قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ سے بھی آرمی ایکٹ کی منظوری:’اب شور مچانے سے کوئی فائدہ نہیں‘

پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یہ بل پاکستانی برّی فوج سمیت دیگر مسلح افواج کے سربراہان کی مدتِ ملازمت سے متعلق ہے

پاکستان کی قومی اسمبلی کے بعد بدھ کو سینیٹ سے بھی پاکستانی برّی فوج سمیت دیگر مسلح افواج کے سربراہان کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے قوانین میں ترامیم کا بِل منظور کر لیا گیا ہے۔

منگل کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے برّی فوج کے سربراہ سمیت تمام مسلح افواج کے سربراہان کی مدت ملازمت سے متعلق قوانین میں ترامیم کے بلوں کی کثرتِ رائے سے منظوری دی تھی۔

بدھ کو جب یہ بِل سینیٹ میں پیش کیا گیا تو چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے بنا رُکے یکِ بعد دیگر تینوں بِلوں میں درکار ترامیم کو شِق وار پیش کیا اور یہ چند منٹوں میں منظور ہوگئے۔

سینیٹ سے اس بِل کے منظور ہونے کے بعد وزیرِ اعظم کے پاس یہ اختیار ہوگا کہ وہ مسلح افواج کے سربراہان کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیے

آرمی ایکٹ میں ترمیم قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ سے بھی منظور

’آرمی ایکٹ ترمیم پر حزب اختلاف ایک ہی صفحے پر ہے‘

’چھ ماہ میں قانون سازی نہ ہوئی تو فوج کا نیا سربراہ آئے گا‘

صدرِ پاکستان عارف علوی کے دستخط اور منظوری کے بعد یہ بِل قانون کی شکل اختیار کر لے گا۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں چھ ماہ کی مشروط توسیع دیتے ہوئے حکم دیا تھا کہ اس بارے میں قانون سازی کی جائے ورنہ جنرل باجوہ چھ ماہ بعد ریٹائر ہوجائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption قومی اسمبلی کے بعد آج سینیٹ سے بھی پاکستانی فوج سمیت دیگر مسلح افواج کے سربراہان کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے قوانین میں ترامیم کا بِل منظور کرا لیا گیا ہے

بدھ کو سینیٹ کا اجلاس شروع ہوتے ہی جب اِکا دکا سینیٹرز نے شور مچایا تو چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے اُن کی بات روکتے ہوئے کہا ’آپ مجھے قانون نہ سکھائیں اور سینیٹ کا مذاق نہ بنائیں، پلیز۔‘

لیکن اس کے باوجود چند سینیٹرز جن میں پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے محمد عثمان خان کاکڑ اور جمیعتِ علمائے اسلام کے چند ارکان شامل تھے چیئرمین کے پوڈیئم کے سامنے احتجاجاً بیٹھ گئے۔ بِل کی کاپیاں بھی پھاڑی گئیں لیکن تب تک بِل شِق وار منظوری کے لیے پیش کیا جا چکا تھا۔

حکومتی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے رکن اور قائمہ کمیٹی کے چیئرمین برائے دفاع ولید اقبال نے بِل کے نکات پیش کرنا شروع کیے تو پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ بِل پر بحث کرنے کی اجازت دی جائے۔ جس کے بعد انھوں نے بھی باقی سینیٹرز کی طرح احتجاج کیا۔

اس پر چیئرمین سینیٹ نے شیری رحمان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ’اب شور مچانے سے کوئی فائدہ نہیں، آپ کی اپنی جماعت نے اس بِل کو قومی اسمبلی سے منظور کروایا ہے۔‘

اس کے چند منٹ کے بعد ہی بِل سینیٹ سے پاس ہو چکا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سپریم کورٹ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں چھ ماہ کی مشروط توسیع دیتے ہوئے حکم دیا تھا کہ اس بارے میں قانون سازی کی جائے

بِل کی کاپی پھاڑنے والے سینیٹرز سینیٹ سے نکلتے ہی میڈیا گیلری میں صحافیوں سے خطاب کرنے پہنچے۔ ابتدا جمیعت علمائے اسلام کے نائب صدر مولانا عطا الرحمان نے کی اور کہا ’آج کے دن ہم نے اپنی اسٹیبلشمنٹ کو، اور اپنے ادارے کو بے وقعت کیا ہے۔ اتنا حساس فیصلہ پارلیمنٹ کے کرنے کا نہیں تھا۔ اور جس طرح سے یہ پارلیمنٹ جعلی ہے، اسی طرح آج کا فیصلہ بھی جعلی ہے۔‘

اسی بارے میں بلوچستان کی نیشنل پارٹی کے سربراہ حاصل بزنجو نے کہا ’ہم ویسے ہی ایک آرمی چیف کی (مدتِ ملازمت میں) توسیع کے معاملے سے تنگ تھے۔ اب تین مسلح افواج کے سربراہان کی توسیع ہمارے گلے پڑ گئی ہے۔‘

انھوں نے کہا ’آج ملک کی تین بڑی جماعتوں، مسلم لیگ نواز، پاکستان پیپلز پارٹی، جعلی مینڈیٹ والی حکومت نے مِل کر جمہوریت کو پارلیمنٹ کے اندر دفنا دیا ہے۔‘

جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان سینیٹ کے اجلاس کے بعد نظر نہیں آئے وہیں پاکستان مسلم لیگ ن کے ارکان میڈیا گیلری کے پاس سے گزر کر چلے گئے۔

لیکن مسلم لیگ ن کے نائب صدر مشاہد اللہ خان نے میڈیا سے نہ صرف بات کی بلکہ یہ دعویٰ بھی کیا کہ ’مدتِ ملازمت میں توسیع ہمارے وزیرِ اعظم کے دور میں نہیں کی گئی۔ پتا نہیں کیوں صرف ہماری جماعت پر تنقید کی جارہی ہے۔‘

ان سب سے دور رکنِ قومی اسمبلی محسن داوڑ اکیلے اپنے دفتر کی طرف جاتے ہوئے دکھائی دیے۔

محسن داوڑ اُن چند ارکان میں سے ایک ہیں جنھوں نے اسمبلی میں آرمی ایکٹ کی مخالفت کی۔

محسن داوڑ کو آتا دیکھ کر چند سینیٹرز مڑ گئے اور بظاہر سب اُن سے بات کرنے سے کتراتے ہوئے نظر آئے۔ جس پر ایک صحافی نے کہا ’شاید سب محسن سے نظر نہیں ملا پا رہے ہوں۔‘

اسی بارے میں