نیب ترمیمی آرڈیننس: وقت کی ضرورت یا ’نیا این آر او‘؟

عمران خان، وزیرِ اعظم، پاکستان، نیب، کرپشن، تحریک انصاف، پی ٹی آئی تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@MoIB_Official
Image caption ’ہمارا یہ ماننا ہے کہ نیب کو صرف پبلک آفس ہولڈرز کی سکروٹنی کرنی چاہیے، بزنس کمیونٹی کی سکروٹنی کے لیے اور فورمز موجود ہیں، جیسا کہ ایف بی آر اور عدالتیں‘

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے جمعے کو کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران کاروباری شخصیات کو یقین دلایا ہے کہ ایک نئے آرڈیننس کے ذریعے ’بزنس کمیونٹی کو نیب سے محفوظ کر دیا گیا ہے۔‘

وہ جمعہ کے روز منظور ہونے والے نیشنل اکاؤنٹیبیلیٹی ترمیمی آرڈینینس 2019 کی بات کر رہے تھے۔

وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ ’مجھے پتا ہے کہ میرے کئی دوست بھی بیٹھے ہیں جنھیں یہ سن کر کافی خوشی ہو گی کیونکہ ان کے اوپر بھی نیب کے کیسز چل رہے تھے۔ ہمارا یہ ماننا ہے کہ نیب کو صرف پبلک آفس ہولڈرز کی سکروٹنی کرنی چاہیے، بزنس کمیونٹی کی سکروٹنی کے لیے اور فورمز موجود ہیں، جیسا کہ ایف بی آر اور عدالتیں۔‘

بی بی سی نے اس حوالے سے چند ماہرین سے گفتگو کی ہے۔ ایک رائے یہ ہے کہ اس نئے قانون کی واقعتاً ضرورت تھی اور اس کام کو بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا، وہیں یہ رائے بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اس آرڈیننس کے ذریعے نیب کو بالکل ہی ’بے اختیار‘ کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کیا نیب کبھی آزاد تھا؟

’نیب اب ٹیکس کے معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا‘

احسن اقبال نارووال سپورٹس کمپلیکس انکوائری میں گرفتار

یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل ملک کی سرکردہ کاروباری شخصیات نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کے دوران نیب کی جانب سے بزنس کمیونٹی کے حوالے سے لیے جانے والے اقدامات پر تشویش کا اظہار بھی کیا تھا۔

آرڈیننس میں کیا ہے؟

اس حوالے سے وفاقی کابینہ کو بھیجی جانے والی سمری میں کہا گیا ہے کہ نیب نے ایک متوازی عملداری اختیار کر لی ہے اور یہ ٹیکس سے متعلقہ معاملات کی انکوائری کر رہا ہے جو کہ ٹیکس کے نگران اداروں کے دائرہ کار میں مداخلت جیسا ہے۔ لہٰذا اس ضمن میں نیب کے عملی دائرہ کار کی وضاحت ان ترامیم کے ذریعے کرنی ضروری ہے۔

اس حوالے سے نیب کے سابق پراسیکیوٹر عمران شفیق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس نئے آرڈیننس کے تحت اب ٹیکس اور سرکاری بقایا جات وغیرہ کے ریفرینسز اب نیب کے دائرہ کار میں نہیں ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTV News
Image caption نیب کے موجودہ چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے اکتوبر میں کہا تھا کہ نیب اب ٹیکس کے معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا

ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے جو بھی ریفرینس نیب میں جاری ہیں، وہ عام عدالتوں میں چلے جائیں گے اور یہ خاصی بڑی تعداد میں ہیں اور زیادہ تر کاروباری افراد کے ہوں گے۔

انھوں نے بتایا کہ نیب اب بھی پبلک آفس ہولڈر یا سرکاری عہدیدار کی حد تک تو ایکشن لے سکتا ہے مگر نجی اداروں یا اشخاص کے خلاف ایکشن نہیں لے سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ماضی میں بہت سے کیسز نجی کمپنیوں یا افراد کے ہوتے تھے، اس حوالے سے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی پی) کو اعتراض تھا، اب یہ نیب کے دائرہ کار سے نکل گئے ہیں، اب ایس ای سی پی کا صرف وہی کیس نیب کے پاس جائے گا، جس میں سرکاری عہدیدار کا نام شامل ہو گا۔‘

