نیلم میں برفانی تودے گرنے سے ہلاکتیں: ’کون سوچ سکتا تھا کہ وہاں بھی موت آ جائے گی‘

کشمیر میں برفباری سے ہلاکتیں تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کشمیر میں ہونے والی ہلاکتوں میں سے 73 وادی نیلم ہوئیں جبکہ سندھنوٹی، کوٹلی اور راولاکوٹ میں ایک ایک شخص ہلاک ہوا

پاکستان میں رواں برس موسم سرما کی شدت معمول سے کہیں زیادہ رہی ہے اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والی شدید برفباری کا نتیجہ برفانی تودے گرنے کی شکل میں نکلا جس کی زد میں آ کر درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

وادی نیلم میں سب سے زیادہ نقصان سرگن کے علاقے میں ہوا ہے جہاں کم از کم تین دیہات ان تودوں کی زد میں آئے ہیں۔ سرگن بکوالی سے تعلق رکھنے والے 45 سالہ ارشاد کا خاندان بھی متاثرین میں شامل ہے۔

ارشاد نے صحافی ایم اے جرال کو بتایا کہ ان کے رشتہ داروں کے پانچ خاندان لینڈ سلائیڈنگ سے بچنے کے لیے پہاڑوں پر بنے ہوئے اپنے مکانات سے کچھ دور ایک اور رشتہ دار کے گھر منتقل ہوئے تھے لیکن موت ان کا تعاقب کرتے ہوئے وہاں پہنچ گئی۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان: برفباری سے تباہی، تودے گرنے سے 87 ہلاکتیں

پاکستان میں برفباری اور مشکلات

جب برف باری میں تفریح ایک بھیانک خواب بن گئی

ارشاد کا کہنا تھا ’جس جگہ وہ منتقل ہوئے تھے وہ بھی ایک پانچ منزلہ عمارت تھی مگر وہاں کبھی زندگی میں برفانی تودہ نہیں آیا تھا۔ 13 جنوری کو دن دو بجے اسی گھر پر برفانی تودہ آ گرا اور سب لوگ اس کے نیچے دب گئے۔‘

ارشاد کے مطابق اس برفانی تودے نے بکوالی گاؤں کے 15 سے زیادہ مکانات کو نقصان پہنچایا۔ ان کے مطابق مذکورہ پانچ منزلہ عمارت میں موجود 30 میں سے 18 افراد تودے کی زد میں آ کر موت کا شکار ہو گئے اور 12 زخمی ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں اور میرا خاندان جس جگہ موجود تھا وہ جگہ بھی خطرناک تھی اور جو لوگ منتقل ہو رہے تھے، انھوں نے بھی اصرار کیا تھا مگر میں منتقل نہیں ہوا۔ میں خوف سے کبھی گھر کے اندر اور کبھی باہر گھوم رہا تھا کہ کس وقت تودہ آئے گا اور ہم سب کو ساتھ لے جائے گا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’تودہ گرتے ہی شور ہوا۔ میں اپنے گھر کی چھت پر تھا۔ فوراً بھاگا اور پھر گاؤں والوں کے ساتھ مل کر زخمیوں سمیت لاشوں کو نکالا۔ کون سوچ سکتا تھا کہ وہاں بھی موت آ جائے گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ M A Jaral
Image caption ارشاد کے مطابق برفانی تودے نے بگوال گاؤں کے 15 سے زیادہ مکانات کو نقصان پہنچایا

12 سالہ ثمینہ ان افراد میں سے شامل ہیں جنھیں تودے تلے دبنے والی عمارت سے واقعے کے تقریباً 20 گھنٹے بعد زندہ نکالا گیا۔اس وقت کو یاد کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا وہ انگیٹھی کے پاس بیٹھی تھیں کہ اچانک مکان کے اوپر کچھ زوردار چیز گری۔ 'ہم کافی آگے جا گرے اور گرم انگیھٹی میری ٹانگوں پر لگی اور میں بے ہوش ہو گئی۔‘

ارشاد کا کہنا ہے کہ ان کے علاقے میں برفباری کی وجہ سے روزمرہ زندگی شدید متاثر ہوئی ہے اور ہر وقت لینڈ سلائیڈ یا برفانی تودے گرنے کا ڈر لگا رہتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’جب ہم ایک رشتہ دار کی نماز جنازہ ادا کرنے جا رہے تھے تو اس وقت بھی برفانی تودہ آیا۔ اس واقعے میں تمام افراد بچ گئے تاہم اس کے بعد ایک مرتبہ پھر تودہ آیا جس نے ہمارے بازار میں موجود میری دکان سمیت دیگر دکانوں کو تباہ کر دیا۔'

