نیب ترمیمی آرڈیننس: احتساب قوانین میں تبدیلی کا مطالبہ کرنے والی اپوزیشن حکومتی ترامیم پر نالاں کیوں؟

نیب، بلاول بھٹو زرداری، آصف زرداری، اسلام آباد، تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے واضح متعصبانہ کوششیں کرنے کے بجائے حکومت کو حزبِ اختلاف کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے اور انسدادِ بدعنوانی کے قوانین کو مضبوط کرنے کے لیے قانون سازی کرنی چاہیے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ 'حالیہ نیب آرڈیننس اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکومت (سابق) صدر زرداری سے اس بات پر متفق ہے کہ نیب اور معیشت اکھٹے نہیں چل سکتے۔'

یاد رہے کہ جمعے کو حکومت نے ایک صدارتی حکمنامے کے ذریعے نیب ترمیمی آرڈیننس کی منظوری دی تھی جس کے تحت اب نیب کاروباری افراد کے معاملات میں مداخلت کا مجاز نہیں رہا جبکہ 'اختیارات کے غلط استعمال' کی بھی وضاحت کی گئی ہے۔

بلاول کا مزید کہنا تھا کہ ’اپنا (اصل) کام کیجیے، قانون سازی کیجیے۔ انسدادِ بدعنوانی کے قوانین کو مضبوط کریں اور اس ڈھونگ کو ختم کریں۔‘

اگرچہ ماضی میں پاکستان میں حزبِ اختلاف کی بڑی جماعتیں نیب قوانین کو ’کالا قانون‘ قرار دیتی رہی ہیں اور نیب پر ’اختیارات سے تجاوز‘ کا الزام بھی عائد کیا جاتا رہا ہے مگر اب جب ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے نیب کی پاورز کو محدود کر دیا گیا ہے تو اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اس معاملے پر اب بھی حکومت پر تنقید جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیے

نیب ترمیمی آرڈیننس: وقت کی ضرورت یا ’نیا این آر او‘؟

نیا نیب، پرانا ہیرا

احسن اقبال نارووال سپورٹس کمپلیکس انکوائری میں گرفتار

بی بی سی نے اس رپورٹ میں یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ آخر اپوزیشن کے اس ترمیمی آرڈیننس پر کیا اعتراضات ہیں اور ان ترامیم کا اطلاق کن کن کیسز پر ہو سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ’اپنا (اصل) کام کیجیے، قانون سازی کیجیے۔ انسدادِ بدعنوانی کے قوانین کو مضبوط کریں اور اس ڈھونگ کو ختم کریں‘ (فائل فوٹو)

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے نیب ترمیمی آرڈیننس کو بدنیتی پر مبنی قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ قانون ٹھیک نہیں اور اس میں ترمیم ہونی چاہیے تو آپ اپوزیشن کے ساتھ بیٹھیں اور اس قانون میں پارلیمان کے ذریعے ترمیم کر لیں۔

ان کے مطابق حکومت نے جو ترامیم کی ہیں وہ ان کے نزدیک ’اپنی آسانی اور اپنے بندوں‘ کو محفوظ کرنے کے لیے کی ہیں۔

’اگر حکومت نے یہ ترامیم نیک نیتی سے کی ہیں تو پھر آرڈیننس کیوں لایا گیا۔ جن شقوں میں ترمیم کی گئی ہے اسی طرح اور بھی چیزیں کر لینی چاہییں تھیں، اس کے پیچھے ان کی نیت درست نہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ جب اپوزیشن اس قانون کے ذریعے مشکلات کا شکار تھی، اس وقت حکومت نے یہ نہیں کہا کہ اسے ٹھیک ہونا چاہیے۔ ’جب ہم یہ کہہ رہے تھے کہ نیب معیشت اور گورننس کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے تو اس وقت کوئی سننے کے لیے تیار نہیں تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ PTV News
Image caption نیب کے موجودہ چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے اکتوبر میں کہا تھا کہ نیب اب ٹیکس کے معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا

سعید غنی کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کا مؤقف یہ ہے کہ ترامیم کا طریقہ کار غلط ہے، حکومت سمجھتی ہے کہ قانون غلط ہے تو یہی مؤقف دوسری جماعتوں کا بھی ہے، تو اس پر بیٹھ کر اتفاقِ رائے کیوں نہیں پیدا کرنا چاہتی؟

ایک سوال کے جواب میں کہ آیا پیپلز پارٹی اس آرڈیننس کو عدالت میں چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ اس پر پارٹی فیصلہ کرے گی۔

ترمیمی آرڈیننس سے کس کو فائدہ پہنچے گا؟

واضح رہے کہ ترمیمی آرڈیننس کے بعد ٹیکس، لیویز اور ان سے منسلک دیگر معاملات جو نیب کے تفتیشی اور تحقیقاتی مرحلے میں ہیں، وہ تحقیقات نیب کے پاس سے متعلقہ اداروں کو چلی جائیں گی۔

