مری اور گلیات میں برفباری: سیاح کون سی احتیاطی تدابیر اپنائیں؟

پھنسی ہوئی گاڑی تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@ashqPakistan

محسن کمال اور ان کا خاندان ان ہزاروں سیاحوں میں شامل تھا جنھوں نے پیر کو مری اور گلیات کے علاقوں میں شدید برفباری کی خبریں سن کر تفریح کی غرض سے ان علاقوں کا رخ کیا۔

محسن کمال پشاور سے نکلے اور ان کی منزل خیبر پختونخوا کا پہاڑی مقام نتھیا گلی تھا مگر راستے میں برف کی وجہ سے بند سڑک پر تین گھنٹے تک پھنسے رہنے کی وجہ سے ان کی یہ تفریح زحمت میں بدل گئی اور انھوں نے برف پوش پہاڑ دیکھے بغیر ہی گھر واپسی کا فیصلہ کیا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ انھوں نے نتھیا گلی جانے کے لیے ایبٹ آباد کے راستے گلیات میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن ایبٹ آباد مری روڈ پر بگنوتر کے مقام پر ٹریفک میں پھنس گئے اور تین گھنٹے تک ہزاروں دیگر سیاحوں کے ساتھ پھنسے رہنے کے بعد اب وہ واپس پشاور لوٹ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’برفباری ختم ہو گئی تو دوبارہ گلیات کی طرف آئیں گے، امید ہے جب تک سڑک ٹریفک کے لیے کھول دی جائے گی۔‘

یہ بھی پڑھیے

چترال میں سیلاب: ’علیمہ خان سمیت درجنوں پھنس گئے‘

’رات کس طرح گزاری یہ بتانا الفاظ میں ممکن نہیں‘

کیا پاکستان سیاحوں کے سیلاب کے لیے تیار ہے؟

کشمیر میں محفوظ سیاحت کیسے ممکن ہے؟

مری کے راستے میں اپنے خاندان کے ہمراہ پھنسی ہوئی اسلام آباد کی نوشین ملک کا کہنا تھا کہ ’صبح گھر سے نکلے تھے کہ برف باری کا نظارہ کریں گے مگر یہاں پر تو صورتحال ہی تباہ کن ہے۔ سمجھ نہیں آ رہی کہ کدھر جائیں، واپسی کا راستہ بھی نہیں ہے۔‘

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے تفریحی مقام مری اور خیبر پختونخوا میں گلیات کے علاقوں میں یہ صورتحال نئی نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Kalam PIS Swarm Tour Operator

ہر سال مری اور گردونواح کے پہاڑوں پر جیسے ہی برفباری شروع ہوتی ہے ملک کے میدانی علاقوں سے ہزاروں سیاح اپنی گاڑیوں کا رخ مری اور گلیات کی طرف موڑ لیتے ہیں۔

اکثر چھٹی کے دن شام گئے ان پہاڑی علاقوں کو جانے والی سڑکیں رش اور پھسلن کی وجہ سے بند ہو جاتی ہیں اور ہزاروں سیاح ان علاقوں اور گاڑیوں میں محصور ہو کر رہ جاتے ہیں۔

ہوٹل انڈسٹری کے ذرائع کے مطابق مری کے 80 فیصد ہوٹل جبکہ گلیات کے ہوٹل مکمل طور پر سیاحوں سے بھرے ہوئے ہیں لیکن یہ وہ سیاح ہیں جو برفباری کے پیش نظر پہلے ہی سے مری اور گلیات پہنچ چکے تھے۔

ان کے علاوہ ایسے ہزاروں افراد بھی ہیں جو برفباری کی خبر سامنے آنے کے بعد اپنا تفریحی پروگرام تشکیل دیتے ہیں اور نتیجتاً راستے میں ہی پھنس جاتے ہیں۔

محکمہ موسمیات کے ترجمان ڈاکٹر خالد ملک کے مطابق ملک بھر میں برف باری کا سلسلہ ابھی رکنے والا نہیں اور پیر اور منگل کو بھی پہاڑی علاقوں میں برف پڑتی رہے گی لہٰذا سیاح برفباری رکنے کا انتظار کریں اور اس کے بعد ہی مری، گلیات، سوات، گلگت بلتستان کا رخ مقامی انتظامیہ سے معلومات حاصل کر کے کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Swat Tour Operator

سڑکیں برف باری کے بعد کھلیں گی

گلیات ڈویلمپنٹ اتھارٹی کے ترجمان احسن حمید کے مطابق گلیات میں یہ برفباری کا ساتواں سپیل ہے۔ اس سپیل میں زیادہ برف باری ہو رہی ہے اور اب تک اندازے کے مطابق اوسطاً تین فٹ تک برف پڑ چکی ہے۔

’برفباری کے دوران سڑکوں سے برف ہٹانے کا کام ممکن نہیں مگر جیسے ہی برفباری متوقع طور پر 14 جنوری کو رکے گی تو فی الفور برف ہٹانے کا کام شروع کر دیا جائے گا جس کے بعد ہم سیاحوں کے استقبال کے لیے تیار ہوں گے۔‘

