات پر مشتمل درخواست پرویز مشرف کی جانب سے ان کے وکیل ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی ہے۔

جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کا فُل بینچ 9 جنوری 2020 کو اس درخواست پر سماعت کرے گا۔

17 دسمبر کو خصوصی عدالت نے سابق آمر پرویز مشرف کو سنگین غداری کا مرتکب ٹھہراتے ہوئے انھیں آئینِ پاکستان کے آرٹیکل چھ کے تحت سزائے موت کا حکم دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

’ملزم پرویز مشرف بنام سرکار حاضر ہوں‘

پیرا 66 سے آگے: خصوصی عدالت کے فیصلے میں کیا ہے؟

مشرف مردہ حالت میں ملیں تو لاش ڈی چوک پر لٹکائی جائے: جسٹس وقار

درخواست میں کہا گیا ہے کہ خصوصی عدالت کا فیصلہ ’بے ضابطگیوں اور متضاد بیانات کا ایک مرکب ہے۔‘

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بادی النظر میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خصوصی عدالت کی سربراہی کرنے والے جج نے فیصلے میں چند ایسی اصطلاحیں استعمال کی ہیں جو ان کی ذاتی وابستگی، تعصب، بدگمانی، عداوت، بغض، مِس کنڈکٹ، صوابدیدی اختیارات کا غیر قانونی اور نامناسب استعمال، غیر مدبرانہ اور حلف سے روگردانی کی غماز ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ LAHORE HIGH COURT
Image caption جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کا فُل بینچ نو جنوری کو اس درخواست پر سماعت کرے گا

بادی النظر میں لگتا ہے کہ جج ایسے ذہن سے کام کر رہے تھے جو معاملہ فہمی یا قومی نوعیت کے اہم معاملات کی جانچ پرکھ کے لیے موزوں نہیں ہے۔درخواست میں خصوصی عدالت کی تشکیل اور اس کی کارروائی کو چیلنج کیا گیا ہے۔ متفرق درخواست میں چھ قانونی نکات اٹھائے گئے ہیں اور یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس خصوصی عدالت کے جج نہیں ہو سکتے کیونکہ خصوصی عدالت میں صرف ہائی کورٹ کا جج شامل کیا جا سکتا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ خصوصی عدالت وفاقی حکومت کی منظوری کے بغیر تشکیل دی گئی ہے۔ جبکہ مقدمے میں پرویز مشرف کو دفاع کا موقع نہیں دیا گیا اور ان کا بیان تک نہیں ریکارڈ کیا گیا۔

درخواست گزار کے مطابق ملزم پرویز مشرف کے عدالت کے روبرو تعزیرات پاکستان کی شق 342 کے تحت بیان کے بغیر ٹرائل مکمل نہیں ہو سکتا تھا جبکہ پرویز مشرف کو خصوصی عدالت میں شہادت پیش کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔

پرویز مشرف کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئین میں سنہ 2010 میں کی گئی 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئین کی معطلی کو غداری قرار دیا گیا۔ لیکن اس ترمیم کے تحت بھی مشرف سے کوئی جرم سرزد ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ خصوصی عدالت نے فیصلہ انتہائی جلد بازی میں سنایا جبکہ ان کے مؤکل کے خلاف سنگین غداری کی کارروائی کی ابتدا سابق وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے جاری کردہ ایک نوٹیفیکیشن کی بنیاد پر کی گئی اور یہ حقیقت ہے کہ نواز شریف مشرف کے خلاف ذاتی عناد رکھتے تھے اور کارروائی شروع کرنے سے قبل وفاقی کابینہ کی منظوری بھی نہیں لی گئی تھی۔

’پیرا 66 آئین اور مذہب کے منافی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

درخواست میں خصوصی عدالت کے فیصلے اور بالخصوص اس میں درج پیرا 66 کا ذکر کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ آئین پاکستان اور اسلام کے منافی ہے۔

یاد رہے کہ پیرا 66 میں پرویز مشرف کی لاش کو اسلام آباد کے ڈی چوک میں پھانسی دینے اور لاش تین روز تک لٹکائے رکھنے کے حوالے سے حکم دیا گیا ہے۔

جج وقار سیٹھ نے تمام حدود پھلانگیں

درخواست میں خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس وقار احمد سیٹھ کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے گئے اور کہا گیا کہ خصوصی عدالت کے سربراہ نے تمام مذہبی، اخلاقی، تہذیبی اور آئینی حدود پھلانگ کر فیصلہ لکھا ہے۔

’فیصلے کا پیرا 66 سخت گیر زہنیت کا عکاس ہے۔‘ درخواست میں مزید کہا گیا کہ خصوصی عدالت کی تشکیل درست طریقے سے نہیں کی گئی کیونکہ کسی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو خصوصی عدالت کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا ہے۔

خیال رہے کہ جسٹس وقار احمد سیٹھ اس وقت پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بھی ہیں۔