اس کے علاوہ ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے شق 9 کی ذیلی شق (اے) (6) میں ترمیم کے ذریعے یہ بھی قرار دیا گیا ہے کہ کسی بھی عوامی عہدہ رکھنے والے شخص کے خلاف تب تک کوئی ایکشن نہیں لیا جا سکے گا جب تک کہ یہ ثابت نہ ہوجائے کہ انھوں نے اختیارات کے غلط استعمال سے مالی فائدہ اٹھایا ہے۔

یہ ترمیم شق 9 کی ذیلی شق (اے) (6) میں ایک وضاحتی پیراگراف کے اضافے سے کی گئی ہے جو کہ اختیارات کے غلط استعمال سے متعلق ہے۔

اس حوالے سے کئی قانونی ماہرین نے یہ نشاندہی کی ہے کہ اس کا فائدہ ان تمام کیسز میں ہو سکتا ہے جن میں نیب کارروائی کا آغاز اختیارات کے غلط استعمال کے الزامات کے تحت کیا گیا ہے۔

نیب کے سابقہ پراسیکیوٹرز نے بی بی سی کو بتایا کہ ان ترامیم کا فائدہ ممکنہ طور پر نارووال سپورٹس کمپلیکس کیس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال، آشیانہ ہاؤسنگ سکیم میں بیوروکریٹ فواد حسن فواد اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف، مسلم لیگ (ن) کے رہنما جاوید لطیف اور سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی کو ایل این جی سکینڈل کے کیسز میں پہنچ سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان کے سابق وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال نارووال سپورٹس کمپلیکس منصوبے میں مبینہ بے ظابطگیوں پر نیب کی حراست میں ہیں

کیا اس کا اطلاق ماضی میں بنائے گئے کیسز پر بھی ہوگا؟

گذشتہ روز نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ کی رہنما مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ حکومت نے اس حوالے سے پارلیمان کو بائی پاس کیا ہے جبکہ اس قانون کا اطلاق ان کیسز پر نہیں کیا جا رہا جو اختیارات کے غلط استعمال کے زمرے میں ماضی میں کیے گئے ہیں۔

مگر نیب کے سابق پراسیکیوٹر عمران شفیق مریم اورنگزیب کی اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ ان ترامیم کا ماضی کے کیسز پر اطلاق نہیں ہو گا۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’آرڈیننس میں یہ ترامیم ایک وضاحت کے اضافے کے بعد کی گئی ہیں اور ایسا ممکن نہیں کہ کسی وضاحت کا اطلاق کچھ کیسز پر ہو اور کچھ پر نہ ہو۔‘

اپوزیشن رہنماؤں کو پہنچنے والے ممکنہ فائدے کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ اگر حکومت اس بات پر اصرار کرتی ہے کہ شق 9 کی ذیلی شق (اے) (6) میں کی جانے والی ترمیم کا اطلاق اپوزیشن سے متعلق کیسز پر نہیں ہوتا تو عدالتوں میں چیلنج ہونے پر یہ آرڈیننس بدنیتی پر مبنی قرار پائے گا۔

'مالم جبہ، پشاور بی آر ٹی اور دیگر کیسز بھی اس آرڈیننس سے پہلے کے ہیں، اگر ان کی تحقیقات اس حوالے سے رکیں گی، تو اپوزیشن پر جو کیسز ہیں ان پر بھی ان کا اطلاق ہو گا کیونکہ آئین کے مطابق ہر قانون کا ہر کسی پر یکساں اطلاق ہونا لازم ہے۔‘

حکومتی مؤقف

دوسری جانب وزیر اعظم کی معاونِ خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے اپوزیشن کی جانب سے کی جانے والی تنقید کا جواب یہ کہتے ہوئے دیا ہے کہ ’آئے روز نیب کے خلاف محاذ کھولنے والے لیگی ترجمانوں کا نیب ترمیمی آرڈیننس پر سیاست کرنا افسوسناک ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا دامن صاف ہے۔ انھیں احتساب کا کوئی خوف نہیں، سب سے بڑی عدالت نے انھیں صادق اور امین قرار دیا۔‘

ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کا کرپشن کے خلاف جہاد بھرپور قوت سے جاری ہے۔ نیب کا کام میگا کرپشن سکینڈلز کے خلاف کارروائی عمل میں لانا ہے اور یہ کام نیب اور بھی قوت سے انجام دے گا۔

انھوں نے کہا کہ ایسے سرکاری ملازمین کے خلاف ضرور کارروائی ہوگی جنھوں نے طریقہ کار کی غلطیوں یا محکمانہ نقائص سے ذاتی مفادات حاصل کیے ہوں گے، اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اثاثہ جات میں بے پناہ اضافہ رکھنے والے پبلک آفس ہولڈرز کارروائی سے ہرگز مبرا نہیں۔

اسی بارے میں