کوئٹہ میں ایک دن: بلوچستان کے دارالحکومت کے معروف سیاحتی مقامات کون سے ہیں؟

کوئٹہ

اگر آپ نے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے مختصر دورے کا پروگرام بنایا ہے تو یہاں ایسے بہت سے مقامات ہیں جن کی سیر آپ باآسانی ایک دن میں کر سکتے ہیں۔

ویسے تو یہاں گھومنے پھرنے اور دیکھنے کے لائق بہت سے مقامات ہیں مگر ہم آپ کو چار ایسے مقامات کے بارے میں بتانے جا رہے ہیں جنھیں آپ ایک دن میں کسی مشکل کے بغیر دیکھ سکتے ہیں۔

ہنہ جھیل اور اوڑک

یہ دونوں علاقے ایک دوسرے سے متصل ہیں۔ اگر گاڑی نہیں تو کوئی بات نہیں، یہاں تک تو رکشے یا موٹر سائیکل پر بھی باآسانی پہنچا جا سکتا ہے۔

موسمِ بہار میں ان علاقوں کا جو فطری حسن ہوتا ہے، خزاں کا موسم اسے کسی حد تک گہنا دیتا ہے۔ مگر پہاڑوں کی آغوش میں واقع ان علاقوں کی خوبصورتی یہاں آنے والوں کو پورا سال ہی خوش آمدید کہتی ہے۔

یہ علاقہ فطری حسن سے تو مالا مال تھا ہی لیکن برطانوی راج میں یہاں سنہ 1894 میں ایک مصنوعی جھیل بنا دی گئی جس کے باعث یہاں سارا سال پانی کی موجودگی سیاحوں کی تفریح کا ایک مستقل ذریعہ بن گئی ہے۔

تقریباً تین دہائی قبل یہاں کشتی رانی بھی شروع کی گئی۔ جن دنوں جھیل میں پانی کافی مقدار میں موجود ہوتا ہے اس عرصے میں کشتی رانی کا لطف بھی اٹھایا جا سکتا ہے۔

یہاں ہماری ملاقات کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے عظیم ہدایت اور ان کے ساتھ آئے ان کے مہمانوں سے ہوئی۔ ان کے مہمان سندھ کے ضلع گھوٹکی سے آئے تھے جو کہ کشتی رانی سے محظوظ ہو رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

’تھر کی ہوا، آدمی کو عاشق بنا دیتی ہے‘

بہاولپور کا نور محل: محبت کی یادگار یا مہمان خانہ

برف باری چھوڑیں، پوٹھوہار کے قلعے ملاحظہ فرمائیں!

عظیم ہدایت کا کہنا تھا کہ پہاڑوں کے درمیان ہونے کے باعث یہ علاقہ خوبصورت ہے تاہم انھوں نے تجویز پیش کی کہ اس علاقے کے حسن کو بڑھانے کے لیے زیادہ سے زیادہ شجر کاری کی ضرورت ہے۔

ہنہ جھیل سے لطف اندوز ہونے کے بعد اوڑک کا بھی رخ کیا جا سکتا ہے جو ہنہ جھیل کے نزدیک صرف دو منٹ کی دوری پر واقع ہے۔

یہاں سیب اور آڑو کے باغات ہیں۔ ان باغات کے درخت پھل دار ہیں اور خزاں کے موسم میں زردی مائل ہونے والے پتے پت جھڑ کا شکار ہیں۔

یہ دونوں علاقے ایسے ہیں جہاں نہ صرف برفباری زیادہ ہوتی ہے بلکہ اس علاقے میں سردی زیادہ ہونے کی وجہ سے برف پگھلنے میں بھی کچھ وقت لگتا ہے جس سے ان علاقوں کا حسن دوبالا ہو جاتا ہے۔

جبل نور القرآن

کوئٹہ

ہنہ اوڑک کے بعد جبل نور القرآن کے نام سے مشہور پہاڑی چلتے ہیں جہاں غار بنے ہوئے ہیں۔ بروری میں واقع شہر کے مرکزی علاقے سے جبل نور القرآن صرف چند منٹ کے فاصلے پر ہے۔

پہاڑی علاقوں میں بہت سارے غار اب بھی موجود ہیں جن میں لوگ زمانہ قدیم میں رہائش اختیار کرتے تھے لیکن جبل نور القرآن کے غار زمانہ قدیم کے نہیں ہیں بلکہ ان کو 25 سال پہلے بعض رضاکاروں نے اپنی مدد آپ کے تحت قرآن مجید کے شہید ہونے والے اوراق کو محفوظ بنانے کے لیے بنوایا ہے۔

اس پہاڑ پر 15 سے زائد بڑے غاروں کے علاوہ چھوٹے چھوٹے غار بھی ہیں جن میں سے بعض کی لمبائی بہت زیادہ ہے۔

کوئٹہ

ان غاروں میں اس وقت قرآن مجید کے لاکھوں شہید نسخے محفوظ ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جو نسخے دوبارہ مطالعے کے قابل ہوتے ہیں ان کو دوبارہ جِلد کر کے مدارس اور مساجد کے حوالے کیا جاتا ہے۔