درخواست کے مطابق خصوصی عدالت میں ہائی کورٹ کے ججز کے نام کے ساتھ جسٹس نہیں لکھا جا سکتا کیونکہ خصوصی عدالت میں ان کی حیثیت محض ایک جج کی سی تھی۔

درخواست کے مطابق چار متفرق درخواستوں پر فیصلہ سنانے کے بجائے جسٹس وقار نے چائے کے وقفے کا اعلان کیا اور پھر 45 منٹ کے بعد سزائے موت کا فیصلہ سنا دیا۔ درخواست گزار کے مطابق یہ فیصلہ بھی زبانی سنایا گیا جبکہ قانون کے مطابق ججز کے دستخط کے ساتھ تحریری فیصلہ دیا جانا ضروری ہوتا ہے۔

’مشرف پھانسی کے مخالف جج کی تعریف‘

اس درخواست میں پرویز مشرف کی پھانسی کی مخالفت کرنے والے جج جسٹس نذر اکبر کی تعریف کی گئی ہے۔ درخواست میں جسٹس نذر اکبر کے اقلیتی فیصلے پر انحصار کیا گیا ہے۔

درخواست گزار نے کہا ہے کہ پیرا 66 میں ایسی زبان استعمال کی گئی ہے جو ججز کے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی ہے۔ ’سپریم کورٹ سنہ 1994 کے اپنے ایک فیصلے میں قرار دے چکا ہے کہ ایسے تمام فیصلے جن میں عوامی مقامات پر پھانسی دینے کی سزا سنائی گئی ہے وہ غیر آئینی اور آرٹیکل 14 کی خلاف ورزی ہے کیونکہ لاش کی بے حرمتی انسانی عزت اور وقار کی نفی ہے اور قرآن میں لاش کی بے حرمتی کرنے سے واضح انداز میں منع کیا گیا ہے۔

درخواست کے مطابق پیرا 66 میں جو حکم دیا گیا ہے وہ اسلام کی رُو سے ’حرام‘ ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ پیرا 66 پڑھتے ہی یہ تصدیق ہو جاتی ہے کہ اسے لکھنے والے کا دماغی توازن درست نہیں اور وہ بنیاد پرست ذہنیت کا حامل ہے۔

خصوصی عدالت کا فیصلہ کیا تھا؟

17 دسمبر کو پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کی سربراہی میں بننے والے خصوصی عدالت کے تین رکنی بینچ نے پرویز مشرف کو آئین شکنی اور سنگین غداری کا مجرم قرار دیتے ہوئے انھیں سزائے موت دینے کا فیصلہ سنایا تھا۔

بینچ میں موجود دو ججز یعنی جسٹس سیٹھ وقار اور جسٹس شاہد کریم نے پرویز مشرف کو آئین شکنی اور سنگین غداری کا مجرم قرار دیا تھا جبکہ جسٹس نذر اکبر نے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ استغاثہ اپنا کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ خصوصی عدالت کے 196 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں جسٹس نذر اکبر کا 42 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ بھی شامل ہے۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ استغاثہ کے شواہد کے مطابق ملزم مثالی سزا کا مستحق ہے اور اسے ہر الزام میں الگ الگ سزائے موت سنائی جاتی ہے۔

خصوصی عدالت نے سربراہ جسٹس سیٹھ وقار نے اپنے فیصلے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حکم دیا ہے کہ وہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو گرفتار کرنے اور سزا پر عملدرآمد کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں اور اگر وہ (پرویز مشرف) مردہ حالت میں ملیں تو ان کی لاش اسلام آباد کے ڈی چوک لائی جائے جہاں اسے تین دن تک لٹکایا جائے۔

جسٹس وقار نے اپنے اس حکم کی توجیہہ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ چونکہ ماضی میں کسی بھی فرد کو پاکستان میں اس جرم میں سزا نہیں دی گئی اور عدالت نے اپنا فیصلہ مجرم کی عدم موجودگی میں سنایا ہے، اس لیے اگر مجرم سزا پانے سے قبل وفات پا جاتا ہے تو یہ سوال اٹھے گا کہ آیا فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔

مشرف کو سزا دینے کے حق میں فیصلہ دینے والے دوسرے جج جسٹس شاہد کریم نے جسٹس سیٹھ وقار کے فیصلے میں پرویز مشرف کی موت کی صورت میں ان کی لاش ڈی چوک پر لٹکانے کے حکم سے اختلاف کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کے خیال میں مجرم کو سزائے موت دینے کا حکم کافی ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین شکنی اور سنگین غداری ایک آئینی جرم ہے اور یہ وہ واحد جرم ہے جس کی سزا آئینِ پاکستان میں دی گئی ہے۔

آئین کی شق نمبر چھ کے مطابق وہ شخص جس نے 23 مارچ 1956 کے بعد آئین توڑا ہو یا اس کے خلاف سازش کی ہو ، اس کے عمل کو سنگین غداری قرار دیا جائے گا اور اس کو عمر قید یا سزائے موت سنائی جائے گی۔

اسی بارے میں