بینظیر بھٹو کی برسی: ’قتل گاہ‘ پر ملک کے کونے کونے سے جیالوں کی حاضری

تصویر کے کاپی رائٹ FAROOQ NAEEM/Getty Images

’جو بات محترمہ کی بارہ برس پہلے ادھوری رہ گئی تھی۔ آج ہم اسی کو ان کے بیٹے بلاول کے منہ سے سننے آئے ہیں۔‘ ان جذبات کا اظہار راولپنڈی کے رہائشی اور پاکستان پیپلزپارٹی کے حمایتی محمد بشارت نے کیا۔

ان کا پارٹی قیادت سے مطالبہ ہے کہ ’ہمیں بتائیں کہ ہمیں کیا کرنا ہے۔ کس طرح سے پنجاب میں پی پی پی کو مستحکم کرنا ہے۔ کیونکہ اب بہت ہوگیا۔‘

محمد بشارت پچھلے تیس سال سے پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن اور حمایتی ہیں۔ جمعے کے روز باقی جیالوں کی طرح وہ بھی محترمہ کی ’قتل گاہ‘ پر حاضری دینے آئے ہیں۔ لیکن اکثر برسی کے موقع پر دیکھے جانے والے غم اور آسودگی کے برعکس، آج لیاقت باغ میں جشن کا ماحول تھا۔

مزید پڑھیے:

ماضی کی چند بینظیر تصویریں

’میری ماں کے قتل کے اصل قصوروار آزاد گھوم رہے ہیں‘

بینظیر بھٹو کے قتل سے متعلق اہم سوالات

تقریباً پاکستان کے ہر حصّے سے یہاں لوگ موجود تھے۔ جہاں کچھ لوگ پیپلز پارٹی کی جماعت کی ریلیوں میں بجنے والے روایتی گانوں پر رقص کرتے اور گاتے نظر آئے، وہیں زیادہ تر تعداد ان لوگوں کی بھی تھی جو 27 دسمبر کے دن ہونے والے واقعے کو ایک دوسرے کو سناتے اور دہراتے نظر آئے۔

ان میں اے آر وائے سے منسلک صحافی بابر ملک بھی شامل تھے۔ ستائیس دسمبر کے روز کوریج کے لیے لیاقت باغ میں ان کی ڈیوٹی لگی ہوئی تھی۔ ’اُس دن محترمہ کا خطاب دیکھنے اور سننے والا تھا۔ تا حدِ نگاہ لوگوں کا ایک ہجوم یہاں موجود تھا۔‘

اپنے خطاب کے بعد جب بینظیر طے شدہ راستے کے ذریعے لیاقت باغ سے نکلنے لگیں تو کارکن ہاتھ ہلاتے ہوئے ان کی گاڑی کے نزدیک آگئے۔ ’اس کے بعد کے مناظر ناقابلِ بیان ہیں۔ لیکن میں آج بھی سوچتا ہوں کہ یہاں سے دو سو یا تین سو میٹر کی دوری پر ڈسٹرکٹ ہسپتال موجود ہے۔ جس میں اگر محترمہ کو لے جایا جاتا تو آج صورتحال بہت مختلف ہوتی۔‘

دھماکے کی جگہ راولپنڈی کی رہائشی سلیمہ بی بی بھی موجود تھیں۔ آج بلاول کا خطاب سننے کے لیے وہ وہیل چئیر کے ذریعے پنڈال تک پہنچیں۔ ’میں دونوں ٹانگوں سے معذور ہوچکی ہوں۔ ُاس روز بی بی کے بتائے ہوئے مِشن کو سن کر پرجوش تھی بعد میں ان کی لاش دیکھ کر مایوس ہوگئی۔ آج پُر امید ہوں کے بلاول کچھ کرے گا۔ مہنگائی کے عذاب سے اور اس وزیرِ اعظم سے ہماری جان چھڑائے۔ بس یہی چاہیے۔‘

خواتین کے لیے مختص کی گئی نشستوں پر ایک عمر رسیدہ خاتون نے کیمرہ دیکھتے ہی وکٹری کا نشان بناتے ہوئے کہا کہ ’بینظیر کا بیٹا واپس آگیا ہے۔ اب جماعت جمے گی۔ میں مرنے سے پہلے بلاول کو وزیرِ اعظم بنتے دیکھنا چاہتی ہوں۔‘