جبل نور القرآن اب صرف قرآن مجید کے شہید ہونے والے نسخوں کو محفوظ کرنے کی جگہ ہی نہیں رہی بلکہ یہ سیاحت کا بھی ایک بڑا مرکز بن گیا ہے جہاں روزانہ سیاحوں کی ایک بڑی تعداد آتی ہے۔

یہاں ہم نے بہت سارے لوگوں کو نوافل ادا کرتے دیکھا جبکہ بعض لوگ قرآن مجید کی تلاوت کرتے بھی دکھائی دیے۔

یہاں آنے والے لوگوں نے بتایا کہ سیاحت کے ساتھ ساتھ وہ روحانی سکون اوردعائیں مانگنے کے لیے بھی یہاں آتے ہیں۔

نصیر خان نوری کمپلیکس میں موجود عجائب گھر

کوئٹہ

آپ نے ایک ٹکٹ میں دو مزے لینے والی بات تو سنی ہو گی لیکن کوئٹہ کے سیاحتی مقامات کی سیر کرتے ہوئے اس کا عملی مظاہرہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

جبل نور القرآن سے صرف 10 منٹ کی مسافت پر نصیر خان نوری کمپلیکس موجود ہے۔

نصیر خان نوری کمپلیکس میں ایک میوزیم موجود ہے جن کو دیکھنے کے بعد یہ احساس ہوتا ہے کہ بلوچستان آثار قدیمہ کے حوالے سے دنیا بھر میں کافی مشہور ہونا چاہیے۔

آثار قدیمہ کے مشہور مقامات تو مہر گڑھ اور دیگر ہیں لیکن بہت سے مقامات ایسے ہیں جو کہ اب بھی لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہیں۔

بلوچستان میں ان آثار قدیمہ کو محفوظ بنانے کے لیے تاحال مناسب انتظام نہ ہونے کی وجہ سے یہاں سے برآمد ہونے والے زیادہ تر آثار کراچی کے میوزیم میں تھے جنھیں اب دوبارہ حکومتِ بلوچستان نے حاصل کیا ہے۔

کوئٹہ

محکمہ آثار قدیمہ کے حکام کا کہنا ہے کہ ان کو یونیورسٹی کے قریب جدید میوزیم کی تعمیر مکمل ہونے پر وہاں منتقل کیا جائے گا۔

تاہم مہر گڑھ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں سے ملنے والے آثارِ قدیمہ میں سے بعض کو اسپنی روڈ پر قائم اس میوزیم میں رکھا گیا ہے۔

یہاں ہمیں کئی حوالوں سے منفرد چیزیں دیکھنے کو ملیں جن میں گلے کا ایک ایسا ہار بھی ہے جو کہ ماہرین کے مطابق مہر گڑھ سے ملا تھا۔

اس میوزیم میں ڈھاڈری بندوق بھی دیکھنے کو ملے گی اور ایسی بندوقیں بھی جن پر قرآن مجید کی آیات کندہ ہیں۔

کوئٹہ

لنجو پارک

ان تینوں مقامات سے لطف اندوز ہونے کے بعد اگر آپ کے پاس وقت ہے اور آپ مزید علاقے دیکھنا چاہتے ہیں تو لنجو پارک چلیں۔

کوہ چلتن کے دامن میں واقع یہ علاقہ بھی بہت زیادہ دور نہیں۔ اپنی سواری ہو تو کوئٹہ شہر سے اس پارک پہنچنے میں صرف 45 منٹ لگتے ہیں اور اگر گاڑی نہیں ہے تو مستونگ جانے والی بسوں میں سوار ہو کر یہاں ایک گھنٹے میں پہنچا جا سکتا ہے۔

لنجو پارک بلوچ اور پشتون قبائل کے ثقافتی رنگوں سے مزین ہے۔

کوئٹہ

دنیا کے دیگر علاقوں میں تفریحی مقامات پر جدید قیام گاہیں بنائی جاتی ہیں لیکن یہاں ایسا کرنے کی بجائے گدان یا کژدی (روایتی خیمے) لگائے گئے ہیں جن میں قیام کر کے پرانے زمانے کی یاد تازہ ہوتی ہے۔

دشت میں قائم کیے جانے والے اس نئے پارک میں سوئمنگ پول بھی بنایا گیا ہے جہاں سردی کے موسم میں تو نہیں لیکن گرمیوں کے موسم میں تیراکی کا بھی خوب لطف اٹھایا جا سکتا ہے۔

دیگر سہولیات کے ساتھ ساتھ بچوں کی سیر و تفریح کے مواقع بھی یہاں فراہم کیے گئے ہیں۔

یہاں ہم نے سیاحوں کو اپنا کھانا خود تیار کرتے بھی دیکھا۔

کوئٹہ

بعض خیموں کے سامنے لوگوں کو روایتی سجی بناتے اور اس سے لطف اندوز ہوتے بھی دیکھا۔

سردیوں میں بسا اوقات اس پہاڑ کے بہت سارے حصے برف سے ڈھک جاتے ہیں۔

لوگ برفباری اور اس کے بعد برف پگھلنے تک اس سے لطف اندوز ہونے کے لیے بھی اس علاقے کا رخ کرتے ہیں تاہم بہار میں خودرو جھاڑیوں، ان پر لگے رنگ برنگے پھول اوران سے اٹھنے والی خوشبو اس علاقے کے حسن کو دوبالا کرتے ہیں۔

۔

اسی بارے میں