آرمی چیف قمر باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع: ’خواہش ہے مستقبل میں فوجی سربراہ اور وزیر اعظم کو ایک دوسرے سے کوئی مسئلہ نہ ہو‘

پاکستانی پارلیمان تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پارلیمنٹ کے قومی اسمبلی میں موجود پریس گیلری کو جاتی ایک راہداری میں مسلم لیگ ن کے کچھ حمایتی بھی اجلاس دیکھنے کے منتظر تھے۔ وہ آپس میں بات چیت کر رہے تھے جب ان میں سے ایک نے کہا کہ ’ہو سکتا ہے کہ سینیٹ میں آرمی ایکٹ پر کچھ بات ہی ہو جائے۔‘

یہ سن کر اس گروہ میں سے ایک اور شخص نے کہا ’خدا کرے کہ بات ہو جائے، اب لوگ ہمیں بھی شرمندہ کر رہے ہیں کہ تم تو ووٹ کو عزت دینے کی بڑی باتیں کرتے تھے۔‘

یہ چاروں افراد اس سے پہلے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع سے آنے والی خبریں سن کر پریشان تھے۔

اس کمیٹی کے اِن کیمرہ اجلاس میں پاکستان آرمی ایکٹ 1952، نیوی ایکٹ 1961 اور ایئرفورس ایکٹ 1953 میں ترامیم سے متعلق تینوں ترامیمی بل منظور کیے گئے ہیں۔ یہ بل تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کی مدت ملازمت سے متعلق ہیں۔

یا رہے کہ پاکستانی پارلیمان کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے برّی فوج کے سربراہ سمیت تینوں سروسز چیفس کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق بل بغیر کسی ترمیم کے منظور کیے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

آرمی چیف کی مدتِ ملازمت: ترمیمی بل قائمہ کمیٹی سے منظور

’چھ ماہ میں قانون سازی نہ ہوئی تو فوج کا نیا سربراہ آئے گا‘

آرمی ایکٹ پارلیمان میں، حکومت عدالت میں: معاملہ کیا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ایوانِ زیریں میں یہ تینوں بل ترامیم کے لیے وزیر دفاع پرویز خٹک نے پیش کیے تھے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا اجلاس 3 جنوری کو ہوا جس میں حکومت اور حزب مخالف کی جماعتوں کے ارکان پارلیمان نے حصہ لیا تھا۔ اس اجلاس میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے ارکان بھی قومی اسمبلی کی کمیٹی کی دعوت پر شریک ہوئے تھے۔

اس اجلاس کے بعد وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے اعلان کیا تھا کہ بل اتفاق رائے سے منظور ہو گیا ہے۔ تاہم حزب اختلاف کی جماعتوں نے ان کے اس بیان کو رد کیا تھا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی مرتضی جاوید عباسی نے کہا کہ جمعے کو ہونے والے کمیٹی اجلاس میں رُولز اور پروسیجرز پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ وہ کہتے ہیں:

’سب سے پہلے تو سینیٹ کی کمیٹی کو شامل کر کے مشترکہ اجلاس بلانے کے لیے تحریک جمع کرانا پڑتی ہے جو نہیں کرائی گئی تھی، دوسرا ہمارا اعتراض یہ تھا کہ حکومت کیسے ایک ایسے شخص سے کمیٹی کی صدارت کرا سکتی ہے جو کہ کمیٹی کا رکن ہی نہیں ہے؟ اور ہم حکومت سے کہہ رہے تھے کہ یوں اس قدر جلد بازی میں اجلاس بلانا مضحکہ خیز لگتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا ’یہ قومی نوعیت کا اہم معاملہ ہے اس پر صبر و تحمل کے ساتھ بات چیت کرنا ہو گی۔ شاید حکومت کو جلد بازی میں کی گئی اپنی غلطیوں کا احساس ہوا اور اسی لیے یہ اجلاس دوبارہ بلایا گیا۔‘

واضح رہے کہ جمعے کو ہونے والے اجلاس کی صدارت پارلیمانی سیکرٹری کیپٹن ریٹائرڈ جمیل احمد نے کی تھی، جو کہ قواعد و ضوابط کے خلاف تھی۔ قواعد کے مطابق وزیر یا پارلیمانی سیکرٹری کمیٹی کے رکن تو ہوتے ہیں لیکن وہ اجلاس کی صدارت نہیں کر سکتے۔

