کینو کی ’بمپر ‘ فصل: سرد موسم عوام کے لیے زحمت مگر کینو کے کاشتکاروں کے لیے رحمت

کینو کے باغ
Image caption پاکستان میں مختلف قسم کے ترش پھل کاشت ہوتے ہیں مگر اس میں سب سے بڑا حصہ کینو کا ہی ہے

پاکستان میں عام شہری تو رواں موسم سرما سے کچھ زیادہ خوش دکھائی نہیں دیتے مگر پنجاب کے ضلع سرگودھا سے تعلق رکھنے والے ملک خضر حیات کے لیے پاکستان میں رواں برس یہ موسم خوشخبری بن کر آیا ہے۔

130 ایکڑ پر پھیلے کینو کے باغات کے مالک خضر حیات نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا ’اس سال تو کینو کی بھرپور فصل ہوئی ہے۔ میں بھی خوش ہوں اور ہمارے دیگر زمیندار بھی خوش ہیں۔ ایسے لگتا ہے جیسے دس، بارہ سال پہلے والے حالات واپس آ چکے ہیں۔‘

ان کے مطابق ’گذشتہ سال بھی فصل اچھی تھی اور ہمارا مجموعی پھل 25 ہزار من تھا۔ اس سال ہم نے ایک کروڑ 90 لاکھ روپے کا ٹھیکہ دیا ہے اور اندازہ ہے کہ 28 سے 30 ہزار من پھل ہو گا۔

سرگودھا میں محکمہ زراعت کے شعبہ توسیع باغبانی کے سربراہ ڈاکٹر بشارت علی سلیم کے مطابق ترش پھلوں کو قدرتی سرد موسم کے مناسب دورانیے اور شدت کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر یہ دورانیہ اور شدت کم ہو تو اسے نقصان پہنچتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان میں خشک سالی سے زرعی پیداوار متاثر

خانپور کے مالٹے کیوں سکڑ رہے ہیں؟

پاکستانی کینو پر موسم کے اثرات

ان کا کہنا تھا ’ہم دیکھ رہے ہیں کہ دو سال سے سرگودھا سمیت پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں اچھی خاصی سردی پڑ رہی ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے پرانا موسم لوٹ آیا ہو اور اس کے کینو اور مالٹے کی پیداوار پر بہت اچھے اثرات پڑے ہیں۔‘

ڈاکٹر بشارت کے مطابق ’تین سال پہلے سٹرس کی ملک میں مجموعی پیداوار 22 لاکھ ٹن تھی جبکہ اس سال توقع ہے کہ اس میں دو سے تین لاکھ ٹن تک اضافہ ہو گا۔‘

پاکستان میں پائے جانے والے ترش پھل

پاکستان میں مختلف قسم کے ترش پھل کاشت ہوتے ہیں مگر اس میں سب سے بڑا حصہ کینو کا ہی ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں مجموعی طور پر پانچ لاکھ ایکڑ سے زیادہ رقبے پر ترش پھل اگائے جاتے ہیں اور اس میں سے چار لاکھ ایکڑ پر صرف کینو کی ہی کاشت ہوتی ہے۔

ترش پھلوں کی مختلف اقسام پورے ملک میں لگائی جاتی ہیں مگر صوبہ پنجاب کا حصہ اس میں سب سے زیادہ یعنی 70 فیصد کے قریب ہے اور پنجاب کے ضلع سرگودھا کو کینو کا گھر سمجھا جاتا ہے۔

Image caption ترش پھلوں کو قدرتی سرد موسم کے مناسب دورانیے اور شدت کی ضرورت ہوتی ہے

ترش پھلوں کے ماہر ڈاکٹر بشارت علی سلیم کے مطابق پاکستان میں پائے جانے والے ایسے پھلوں کی تقریباً تمام ہی اقسام برصغیر کی مقامی ہیں ماسوائے کینو کے جو گذشتہ صدی میں تیس کی دہائی میں امریکہ سے آیا تھا۔

ان کے مطابق امریکہ سے آنے والے پھل کی ترش پھلوں کی مختلف اقسام کے ساتھ بریڈنگ کی گئی تھی جس کے نتیجے میں جو نئے پودے تیار ہوئے وہ کینو کہلاتے ہیں۔ کینو کے علاوہ پنجاب میں فروٹر کی کاشت بھی کی جاتی ہے۔

نرم چھلکے والے کینو اور فروٹر کے برعکس مالٹا یا سویٹ اورنج سخت جلد والا پھل ہے۔ پاکستان میں اس کی مقبول اقسام میں موسمی، ریڈ بلڈ، ویلنشیا، مورو بلڈ وغیرہ شامل ہیں۔