احسن حمید کا کہنا تھا کہ اس وقت بھی نتھیا گلی اور دیگر مقامات پر سیاح موجود ہیں جن کے لیے دو فسیلیٹیشن سینٹر چھانگا گلی اور نتھیاگلی میں قائم ہیں۔ اس وقت پولیس کی مدد سے کوئک ریسپانس فورس قائم کر دی گئی ہے، جو ہمہ وقت سیاحوں کی مدد کے لیے تیار ہے۔

کالام سوات سے ٹور آپریٹر سوات ٹورازم کلب کے نورالہٰدی شاہین نے بتایا کہ ان کے اندازے کے مطابق 40 انچ تک برف پڑ چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا ’کالام جانے کے لیے مرکزی سڑک کھلی ہے مگر چھوٹی گاڑیوں کے لیے مسائل ہیں۔ وہ پھسل رہی ہیں جبکہ بڑی گاڑیاں نکل جاتی ہیں۔‘

انھوں نے بتایا ’کالام تک تو زیادہ مسائل نہیں ہیں مگر وہاں سے ارد گرد جانے والی تمام رابطہ سڑکیں بند ہیں۔ اس وقت کالام میں دس ہزار کے قریب سیاح پہنچ چکے ہیں تاہم ہوٹلوں میں اب بھی جگہ موجود ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@rporwp

برفباری والے علاقوں کا رخ کرتے ہوئے کن چیزوں کی احتیاط کی جائے

احسن حمید کا کہنا تھا کہ ’ہم برفباری کے دوران سفر کرنے کا مشورہ نہیں دیتے لیکن اگر کسی کو سفر کے دوران برفباری کا سامنا ہو تو انھیں بعض بنیادی قسم کے احتیاطی اقدامات ضرور کرنے چاہییں۔‘

’سب سے اہم یہ ہے کہ سیاح اپنی گاڑی کے پہیوں پر زنجیر باندھ کر سفر کریں تاکہ گاڑی برف پر نہ پھسلے۔ اگر آپ کی گاڑی فرنٹ وہیل ڈرائیو ہے تو یہ زنجیر سامنے والے پہیوں پر اور اگر بیک وہیل ڈرائیو ہے تو پچھلے پہیوں پر لگانی چاہیے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’پہلی بات تو یہ ہے کہ ہر ایک اپنے ساتھ زنجیر لے کر آئے، یہ عام دستیاب ہے اس کی قیمت ایک ہزار سے لے کر پندرہ سو تک ہے۔ اگر وہ یہ اپنے ساتھ نہیں لائے تو یہ زنجیرں گلیات میں مختلف مقامات پر کرائے پر بھی دستیاب ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

خیبر پختونخوا میں سیاحت کا متنازع ’نیا قانون‘

آپ اچھے سیاح کیسے بن سکتے ہیں؟

کشمیر میں محفوظ سیاحت کے 9 گُر

احسن نے بتایا کہ ’ایک ٹرپ یعنی اگر چھانگلہ گلی سے نتھیاگلی تک، بڑی گاڑی کو ڈرائیور کی سہولت کے ہمراہ استعمال کیا جائے تو اس کا کرایہ پندرہ سو اور چھوٹی گاڑی کا ایک ہزار روپیہ مقرر کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Galyat Development Authority

گلیات اور مری کے روٹ پر 20 برس سے ڈرائیونگ کرنے والے سردار افضل میر کا کہنا تھا کہ ’برفباری کے بعد سڑک پر سے برف ہٹا بھی دی گئی ہو تو بھی پھسلن ختم نہیں ہوتی اس لیے جب کوئی بھی سیاح اپنی گاڑی پر ایسے علاقوں کا رخ کرے تو اپنی گاڑی کو پہلے گیئر میں رکھے۔

’اس کے علاوہ بار بار بریک استعمال کرنے سے گریز کریں، ٹائروں کو کم رفتار میں گھومنے دیں کیونکہ اس سے پھسلن کا خدشہ کم ہو جاتا ہے۔ ڈھلوان پر انجن اور گیئر کی طاقت استعمال کریں اور ایکسیلیٹر سے گاڑی کی رفتار کو معتدل رکھیں‘۔

احسن حمید کے مطابق ایسے افراد اپنی گاڑیوں کے ٹائروں میں ہوا کم رکھیں، کمزور ٹائر اور گاڑی استعمال نہ کی جائے جبکہ گاڑی میں ایندھن پورا ہونا چاہیے۔

راستے میں کسی بھی مقام پر برفباری سے لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود رہتا ہے اس لیے گرم کپڑے، خشک خوراک وغیرہ ساتھ رکھیں۔

انھوں نے کہا کہ اگر آپ بچوں اور خاندان کے ہمراہ سفر کر رہے ہیں تو ان کی ضرورت کی تمام اشیا گاڑی میں ہر وقت موجود ہونی چاہییں۔

اسی بارے میں