’کون کرتا ہے ایسے،ہاں؟‘ اُن کے ساتھ کھڑی حیدرآباد سے آئی کارکن حلیمہ نے کہا۔ ’جہاں ماں کو قتل کیا ہو وہیں لوگوں سے خطاب کرنا۔ لیکن خطاب کیا کرتا ہے بلاول یہ سُننا ہے۔‘ جب اُن سے پوچھا گیا کہ بلاول سے کیا سننا چاہتی ہیں؟ تو اُن کا جواب تھا ’یہی کہ ان کی ماں کے قاتلوں کو کب پکڑیں گے۔ اُن میں سے ایک تو بہت بیمار ہے۔ جلدی حساب کریں۔ یہ تو اِن کے دورِ حکومت میں ہونا چاہیے تھا۔ لیکن اب بھی صرف صبر کرنے کو کہا جارہا ہے۔‘

لیاقت باغ میں بینظیر بھٹو کے قتل کے بارہ برس بعد اسی مقام پر اُن کی برسی کے روز جلسہ کرنے کا ارادہ ان کے بیٹے اور پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا تھا۔ لاہور ہائی کورٹ سے اجازت ملنے کے بعد اس جلسے میں کئی کارکنان جہاں جماعت کی چالیس سال پہلے کی یادوں کو تازہ کرنے پہنچے وہیں کارکنان کے آنے کا ایک مقصد پارٹی کی پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں پالیسی بھی تھا۔

’میں پی پی کے ساتھ تیس سال سے منسلک ہوں۔ لیکن پکا جیالہ ہونے کے باوجود میں پی پی کی ہنجاب میں کارکردگی سے مایوس ہوں،‘ یہ کہنا تھا مرزا مظہر اقبال کا جن کا تعلق گجرات سے ہے۔ ’بلاول کا غصّہ، جوش اور ولولہ سر آنکھوں پر۔ لیکن اس وقت جماعت کو پنجاب میں سلجھی ہوئی حکمتِ عملی چاہیے۔ جس کے لیے جماعت تیار نظر نہیں آتی۔‘

شام ہوتے ہی لیاقت باغ میں تِل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ جہاں کارکنان کی تعداد بڑھتی جارہی تھی، وہیں بلاول کا خطاب شروع ہوتے ہی بھرے پُرے پنڈال میں پہلے یکدم شور برپا ہوا اور پھر خاموشی ہوگئی۔

بلاول نے اپنے خطاب میں 2020 کو انتخابات کا سال کہا۔ جس کا ایک مقصد خطاب سننے والوں کو پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت کو چیلنج دینے کے مترادف لگا۔ لیکن پچھلے دس سالوں میں سندھ تک محدود سمجھی جانے والی جماعت کیا پنجاب میں اپنی ساکھ کھڑی کر پائے گی؟

بدین سے آئے ہوئے کارکن ریاض جمالی نے کہا کہ ’اب وقت آگیا ہے کہ پی پی یہ ثابت کرے کہ وہ صرف سندھ کی نہیں بلکہ پنجاب کی بھی جماعت ہے۔ ہمیں تو پتا ہے، لیکن یہاں کسی کو ایسا نہیں لگتا۔ اس وقت اگر غریبوں کی کوئی جماعت ہے تو وہ پی پی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ بلاول صاحب اپنی تقریر میں غریبوں کے لیے آواز اٹھائیں۔اور مہنگائی کم کروائیں۔‘

اُن کے ساتھ کھڑے ٹیکسیلا کے رہایشی رفاقت علی نے کہا کہ ’میں کارکن بھی ہوں اور ساتھ میں نجومی بھی۔ پاکستان تحریکِ انصاف کے ہوتے ہوئے پی پی پی کے لیے یہاں آنا اور اپنی ساکھ قائم کرنا مشکل سمجھا جاتا ہے۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ بلاول یہاں سے انتخاب لڑیں۔ وزیرِ اعظم کے عہدے کے لیے۔ کیونکہ عمران کے بعد اب بلاول واحد آپشن ہے۔‘

بلاول کا خطاب ُسنتے ہوئے دنیا نیوز سے منسلک صحافی شاکر سولنگی نے کہا کہ ’میں بارہ سال پہلے ایکسپریس کا نمائندہ تھا جب محترمہ کا قتل ہوا۔ اور اس کے بعد میں آج یہاں واپس آیا ہوں۔ اُس دن محترمہ کا نِڈر خطاب دھماکے کی نظر ہوگیا۔ لیکن اس کے بعد سے پی پی پی اب تک خود کو پنجاب میں مستحکم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ بلاول کو پنجاب میں اپنا مقدمہ مظبوط کرنے کے لیے ابھی بہت محنت کرنی پڑے گی۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں