راولپنڈی پولیس: پی ٹی ایس کے پرنسپل ایس ایس پی ابرار حسین نیکوکارہ نے خودکشی کی

راولپنڈی پولیس تصویر کے کاپی رائٹ Rawalpindi Police

راولپنڈی پولیس کی جانب سے روات میں پولیس ٹریننگ سکول (پی ٹی ایس) کے پرنسپل ایس ایس پی میاں ابرار حسین نیکوکارہ کی خودکشی کی تصدیق کر دی گئی ہے۔

سی سی پی او راولپنڈی محمد احسن یونس کے مطابق بظاہر خودکشی اسلحہ کے ذریعے کی گئی ہے اور خود کشی کا نوٹ بھی جاۓ وقوعہ سے ملا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ابھی پوسٹ مارٹم کروایا جا رہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید تفصیلات سامنے آ سکیں گی۔

اس سے قبل، ایس ایچ او پولیس روات کاشف اقبال نے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پیر کو ابرار حسین نیکوکارہ مردہ حالت میں اپنے گھر پائے گئے تھے جس کے بعد ان کی لاش کو ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

طبقاتی فرق اور پنجاب پولیس کی کارکردگی

کیا عقوبت خانے تھانوں سے باہر منتقل ہو رہے ہیں؟

’ریاستی‘ تشدد اور جبر کی دنیا

پولیس کی نیک نامی کے لیے ’دال چاول‘ تیار

سی سی پی او راولپنڈی کے مطابق جائے وقوعہ کا جائزہ لیا جا چکا ہے اور پی ایف ایس اے کی ٹیم بھی موقع پر موجود ہے۔

ابرار حسین نیکو کارہ کی نماز جنازہ منگل کے روز صبح نو بجے پولیس لائنز ہیڈکوارٹرز راولپنڈی پریڈ گراؤنڈ میں ادا کی جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Rawalpindi Police

’ایک ہمدرد پولیس افسر‘

ابرار حسین نیکوکارہ پولیس سروس میں گریڈ 18 کے افسر تھے جو ماضی میں سی ٹی او فیصل آباد اور ڈی پی او خوشاب تعینات رہ چکے ہیں۔ وہ تاحال روات ٹریننگ سکول میں پرنسپل کے عہدے پر تعینات تھے اور چنیوٹ کے نواحی علاقے ہرسہ شیخ سے تعلق رکھتے تھے۔

ابرار نیکوکارہ کی موت پر سوشل میڈیا پر بھی ردعمل سامنے آیا ہے۔

اعلی پولیس افسر تاجک سہیل نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں لکھا کہ ’ابرار نیکوکارہ ایک انسان دوست اور ہمدرد پولیس افسر تھے جو اب ہم میں نہیں رہے لیکن ہمارے دلوں میں ضرور رہیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@DrTajikSohail

نیوز اینکر پرسن رحمان اظہر نے ایک پیغام میں کہا کہ ’ابرار گورنمنٹ کالج لاہور میں میرے کلاس فیلو تھے۔ وہ تقاریر کیا کرتے تھے اور نیو ہوسٹل میں میرے ساتھ رہتے تھے۔

’مجھے یقین نہیں آرہا کہ اب وہ ہم میں سے نہیں رہے۔ وہ خوش مزاج انسان تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@rehman_azhar

سوشل میڈیا پر کچھ صارفین نے یہ بھی کہا کہ اعلیٰ سرکاری نوکریوں میں دباؤ کی وجہ سے پریشانی اور ڈپریشن ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔

ایک صارف حسان خاور نے لکھا کہ یہ واقعہ انھیں ’ڈی سی گوجرانوالہ سہیل ٹیپو کی یاد دلاتا ہے۔ ہر طرف ڈپریشن پھیلا ہوا ہے اور کہیں بھی آگاہی نہیں۔ حکومتی سروس میں کام کرنے کا دباؤ ہوتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@hassankhawar

پاکستان میں اعلیٰ افسران کی پراسرار اموات کے واقعات

یہ پاکستان میں کسی اعلیٰ افسر کی پراسرار موت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل سنہ 2018 میں ڈی سی گوجرانوالہ سہیل ٹیپو پراسرار حالات میں اپنی سرکاری رہائش گاہ پر مردہ حالت میں پائے گئے تھے۔

اس سے دو سال قبل بلوچستان میں ڈی پی او جعفر آباد جہانزیب خان کاکڑ نے مبینہ طور پر اپنے دفتر میں خودکشی کی تھی۔

ڈی پی او ننکانہ شہزاد وحید نے بھی 2011 میں مبینہ طور پر اپنے کمرے میں خودکشی کی تھی۔

اسی بارے میں