برفباری دیکھنے جائیں مگر پوری تیاری کے ساتھ

برفباری کے دوران ٹیک آف کیوں ممکن نہیں؟

برفباری کے بعد ’سفید‘ کوئٹہ کے مناظر

ضلع نیلم کے ڈپٹی کمشنر شاہد محمود کے مطابق برفانی تودوں کی زد میں مکانات کے علاوہ ایک مسجد، مقامی بازاروں کی 17 دکانیں اور سات گاڑیاں بھی آئی ہیں۔

لوات کے مقامی مفتی عیبد الرحمن کے مطابق لوات اور ضلع نیلم کے مخلتف علاقوں میں وقفے وقفے سے چھوٹے بڑے برفانی تودے گرنے کے واقعات پیش آئے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کی تابندہ کوکب کو بتایا کہ ’تحصیل ہیڈ کوارٹر شاردہ کے علاقے سُرگن کے دیہاتوں سیری، بگوال، اور ساگام، میں رات اور پھر صبح کے اوقات میں برفانی تودے گرے۔ ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ان کا کہنا تھا کہ نسبتاً دور دارز کی ایک یونین کونسل گریرس کا زمینی رابطہ مکمل طور پر منقطع ہے وہاں پر مواصلاتی رابطہ بھی ممکن نہیں۔ وہاں 10 فٹ تک برف پڑ چکی ہے۔ کسی کو علم نہیں کہ وہاں لوگوں کس حال میں ہیں۔ ‘

انھوں نے بتایا کہ اس یونین کونسل میں کم از کم دس سے بارہ ہزار لوگ آباد ہیں۔

امدادی کاموں میں دشواری

وادی نیلم سمیت پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ان متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں لیکن امدادی کارکنوں کو شدید موسم کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موسم کی سختی اور علاقے تک بروقت رسائی نہ ملنے کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خطرہ ہے۔

شاہد محمود نے بتایا جو مکانات برفانی تودوں کی زد میں آئے ہیں وہ لکڑی اور سی جی آئی شیٹس (ٹین کی چادروں) کے بنے ہوئے ہیں۔ جو برفباری کے لیے تو موزوں ہیں تاہم برفانی تودے گرنے کی صورت میں زیادہ محفوظ نہیں ہیں۔

مظفرآباد سے نیلم کے لیے جانے والے ریسکیو 1122 کی ٹیم کے ایک اہلکار منظور میر نے منگل کی شب ٹیلی فون پر بی بی سی کو بتایا کہ ان کی ٹیم لوات پائن تک پہنچ کر پھنس گئی اور وہاں سے آگے گاڑیوں کا جانا ناممکن ہے۔

'ہمارے پاس ریسکیو کے سامان اور ایمولینس تو ہے لیکن ہم یہاں سے آگے نہیں جا سکتے۔ برفباری بہت زیادہ ہے۔ ہم نے یہاں تک پہنچنے کے دوران بھی راستے میں کئی لوگوں کو ریسکیو کیا۔ سڑکوں پر مقامی افراد کی گاڑیوں کے ساتھ ساتھ سیاح بھی پھنسے ہوئے ملے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ M A JARRAL
Image caption وادی نیلم میں لوگ اپنی مدد آپ کے تحت برف میں دبے لوگوں کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں

منظور میر کے مطابق انہیں ملنے والے اطلاعات کے مطابق سُرگن کے علاقوں میں پاکستان فوج ہی مقامی افراد کے ہمراہ لوگوں کی مدد کر رہی ہے۔

ضلع نیلم کے ڈپٹی کمشنر شاہد محمود نے بتایا کہ مسلسل برفباری کی وجہ سے امدادی کاموں میں کم از کم ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔ ’تین ہیلی کاپٹرز کی مدد طبی عملے کے چند اہلکار اور امدادی سامان جن میں کمبل، پلاسٹک شیٹس اور گرم کپٹرے متاثرہ علاقوں تک پہنچائے گئے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کے برفباری کی شدت کی وجہ سے قریبی علاقوں کے لوگ ہی بمشکل برفانی تودے سے متاثرہ علاقوں میں جا کر لوگوں کی مدد کر رہے ہیں۔ لیکن بغیر کسی مشینری کے لوگوں کی مدد کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ شدید برفباری کے باعث ایک گھر سے دوسرے گھر تک جانا بھی دشوار ہے بعض جگہوں پر سات فٹ سے زیادہ پرف پڑ چکی ہے جبکہ مسلسل برفباری ہو رہی ہے۔

لوات کے مقامی عبید الرحمن نے بتایا کہ سُرگن میں ماضی میں بھی برفانی تودے گرنے کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ ان کے بقول ’سُرگن کے علاقے سیری میں جنوری 2005 میں برفانی تودہ گرنے سے کم از کم 22 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہاں آنے والے برفانی تودوں اور ان کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی وجہ سے اس علاقے کو ’میّتاں والی سیری‘ بھی کہا جاتا ہے۔ ‘

انھوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ’سنہ 2005 کے زلزلے میں تباہی کے بعد بھی لوگوں کو اسی علاقے میں دوبارہ آباد کیا گیا۔ حالانکہ اب یہاں برفانی تودے زیادہ خطرناک صورتحال اختیار کر گئے ہیں۔ عمودی پہاڑوں پر اب درخت بھی کم ہیں اور برف باری کی شدت کبھی کبھار کہیں زیادہ ہو جاتی ہے۔ ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Muhammad Din Mughal
Image caption دوراز دار علاقوں میں موصلاتی نظام بھی موجود نہیں اس لیے وہاں کی تازہ ترین صبرتحال بھی معلوم نہیں ہو سکتی

متاثر ہونے والے سکول کے بچے

برفانی تودوں کا شکار ہونے والوں میں سکول کے بچے بھی شامل ہیں۔

پیر کی صبح لوات گاؤں میں سرمائی چھٹیوں کے بعد سکولوں کا پہلا دن تھا جب بچے سکول جا رہے تھی۔ اس دوران برفانی تودہ گرنے سے چند بچے بچیاں اس میں دب گئے۔ دیگر کو تو ریسکیو کر لیا گیا تاہم نویں کلاس کی ایک طالبہ ہلاک ہو گئی۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سرد پہاڑی علاقوں میں عموماً سالانہ چھٹیاں موسم سرما میں دی جاتی ہیں کیونکہ شدید برفباری کے باعث آمد و رفت متاثر ہوتی ہے تاہم بعض علاقوں میں اب بھی باقی ملک کے طرح گرمیوں میں ہی چھٹیاں ہوتی ہیں۔

کوئٹہ بلوچستان کی صورتحال

برفباری نے اس برس صرف کشمیر کے لوگوں کو ہی متاثر نہیں کیا بلکہ رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں بھی سرد موسم نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔

سجاد احمد ٹرالر کے ڈرائیور ہیں اور وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو تین دن تک پاکستان کے ضلع مستونگ میں برفباری کی وجہ سے پھنسے رہے۔

انھوں نے نامہ نگار محمد کاظم کو بتایا کہ انھیں کوئٹہ سے ایران سبزی لے جانا تھا لیکن وہ کوئٹہ سے 40 کلومیٹر سے زیادہ آگے نہیں بڑھ سکے کیونکہ پہلے ان کی گاڑی دو روز تک کوئٹہ کے قریب لک پاس کے علاقے میں پھنسی رہی اور پھر دو روز بعد وہ شیخ واصل پہنچے تو پھسلن کی وجہ سے ایک بڑی گاڑی الٹنے سے سڑک کی بندش آڑے آ گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ KHAIR MUHHAMAD

ٹرک ڈرائیور نذر محمد بھی شیخ واصل کے علاقے میں پھنسنے والوں میں شامل ہیں۔ وہ نوشکی سے کوئٹہ کی جانب آرہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں سردی کی وجہ سے ڈرائیوروں سمیت دیگر افراد کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

برفباری کے بعد پیر کی شب قلعہ سیف اللہ میں کان مہترزئی کے علاقے میں کوئٹہ سے پنجاب اور کوئٹہ سے پشاور کے درمیان سفر کرنے والے افراد کی بڑی تعداد بھی پھنس گئی تھی۔

ایک اندازے کے مطابق ایسے افراد کی تعداد 300 سے 500 کے لگ بھگ تھی۔ علاقے میں ریسکیو کے کام کی نگرانی کرنے والے محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے اہلکار سید امین نے بتایا کہ اس علاقے میں پھنسے ہوئے تمام افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ جن علاقوں میں لوگ پھنسے ہوئے ہیں انہیں قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کی جانب سے کھانا بھی فراہم کیا جارہا ہے۔

برفباری کے دو روز بعد اگرچہ کوئٹہ اور دیگر علاقوں کے درمیان اہم قومی شاہراہوں کو کھول دیا گیا ہے لیکن شدید سردی کے باعث ان پر پھسلن کی وجہ سے ٹریفک کی روانی متاثر ہے۔

اہلکار نے بتایا کہ بلوچستان کے جن علاقوں میں شاہراہیں بند تھیں بلڈوزروں اور ٹریکٹروں کو استعمال کرکے برف کو ہٹا دیا گیا ہے تاہم پھسلن کے باعث ٹریفک کی روانی اب بھی متاثر ہے۔

انہوں نے کہا کہ پھسلن کے مسئلے کو دور کرنے کے لیے شاہراہوں پر نمک کا چھڑکاؤ بھی کیا جا رہا ہے جس کے باعث ان شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی جلد بحال ہوجائے گی۔

اسی بارے میں