نیب کے قانون کی کون کون سی دفعات اسلامی نظریاتی کونسل نے ’غیر اسلامی‘ قرار دی ہیں؟

نیب تصویر کے کاپی رائٹ NAB

پاکستان کی اسلامی نظریاتی کونسل نے ملک میں احتساب کے قومی ادارے ’نیب‘ کے قانون کی تین دفعات کو ’اسلامی اصول اور قوانین کے برعکس‘ قرار دے دیا ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل نے نیب قانون کی جن دفعات کو غیر قانونی قرار دیا ہے ان میں دفعہ 14 ڈی، 15 اے اور 26 شامل ہیں۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے چییرمین قبلہ ایاز نے بتایا ہے کہ الزام ثابت ہونے سے پہلے ہتھکڑی پہنانا، الزامات عائد کرکے ذرائع ابلاغ میں تشہیر کرنا اور ملزم کو بغیر مقدمے کے لمبے عرصے تک قید میں رکھنا اسلامی اصول، تکریمِ انسانیت اور عدل و انصاف کے تقاضوں کے ساتھ متصادم ہے۔

کونسل کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق یہ دفعات آئینِ پاکستان کی شق 227(1) سے بھی متصادم ہیں جس کے مطابق ملک میں کوئی قانون سازی قرآن و سنت کے خلاف نہیں ہو سکتی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز نے بتایا کہ نیب قانون کی تین دفعات شرعی قوانین کی پیروی نہیں کرتیں بلکہ اسلامی اصول اور قوانین کے بالکل برعکس ہیں۔

مزید پڑھیے

’نیب واحد ادارہ ہے جس کا احتساب کرنے والا کوئی نہیں‘

’نیب کا کام کرپشن کی روک تھام ہے اداروں کی اصلاح کرنا نہیں‘

’نیب اب ٹیکس کے معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا‘

قبلہ ایاز کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل کے جسٹس رضا خان کی قیادت میں ہونے والے ایک اجلاس کے دوران نیب قانون کی دفعات کی ہر شق پر غور کیا گیا۔

نظریاتی کونسل کا کہنا ہے کہ نیب کے قانون میں جو حالیہ ترامیم کی گئی ہیں اس سے یہ قانون مزید امتیازی ہو گیا ہے اور اس میں ایسے سقم موجود ہیں کہ اسے اسلام میں جرم و سزا کے قانون سے ہم آہنگ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

Image caption ڈاکٹر قبلہ ایاز نے بتایا کہ نیب قانون کی تین دفعات شرعی قوانین کی پیروی نہیں کرتیں بلکہ اسلامی اصول اور قوانین کے بالکل برعکس ہیں۔

متنازعہ دفعات ہیں کیا اور ان پر کیا اعتراضات ہیں؟

1.دفعہ نمبر 14 ڈی

نیب قانون کی دفعہ نمبر 14 ڈی کے تحت کسی بھی ملزم پر کسی بھی قسم کی رشوت خوری کا الزام ثابت ہونے سے پہلے ہی اسے مجرم گمان کیا جائے گا اور انکوائری کے مکمل ہونے تک قید میں رکھا جائے گا۔

اِس بارے میں قبلہ ایاز نے کہا کہ ’ہم نے دیکھا ہے کہ کیسے کسی پروفیسر کو ہتھکڑی لگا کر عدالت میں پیش کیا جاتا ہے۔

اس ساری بے عزتی کی کیا ضرورت ہے؟ اسلامی قوانین کے تحت جب تک کسی پر الزام ثابت نہیں ہو جاتا تب تک اُن کو عزت دی جائے گی اور بے گناہ تصور کیا جائے گا .

یاد رہے کہ 8 جنوری کو سپریم کورٹ نے ایک سماعت کے دوران نیب کی ملزم کو پہلے قید کرنے اور بعد میں انکوائری کرنے کے عمل پر سوال اٹھایا تھا۔

جسٹس مشیر عالم نے کہا تھا کہ ’نیب ایسا کیوں نہیں کرتی کہ پہلے ثبوت اکٹھا کرے اور اس کے ملنے اور ثابت ہونے کے بعد ملزم کو اپنی تحویل میں لے؟‘

2.دفعہ نمبر 15 اے

نیب قانون کی دفعہ 15 اے کے تحت الزام لگنے کی صورت میں ملزم کو اپنی بےگناہی کا ثبوت پیش کرنا ہوتا ہے۔

اس پر قبلہ ایاز نے کہا کہ ’یہ تو الزام لگانے والا بتائے کہ اُس کے پاس کیا ثبوت ہے کہ کوئی ملزم کیوں ہے؟ جس کے بعد ملزم یہ ثابت کر سکے کہ آیا اُس نے کوئی جرم کیا بھی ہے یا نہیں۔‘

3.دفعہ نمبر 26

نیب قانون کی دفعہ 26 کے تحت اگر کوئی ملزم اپنے اوپر لگے الزامات قبول کر کے ریاست کے لیے گواہ بننا چاہے تو اس پر لگے الزامات ختم کر دیے جائیں گے۔

اس دفعہ کے حوالے سے قبلہ ایاز سوال اٹھاتے ہیں کہ ’یعنی اگر کوئی ملزم گناہ ثابت ہونے کے بعد یہ وعدہ کر لے کہ وہ قصور وار ہے اور آپ کی مدد کرے تو آپ اُس کے سارے گناہ معاف کر دیں گے یا پھر اُس کے حصّے کی جو سزا ہے اسے وہ دیں گے؟‘

فواد چوہدری کا جواب

قبلہ ایاز اور اسلامی نظریاتی کونسل کے ان اعتراضات کا جواب وفاقی وزیر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر دیا اور اسلامی نظریاتی کونسل کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے۔

انھوں نے کہا کہ ’آج تک مذہبی طبقات کی سوچ کو نظریاتی کونسل سے کوئی رہنمائی نہیں ملی۔ ایسے ادارے پر کروڑوں روپے خرچ کرنے کا جواز میری سمجھ سے بالاتر ہے۔ ادارے کی تشکیلِ نو کی ضرورت ہے۔ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ، انتہائی جید لوگ اس ادارے کو سنبھالیں۔‘

خیال رہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل ایک آئینی ادارہ ہے جو حکومت اور پارلیمان کب اسلامی قواعد و ضوابط کے تحت تجاویز دے سکتی ہے لیکن پاکستان کے سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید نے اس بارے میں وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسلامی نظریاتی کونسل صرف تجاویز دی سکتی ہے لیکن ان تجاویز پر عمل کرنا یا نہ کرنا پارلیمان کے اختیار میں ہے۔

اسی بارے میں