جس کے باعث پیر کو ایک بار پھر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین امجد خان کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں سروسز ایکٹ میں ترامیم کو پیش کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ ARIF ALI

تاہم میڈیا کی جانب سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ انھیں علم نہیں کہ اجلاس دوبارہ کیوں بلایا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ’شاید اس لیے کہ حکومت چاہتی ہے حزب اختلاف کی جانب سے کسی بھی قسم کے نکتے پر بحث کی جائے، اس سے پچھلے اجلاس میں بھی کوئی اختلاف رائے سامنے نہیں آیا تھا۔‘

مسلم لیگ ن کی جانب سے ترامیم کی مکمل حمایت کا اعلان سامنے آیا تھا جبکہ پیپلز پارٹی نے بعض اصلاحات کے ساتھ مشروط حمایت کا اشارہ دیا۔ ان اعلانات کے بعد خاص طور پر سوشل میڈیا پر مسلم لیگ ن کو شدید تنقید کا سامنا ہے اور ان کے رہنماؤں کے وہ بیانات شیئر کیے جا رہے ہیں جن میں وہ کہہ رہے کہ وہ ان معاملات میں غیرمشروط حمایت نہیں کریں گے۔

تنقید کا یہ سلسلہ صرف مسلم لیگ ن کے کارکنوں میں ہی نہیں بلکہ کئی رہنما بھی اسی طرح سوچتے ہیں۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مسلم لیگ ن کے ایک سابق رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ انھیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ’ہم ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگاتے لگاتے اپنی سمت تبدیل کر رہے ہیں۔‘

ہم نے یہی سوال مسلم لیگ ن کے سنیئر رہنما مرتضی جاوید عباسی سے کیا کہ کیا ان کی جماعت دیگر اپوزیشن کے ساتھ مل کر مشاورت کر رہی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ یہ تاثر نہ پیدا ہو کہ حزب اختلاف ایک صفحے پر نہیں ہیں۔ اس معاملے پر ہم ایک ہی پیج پر ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے بل میں ترامیم کی تجاویز کا بھی جائزہ لے رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ مسئلہ حل ہو تاکہ مستقبل میں فوجی سربراہ کو چیف ایگزیکٹو سے اور نہ ہی وزیر اعظم کو فوجی سربراہ سے کوئی مسئلہ ہو۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس سے قبل وزیر دفاع پرویز خٹک نے بھی میڈیا سے بات کی اور کہا کہ کمیٹی اجلاس میں تمام اراکین نے اتفاق رائے سے ترامیمی بلز منظور کیے ہیں۔

جبکہ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ ’کمیٹی میں حزب اختلاف کی جانب سے یہ مطالبہ سامنے آیا تھا کہ فوجی سربراہان کی تقرری پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے ہونی چاہیے، جس پر میں نے بتایا کہ یہ ممکن نہیں ہے کیونکہ اس کے لیے آئین میں ترمیم کرنا ہو گی جبکہ یہ ایک ایکٹ میں ترمیم کی جا رہی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ تمام ممبران کو مطمئن کیا گیا ہے اور یہ بل منگل کو قومی اسمبلی میں ووٹنگ کے لیے پیش کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل گذشتہ ہفتے طلب کیے گئے کمیٹی کے مشترکہ اجلاس کے بعد سینیٹ کی قائمہ کمیٹی دفاع کے بعض ارکان نے کہا تھا کہ انھیں بل کی منظوری کے لیے ووٹنگ کا نہیں کہا گیا تھا۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 28 نومبر کو فیصلہ دیا تھا کہ پارلیمان آرمی چیف کے عہدے میں توسیع سے متعلق قانون سازی کرے۔ جس کے بعد آرمی ایکٹ کے احکامات میں ترامیم کا فیصلہ کیا گیا تاکہ صدر مملکت کو بااختیار بنایا جائے کہ وہ وزیراعظم کے مشورے پر تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کی مدت ملازمت اور اس حوالے سے قیود و شرائط پر عمل کر سکیں۔

اسی بارے میں