ڈاکٹر بشارت کے مطابق ترش پھلوں میں مالٹے کے لیے زیادہ سرد موسم کی ضرورت ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ زیادہ تر خیبر پختونخوا کے علاقوں سوات، ہزارہ، نوشہرہ اور مردان میں پایا جاتا ہے جبکہ کینو، فروٹر، لیموں کو مناسب سرد موسم کی ضرورت ہوتی ہے جس وجہ سے وہ پنجاب میں لگایا جاتا ہے اور پنجاب میں سرگودھا کے علاوہ ٹوبہ ٹیک سنگھ اور منڈی بہاؤالدین اس کی کاشت کے علاقے ہیں۔

اس کے علاوہ پنجاب میں لیہ اور خیبرپختونخوا کے کچھ علاقوں میں سنگترہ بھی کاشت کیا جاتا ہے جبکہ گذشتہ چند برسوں میں ملک میں چکوترے کی کاشت کو بھی فروغ ملا ہے۔

Image caption پاکستان میں چار لاکھ ایکڑ پر صرف کینو کی ہی کاشت ہوتی ہے

’پھل اچھا تو روزگار میں اضافہ‘

پاکستان بھر میں جہاں جہاں ’سٹرس‘ یا ترش پھل کاشت کیے جاتے ہیں وہاں اس سال مجموعی طور پر بہتر پیداوار کی اطلاعات ہیں۔

ڈاکٹر بشارت کے مطابق پاکستان بھر میں پانچ لاکھ ایکڑ سے زائد رقبے پر ترش پھلوں کی کاشت کی جاتی ہے اور اس میں ضلع سرگودھا کا حصہ سوا دو لاکھ ایکڑ ہے۔

سرکاری اعدادوشمار اور کینو کے کاروبار سے منسلک افراد کے مطابق سرگودھا میں کینو کے باغات کی وجہ سے ضلع بھر میں اس پھل کو ’پراسس‘ کرنے والے 250 سے 300 چھوٹے بڑے کارخانے کام کر رہے ہیں۔

ان کارخانوں میں کینو کی درجہ بندی کے علاوہ، اسے پالش اور مناسب طریقے سے پیک کیا جاتا ہے جس سے اس کی عمر میں اضافہ ہوتا ہے۔ پھل کے سیزن میں ہر کارخانے میں اوسطاً 500 کے قریب کارکنان کام کرتے ہیں جبکہ مستقل بنیادوں پر یہاں اوسطاً 100 لوگوں کو روزگار حاصل ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ ہر سال کینو کے دس سے پندرہ لاکھ نئے درختوں کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے علاقے میں 250 سے زیادہ نرسریاں بھی کام کر رہی ہیں جبکہ ہر سال صرف سرگودھا کا محکمۂ زراعت تقریباً 30 ہزار نئے درخت اپنی نرسری سے تیار کر کے فراہم کر رہا ہے۔

یہی نہیں بلکہ پھل کو درختوں سے اتارنے، اس کی ٹرانسپورٹ، تجارت اور دیگر مراحل سے بھی بڑی تعداد میں لوگوں کو روزگار حاصل ہوتا ہے۔

Image caption کینو کے کاشت کاروں کے مطابق کئی برس سے ترش پھل بالخصوص کینو میں پاکستان کوئی بھی نئی مارکیٹ نہیں بنا سکا

’پیداوار کافی تو ہے مگر معیاری نہیں‘

بھلوال کے زمیندار اور ترش پھلوں کی برآمد کے کاروبار سے منسلک احمد شیر گوندل اس بات سے تو متفق ہیں کہ کینو کی بہترین فصل ہوئی ہے مگر ان کا کہنا ہے کہ ’بمپر‘ فصل کے باوجود برآمد کے لیے معیاری کینو کی تعداد بہت کم ہے۔

ان کے مطابق کئی برس سے ترش پھل بالخصوص کینو میں پاکستان کوئی بھی نئی مارکیٹ نہیں بنا سکا بلکہ ’کئی ممالک میں ہمارا کینو جانا ہی بند ہو چکا ہے۔‘

انھوں نے کہا ’پاکستان میں اگنے والا کینو عموماً سائز میں چھوٹا ہے۔ دنیا بھر میں چھوٹے کینو کی ڈیمانڈ صرف روس ہی میں ہے اور ہمارا حال یہ ہے کہ ہم روس میں اتنی زیادہ تعداد میں کینو بھجوا دیتے ہیں کہ وہاں بھی اس کی قیمت گر جاتی ہے اور برآمد کنندگان کو نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے۔‘

احمد گوندل کے مطابق دنیا کے کئی ممالک میں اس وقت انتہائی معیاری اور بڑے سائز کے ترش پھلوں کی مختلف اقسام پیدا کی جا رہی ہیں اور مشرقی وسطیٰ کے ممالک میں صرف اچھے سائز کے کینو اور دیگر ترش پھلوں کی مارکیٹ ہے۔

ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے مطابق پاکستان سے پھلوں کی برآمد میں ترش پھلوں کا حصہ 20 فیصد ہے۔ ڈاکٹر بشارت کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ترش پھلوں کی کل پیداوار کا تقریباً 15 فیصد برآمد کیا جاتا ہے تاہم یہ شرح گر کر دس فیصد تک بھی چلی جاتی ہے۔

وہ کہتے ہیں ’پاکستان میں تھوڑی توجہ دی جائے اور عالمی مارکیٹ کے مطابق بڑے سائز کا ترش پھل تیار کیا جائے تو اس کی بر آمد میں اضافہ ہو سکتا ہے جس کے لیے زمیندار کو ضروری تربیت کے علاوہ مزید وسائل بھی فراہم کرنا ہوں گے۔‘

Image caption ہر سال کینو کے دس سے پندرہ لاکھ نئے درختوں کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے علاقے میں 250 سے زیادہ نرسریاں بھی کام کر رہی ہیں

ترش پھلوں کی صنعت کو درپیش چیلنج کیا ہیں؟

سرگودھا میں کینو پراسس اور برآمد کرنے والی ایک کمپنی کے ڈائریکٹر چوہدری نصیر احمد کا کہنا ہے کہ سب سے بڑا چیلنج تو یہ ہے کہ اس وقت ہمارے زمینداروں کی اکثریت جدید ٹیکنالوجی سے کم آشنا ہے اور اکثر اوقات بڑی تعداد میں پھل ضائع کر دیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سرگودھا سمیت دیگر مقامات پر کینو اور دیگر پھلوں کی پراسسنگ کا مخصوص سیزن ہوتا ہے۔ جس کے لیے کارکنوں کو مخصوص وقت کے لیے ملازم رکھا جاتا ہے۔ یہ کارکنان عموماً ملتان، بہاولپور اور جنوبی پنجاب کے مختلف علاقوں سے آتے ہیں اور ہر سال تبدیل ہوتے رہتے ہیں نتیجہ یہ کہ ان کی اکثریت پیکنگ، پراسسینگ وغیرہ سے آشنا نہیں ہوتی اور اکثر اوقات کارخانوں میں بھی نقصان کرتی ہے۔

چوہدری نصیر نے مطالبہ کیا کہ ان کارکنان کو پراسسنگ، پیکنگ کے جدید کورس کروائے تاکہ فیکٹریاں جب ان لوگوں کو کام پر رکھیں تو ان کے پاس مناسب تربیت موجود ہو۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پھلوں کی نقل و حمل اور ان کی برآمد سے قبل تشخیصی ٹیسٹ کے سلسلے میں بھی برآمدکنندگان کو مشکلات درپیش ہیں جن کا ازالہ کیا جانا چاہیے۔

احمد شیر گوندل کے مطابق تیار کینو درختوں سے اتارنا بھی ایک فن ہے اور ہر سال سیزن میں پھل اتارنے کے لیے نئے کارکن دستیاب ہوتے ہیں جو تربیت یافتہ نہیں ہوتے۔

ان کے مطابق ’کینو کی جلد انتہائی نازک ہوتی ہے اور اس پر اگر ہلکا سا ناخن بھی لگ جائے تو پھل خراب ہو جاتا ہے یا اتارتے ہوئے اگر ایک، دو فٹ کے فاصلے سے بھی نیچے گر جائے تو استعمال کے قابل نہیں رہتا۔

’اسی طرح اس کی تازگی برقرار رکھتے ہوئے اسے درخت سے مناسب انداز سے اتارنا ضروری ہے جس میں ٹہنی کا کچھ حصہ بھی کینو کے ساتھ جڑا رہنا چاہیے مگر غیر تربیت یافتہ کارکن اکثر نقصان کر دیتے ہیں۔‘

احمد شیر گوندل کا کہنا تھا کہ پاکستان موسمی تبدیلیوں کا شکار ہے۔ ’موسم کا کچھ پتا نہیں چلتا۔ ان حالات سے مقابلہ کرنے کے لیے موافق طریقۂ کار اختیار کرنا پڑتے ہیں جن سے ہمارے زمیندار بالکل بھی آشنا نہیں جبکہ ساری دنیا میں ایسے حالات میں حکومتیں اور اس کے تحقیقاتی ادارے کاشت کاروں کو مدد فراہم کرتے ہیں۔‘

ملک خٖضر حیات کے مطابق ان کے اخرجات ہر سال بڑھتے جارہے ہیں۔ ’ہمارا سب سے بڑا خرچہ ڈیزل کا بن چکا ہے۔ گذشتہ سال ہمارا خرچہ 50 لاکھ ہوا اس سال میرے اندازے کے مطابق یہ خرچ 60، 70 لاکھ تک پہنچ چکا ہے جس کی وجہ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔‘

’ہم خود پانی پیئں یا نہ پیئں مگر درختوں کو تو ہر صورت میں پانی دیں گے۔ اب اگر کسی سال فصل اچھی نہ ہو پھر ہم لوگ کہاں جائیں گے۔‘

اسی بارے میں