اس کے علاوہ انھوں نے بتایا کہ نئے ترمیمی آرڈیننس کے بعد کسی سرکاری عہدیدار پر بھی انتظامی کوتاہیوں پر اختیارات کے غلط استعمال کا کیس نہیں بنایا جا سکتا، جبکہ اختیارات کے غلط استعمال کو ثابت کرنے کے لیے پہلے یہ ثابت کرنا ہو گا کہ اس غلط استعمال کے ذریعے ناجائز اثاثے بنائے گئے ہیں اور وہ ناجائز اثاثے ان کی جائز آمدن سے زیادہ ہیں چنانچہ اختیارات کے ناجائز استعمال کے کیس میں بھی آمدن سے زائد اثاثوں کی تحقیقات کرنی پڑیں گی۔

انھوں نے بتایا کہ اس سب کے بارے میں ثبوت نیب پیش کرے گا۔ ’اس سے پہلے اختیارات کے غلط استعمال کے حوالے سے خود فائدہ اٹھایا نہ بھی ہوتا تب بھی کیس بنتا تھا، پھر بھلے ہی مذکورہ افسر کے غلط اقدام سے فائدہ کسی اور نے اٹھایا ہو۔‘

یہ تاثر کہ نیب کے لیے اس ترمیم کے بعد اب وائٹ کالر جرائم ثابت کرنا مشکل ہو جائیں گے، اس پر پاکستان کے سابق اٹارنی جنرل اور نیب کے سابق پراسیکیوٹر جنرل عرفان قادر کہتے ہیں کہ نیب کے لیے کوئی کیس ثابت کرنا واقعتاً مشکل ہونا چاہیے کیونکہ ان کے نزدیک اس سے نیب اپنا ’ہوم ورک‘ کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب نے اپنی کارروائیوں سے سرکاری افسروں کے اقدامات اور فیصلہ سازی کو ختم کر کے رکھ دیا تھا اور حکومت کو یہ کام بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ بیوروکریٹس کو فیصلے لینے چاہییں، اور انھیں اپنے دائرہ کار میں موجود چیزوں کے بارے میں فیصلہ لینے کی آزادی ہونی چاہیے، ورنہ ’سرکاری افسر جائز فیصلہ کرے تو بھی اس پر کرپشن کا کیس بنا دیا جاتا ہے۔‘

کرپشن کیا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان کے سابق وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال نارووال سپورٹس کمپلیکس منصوبے میں مبینہ بے ظابطگیوں پر نیب کی حراست میں ہیں

عمران شفیق کہتے ہیں کہ ’پہلے نیب کو صرف اختیارات کرپشن کے خلاف تحقیقات کے تھے، ٹیکس معاملات بنیادی طور کرپشن میں نہیں آتے جب تک کہ اس میں اختیارات کے غلط استعال کا معاملہ نہ ہو۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ٹیکس بچانا الگ چیز ہے اور کرپشن الگ چیز ہے، ٹیکس بچانا فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) کا معاملہ ہے، نیب نے اپنے دائرہ کار سے یہی تجاوز کیا ہے جس کی وجہ سے انھیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا ہے۔‘

ان کی رائے میں احسن اقبال پر نیب میں جاری کیس پر اس نئی ترمیم کا اطلاق ہو گا کیونکہ ان پر بنیادی طور پر کیس انتظامی کوتاہی کا ہے اور کیس ابھی تفتیشی مرحلے میں ہے، چنانچہ اب نیب کو اس حوالے سے مکمل تحقیق کرنی پڑیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ چونکہ اختیارات کے غلط استعمال کی وضاحت ہی بدل دی گئی ہے تو اس کا اطلاق سب پر ہو گا۔ ’ایسا نہیں کہ کچھ افراد پر اس کا اطلاق ہو اور کچھ پر نہ ہو۔‘

اس حوالے سے عرفان قادر کی بھی کم و بیش یہی رائے ہے۔

بیوروکریٹس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اختیارات کا غلط استعمال جو کہ ویسے ہی غلط ہے، لیکن اختیارات استعمال کرنے میں ناکامی سے یہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ انھوں نے کرپشن کی ہے اگر اس میں کوئی کک بیک یا کرپشن کے شواہد نہیں ہیں۔

