نیب ترمیمی آرڈینینس: نیب کا کام کرپشن کی روک تھام ہے اداروں کی اصلاح کرنا نہیں

شہزاد اکبر تصویر کے کاپی رائٹ www.pid.gov.pk
Image caption وفاقی وزیر مراد سعید کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہزاد اکبر نے کہا کہ طریقہ کار کا نقص نیب کا دائرہ کار نہیں بنتا اس میں محکمانہ کارروائی بنتی ہے۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ ماضی میں نیب قوانین میں ترامیم کی کوششوں کا مقصد خود کو بچانا تھا اور اگر اس مرتبہ کی گئی ترامیم سے کوئی ذاتی فائدہ اٹھانا چاہتا ہے تو اس حکومت میں یہ نہیں ہوسکتا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند روز سے یہ تاثر دیا گیا کہ احتساب کا عمل ختم ہوگیا، نیب ترمیمی آرڈیننس کے حوالے سے کچھ وضاحتیں بہت ضروری ہیں، ماضی میں آرڈیننس میں ترمیم خواہشات پر مبنی تھی جو ابہام کی وجہ تھی۔

انھوں نے مزید کہا کہ 'آرڈیننس کو پارلیمان کے پاس ہی جانا ہے اگر اپوزیشن کی کسی جماعت کے پاس کوئی بہتر تجویز ہے تو سامنے لائے۔'

انھوں نے کہا کہ 'گزشتہ 10 برس میں نیب قوانین میں تبدیلی کی خواہشات بدنیتی پر مبنی تھیں شاید اسی وجہ سے ان پر عمل نہ ہو سکا۔'

شہزاد اکبر نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے قوانین میں ترمیم کی وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ مذکوہ ترمیم کی بدولت ٹیکس کے تمام معاملات نیب نہیں بلکہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) دیکھے گا۔

یہ بھی پڑھیے

نیب ترمیمی آرڈیننس: وقت کی ضرورت یا ’نیا این آر او‘؟

حزبِ اختلاف نیب آرڈیننس میں ترامیم پر نالاں کیوں؟

کیا نیب کبھی آزاد تھا؟

نیب: پلی بارگین کیوں اور کیسے؟

نیا نیب، پرانا ہیرا

یاد رہے کہ جمعے کو حکومت نے ایک صدارتی حکمنامے کے ذریعے نیب ترمیمی آرڈیننس کی منظوری دی تھی جس کے تحت اب نیب کاروباری افراد کے معاملات میں مداخلت کا مجاز نہیں رہا جبکہ 'اختیارات کے غلط استعمال' کی بھی وضاحت کی گئی ہے۔

شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ مذکورہ ترمیم کے تحت جس شخص کا پبلک آفس ہولڈر سے کوئی واسطہ نہیں ہوگا تو اس پر نیب قوانین کا اطلاق نہیں ہوگا جبکہ لیوی، امپورٹ اور ٹیکس کیس کو نیب نہیں دیکھے گا۔

انھوں نے مزید بتایا کہ 'وفاقی اور صوبائی کوئی بھی ٹیکس کیس ہو نیب کے دائرہ کار سے باہر ہوگا لیکن ٹیکس کیس ایف بی آر دیکھے گا اور مجرم پر فوجداری کی سزا ہوگی۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'ضمانت اور ریمانڈ کا قانون تبدیل نہیں ہوا۔'

وفاقی وزیر مراد سعید کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہزاد اکبر نے کہا کہ طریقہ کار کا نقص نیب کا دائرہ کار نہیں بنتا اس میں محکمانہ کارروائی بنتی ہے جبکہ نیب کا کام کرپشن کی روک تھام ہے اداروں کی اصلاح کرنا نہیں۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ 'نیب ترامیم کا ڈرافٹ دیکھے بنا تنقید کی جا رہی ہے، معاشرے میں کرپشن کا ناسور پھیلا ہے اور اس کی درستی کے لیے سخت قوانین کی ہی ضرورت ہے۔'

