نواز شریف 48 گھنٹے میں رپورٹ دیں ورنہ ایکشن ہو گا: یاسمین راشد

صوبۂ پنجاب کی وزیرِ صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا ہے کہ اگر 48 گھنٹوں میں میاں نواز شریف کی صحت سے متعلق تازہ ترین رپورٹیں جمع نہیں کروائی گئیں تو محکمہ داخلہ ان کے خلاف ایکشن لے گا۔

میاں محمد نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے ڈاکٹر یاسمین راشد کی پریس کانفرنس کے فوری بعد اپنے ٹویٹر اکاونٹ سے میاں نواز شریف کی تازہ ترین میڈیکل رپورٹیں جاری کی ہیں جس پر ان کے لندن کے معالج کے دستخط موجود ہیں۔

لیکن پریس کانفرنس کے دوران ڈاکٹر یاسمین راشد نے یہ موقف اختیار کیا کہ حکومت کو برطانوی ہائی کمیشن سے تصدیق شدہ رپورٹیں درکار ہیں۔

حسین نواز: نواز شریف کو امریکہ لے جانے کی خبر درست نہیں

کیا نواز شریف کی روانگی سے پی ٹی آئی کا ووٹر مایوس ہے؟

پیر کو سوشل میڈیا پر سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی ایک تصویر شئیر کی گئی جس میں انہیں اپنے خاندان کے ساتھ لندن کے ایک ریسٹورنٹ میں دیکھا گیا۔ یہ تصویر وفاقی وزیر فواد چوہدری کی جانب سے بھی ان کے ٹوئٹر اکاونٹ پر شئیر کی گئی۔

جس کے بعد یہ خبریں بھی سامنے آئیں کہ وزیر اعظم عمران خان نے ڈاکٹر یاسمین راشد سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور انہیں میاں محمد نواز شریف کی میڈیکل رپورٹیں منگوا کر عوام کے سامنے رکھنے کی ہدایات بھی جاری کیں۔

صوبۂ پنجاب کی وزیرِ صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کو میاں نواز شریف کی تصویر دیکھ کر اتنی ہی تکلیف ہو رہی ہو گی جتنی ایک پاکستانی کو ہو رہی ہے۔

منگل کو لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا ' نوازشریف کی تصویر سوشل میڈیا پر دیکھی ہے جس پر سب کو تحفظات ہیں۔ نوازشریف چھ ہفتوں کی اجازت لے کر گئے تھے۔ انھوں نے سوال کیا 'اب آپ ہمیں بتائیں کہ علاج کروا کر آپ واپس کب آئیں گے۔'

انہوں نے مزید بتایا کہ خواجہ حارث نے نواز شریف کی پہلی رپورٹ 27 دسمبر کو بھیجی جبکہ پچیس دسمبر کو ان کی ضمانت کا وقت ختم ہو گیا تھا۔ جس کے بعد ہم نے میڈیکل بورڈ کے ممبران کی میٹنگ بلائی تا کہ وہ ان کی رپورٹیں دیکھیں اور ہمیں بتائیں کہ ضمانت میں توسیع کی کی ضرورت ہے یا نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Samir Hussein
Image caption اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے ڈاکٹر یاسمین راشد سے کہا ہے کہ میاں نواز شریف کی میڈیکل رپورٹیں منگوا کر عوام کے سامنے رکھی جائیں۔

میڈیکل بورڈ نے رپورٹیں پڑھنے کے بعد ہمیں یہ لکھ کر بھیجا کہ ان رپورٹوں میں کوئی نئی بات ہے نا ہی کوئی نئی انویسٹیگیشن ہوئی ہے۔ نواز شریف کے ذاتی معالج نے خط لکھا جس میں انہوں نے کہا کہ ہم پیٹ سکین لندن میں کروا رہے ہیں۔ جبکہ ہم نے نواز شریف کو پیٹ سکین پاکستان میں بھی کروانے کی آفر کی تھی جسے نواز شریف نے انکار کر دیا تھا۔

پیٹ سکین بیماری کی تشخیص کرنے کے لیے ایک ایسا سکین ہوتا ہے جو جسم کی تھری ڈی تصویر کشی کرتا ہے۔

ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ پیر کو جب تصویر میں نواز شریف کو دیکھا کہ ریسٹورنٹ میں بیٹھ کر چائے پی رہے ہیں تو میں نے ڈاکٹر عدنان کو ساڑھے تین بجے کال کی اور کہا کہ نواز شریف کی صحت خراب ہے، انھیں سٹروک کا خطرہ ہے لیکن اب وہ تو سیر سپاٹے کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر یاسمین راشد نے مریم نواز پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف صاحب کی بیٹی بھی تیمار داری کی اجازت مانگ رہی ہیں کیا بیٹی ابا کی تیمار داری ریسٹورنٹ میں کریں گی۔

یاد رہے کہ مریم نواز کا نام حکومت کی جانب سے پہلے ہی ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا جا چکا ہے۔

میاں نواز شریف کے صاحبزادے حسن نواز کا اِس معاملے پر کہنا ہے کہ ' نواز شریف کا علاج جاری ہے۔ جبکہ کرسمس کی چھٹیوں کے باعث وہ ہسپتال نہیں جا رہے تھے۔ ہم نے لاہور ہائی کورٹ میں جو رپورٹیں جمع کروائی ہیں ان میں یہ لکھا ہوا ہے کہ دن میں دو مرتبہ چہل قدمی اُن کے لیے ضروری ہے جبکہ اِس دوران ان کی سانس پھول جاتی ہے۔'

حسن نواز نے کہا کہ میاں نواز شریف کو اپارٹمنٹ میں بیٹھے بیٹھے گھبراہٹ ہونے لگی تھی۔ ہماری پوری فیملی نے مل کر انہیں کہا کہ آپ گھر سے باہر نکلیں۔ 'اس لیے ہم انہیں ہوا خوری کے لیے باہر لے کر گئے تھے۔ یہ افسوناک بات ہے کہ اسے سیاسی رنگ دے دیا گیا۔'

تاہم صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے حسن نواز کے اس بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہوا خوری باہر ہوتی ہے ریسٹورنٹ میں نہیں۔ ایک شخص کو کہا گیا ہے کہ سٹروک کا خطرہ ہے تو اسے معالج کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ ہوم ڈیپارٹمنٹ نے نواز شریف کو خط لکھا ہے اور کہا ہے کہ ہمارے میڈیکل بورڈ کے مطابق جو رپورٹیں جمع کروائی گئی ہیں وہ نہ کافی ہے اس لیے آپ اپنے علاج کی رپورٹیں جلدی بھیجیے تا کہ ہم عدالت میں جمع کروا سکیں۔

ڈاکٹر یاسمین راشد کا مزید کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم نے نواز شریف کو علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے کی اجازت دی تھی۔ 'اسی وجہ سے یہ ہمارے لیے پریشانی کی بات ہو گئی ہے کیونکہ وہ عدالت سے سزا یافتہ ہیں۔'

اسی بارے میں