’روزانہ سرکاری ملازمین بہت سے فیصلے لیتے ہیں جس میں ان کی دو تین رائے ہو سکتی ہے، اور نیب جو اس معاملے پر کوئی مہارت ہی نہیں رکھتا وہ کہہ دے کہ یہ کرپشن ہے تو یہ درست نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’احسن اقبال، سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی یا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے کیسز فیصلہ سازی سے متعلق ہیں، یہ اگر قانون میں تبدیلی نہ بھی آتی تب بھی غلط تھا کیونکہ ماضی میں ایسے زیادہ تر کیسز بری ہونے پر ہی منتج ہوئے ہیں۔‘

کیا یہ ترمیم ضروری تھی؟

اس حوالے سے عمران شفیق کہتے ہیں کہ اس ترمیم کا فائدہ تو کاروباری افراد کو یہ ہو گا کہ کوئی پرائیوٹ آدمی اب نیب کے دائرہ کار میں نہیں رہے گا اور نجی ٹرانزیکشنز وغیرہ میں نیب تب تک دخل نہیں دے سکتا جب تک کہ وہ عوام سے بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی نہ ہو، مثلاً ڈبل شاہ یا مضاربہ سکینڈل جیسے کیس، اور اس سے ایس ای سی پی اور ایف بی آر اب مضبوط ہوں گے۔

مگر ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’نیب نے تو اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا اور وہ مختلف اداروں کے دائرہ کار میں تجاوز کرتے ہوئے اثرانداز ہوئے، اسے قانون سازوں کی جانب سے چیک کرنے کی ضرورت تھی مگر جو اب ہوا ہے اس نے نیب کا بنیادی ڈھانچہ، دائرہ کار ختم کر دیا ہے اور نیب کے لیے پیمانے بہت بڑھا دیے گئے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’وہ بھی انتہا تھی اور یہ بھی انتہا ہے، یہ ایک این آر او کی صورت ہے اور جو تمام لوگ اختیارات کے غلط استعمال کے کیسز بھگت رہے تھے، انھیں اس کی دوبارہ وضاحت کر کے اسے ختم کر دیا گیا ہے۔‘

مگر عرفان قادر اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب وہ نیب کے سنہ 2003 سے سنہ 2006 کے دوران پراسیکیوٹر جنرل تھے، اس وقت کسی کے خلاف بھی کیس نہیں بنایا جاتا تھا جب تک کہ اختیارات کے غلط استعمال کے ساتھ ساتھ کرپشن نہیں ہوتی تھی۔

وہ کہتے ہیں جب وہ پراسیکیوٹر جنرل تھے، اس وقت چیئرمین ریلوے اور چیئرمین سی ڈی اے نے انھیں خطوط لکھ کر اُن اقدامات کے حوالے سے رہنمائی چاہی تھی جو کہ ان کے اپنے اپنے دائرہ اختیار میں تھے۔

’اس پر میں نے ان کی حوصلہ افزائی کی کہ انھیں وہ اقدامات ضرور کرنے چاہییں جو ان کے دائرہ کار میں ہیں اور اس حوالے سے ان سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’جہاں کرپشن ہوتی ہے وہاں وہ ہوتی ہوئی نظر آ جاتی ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ اسے ثابت کرنا مشکل ہے تو ایسے لوگوں کو نیب میں رہنا نہیں چاہیے۔‘

معاشی امور پر لکھنے والے صحافی اور تجزیہ کار شہباز رانا کہتے ہیں کہ مجموعی طور پر یہ آرڈیننس خوش آئیند ہے مگر کسی حد تک اس میں مسائل بھی ہیں۔

’یہ ایک مثبت اقدام اس طرح سے ہے کہ نیب ہر معاملے میں کاروباری افراد کا غیر ضروری طور پر پیچھا کرتا تھا، اب یہ پاورز لے لی گئیں ہیں جو کہ ایک اچھی بات ہے اور دوسری جانب پبلک آفس ہولڈرز کو بھی کسی حد تک ریلیف دیا گیا ہے۔ اب بیوروکریٹس کو پروسیجرل مسائل پر نہیں پکڑا جائے گا جس سے بیوروکریسی کا اعتماد بڑھے گا۔ مگر پراپرٹی کے ریٹس کے حوالے سے جو نیا ضابطہ متعارف کروایا گیا ہے اس میں مسائل ہیں اور اب کرپشن کی مد میں پکڑی جانے والی پراپرٹی کی قیمت مارکیٹ ریٹ کے بجائے ایف بی آر یا ڈی سی ریٹ پر طے کی جائے گی جو مارکیٹ ریٹ کے آدھے سے بھی کم ہے۔‘

اسی بارے میں