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت نے نیب ملازمین کو ان کا حق دیا، اداروں کو مضبوط کر کے ترقی کی طرف لایا جارہا ہے، اس کے نتائج سامنے آرہے ہیں، اداروں کی ساکھ بحال ہو رہی ہے اور کاروباری طبقے کا اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے۔

معاون خصوصی برائے احتساب نے کہا کہ 'پاکستان میں احتساب کا قانون سخت ہے۔'

شہزاد اکبر نے کہا کہ 12 میں سے ایک شق اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق ہے اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق وضاحت ہونی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ایسا نہیں ہے کہ نیب ترمیمی قانون پاس ہونے کے بعد کسی ٹیکس چور کو رعایت مل جائے گی بلکہ وہ معاملہ متعلقہ ادارہ دیکھے گا۔' انھوں نے یہ بھی بتایا کہ 'چار صفحاتی ترمیمی آرڈیننس کا سیکشن 4 بتائے گا کہ قانون کا کہاں اطلاق ہو گا۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'نیب قانون کا دو طرح کے افراد اور ٹرانزیکشن پر اطلاق نہیں ہوگا جبکہ جہاں لفظ کرپشن آئے گا وہ اب بھی نیب کی دسترس میں ہو گا۔‘

شہزاد اکبر نے بتایا کہ نیب کے بعد ایف آئی اے کے لیے بھی ایسے ہی عمل کا آغاز کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@MoIB_Official
Image caption وزیر اعظم عمران خان نے کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران کاروباری شخصیات کو یقین دلایا تھا کہ ایک نئے آرڈیننس کے ذریعے 'بزنس کمیونٹی کو نیب سے محفوظ کر دیا گیا ہے۔'

یاد رہے جمعے کو وزیر اعظم عمران خان نے کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران کاروباری شخصیات کو یقین دلایا تھا کہ ایک نئے آرڈیننس کے ذریعے ’بزنس کمیونٹی کو نیب سے محفوظ کر دیا گیا ہے۔‘

وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ ’مجھے پتا ہے کہ میرے کئی دوست بھی بیٹھے ہیں جنھیں یہ سن کر کافی خوشی ہو گی کیونکہ ان کے اوپر بھی نیب کے کیسز چل رہے تھے۔ ہمارا یہ ماننا ہے کہ نیب کو صرف پبلک آفس ہولڈرز کی سکروٹنی کرنی چاہیے، بزنس کمیونٹی کی سکروٹنی کے لیے اور فورمز موجود ہیں، جیسا کہ ایف بی آر اور عدالتیں۔‘

جس کے بعد حزب اختلاف کی جماعتوں سمیت دیگر حلقوں کی جانب سے نئے ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے قومی احتساب بیورو کے اختیارات کو محدود کرنے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

بلاول بھٹو کی تنقید

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس بارے میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ ’حالیہ نیب آرڈیننس اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکومت (سابق) صدر زرداری سے اس بات پر متفق ہے کہ نیب اور معیشت اکھٹے نہیں چل سکتے۔‘

بلاول کا اپنی ٹویٹ میں مزید کہنا تھا کہ ’اپنا (اصل) کام کیجیے، قانون سازی کیجیے۔ انسدادِ بدعنوانی کے قوانین کو مضبوط کریں اور اس ڈھونگ کو ختم کریں۔‘

نیب ترمیمی آرڈیننس میں کیا ہے؟

اس حوالے سے وفاقی کابینہ کی جانب سے منظور کردہ مذکورہ ترمیمی آرڈنینس میں کہا گیا ہے کہ نیب نے ایک متوازی عملداری اختیار کر لی ہے اور یہ ٹیکس سے متعلقہ معاملات کی انکوائری کر رہا ہے جو کہ ٹیکس کے نگران اداروں کے دائرہ کار میں مداخلت جیسا ہے۔ لہٰذا اس ضمن میں نیب کے عملی دائرہ کار کی وضاحت ان ترامیم کے ذریعے کرنی ضروری ہے۔

اسی بارے میں