رانا ثنااللہ: اے این ایف نے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے ضمانت کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

رانا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اینٹی نارکوٹکس فورس نے حزب مخالف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے رکن قومی اسمبلی رانا ثنا اللہ کو منشیات کے مقدمے میں لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے دی گئی ضمانت کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔

بدھ کو دائر کی گئی اس اپیل میں استدعا کی گئی ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے کیونکہ عدالت نے اس مقدمے کے حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا۔

خیال رہے کہ رانا ثنااللہ کو لاہور ہائی کورٹ نے گذشتہ برس 23 دسمبر کو ضمانت پر رہا کیا تھا۔ اے این ایف نے ان پر 15 کلو ہیروئن کی برآمدگی کا مقدمہ بنایا تاہم عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ ملک میں جاری سیاسی انتقام ایک کھلا راز ہے جسے اس مقدمے میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیے

رانا ثنا اللہ کیس میں ’تاریخ پر تاریخ‘ کیوں؟

شہریار آفریدی: ویڈیو نہیں، فوٹیج کی بات کی تھی

رانا ثنا اللہ کیس:’انتقامی کارروائی کا پہلو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا‘

رانا ثناللہ کے مقدمے پر اپنا رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ انسداد منشیات کے ادارے اے این ایف کے سربراہ میجر جنرل عارف ملک نے کہا ہے کہ اگر معاملات حلف اُٹھانے سے ہی طے ہونے ہیں تو بہتر ہے کہ عدالتوں کو تالے لگا دیں۔

یہ بات اُنھوں نے انسداد منشیات سے متعلق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں کے ایک سوال کے جواب میں کہی۔

میڈیا کے نمائندوں نے اے این ایف کے سربراہ سے سوال کیا تھا کہ کیا وہ یہ بات حلف پر کہنے کو تیار ہیں کہ رانا ثنا اللہ کے خلاف جو منشیات کا مقدمہ درج کیا گیا ہے وہ حقیقت پر مبنی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر رانا ثنا اللہ بے گناہ ہیں تو اس کے ثبوت عدالت کو دیں۔

میجر جنرل عارف ملک کا کہنا تھا کہ سرے عام قتل کرنے والے بندے نے کبھی یہ تسلیم نہیں کیا کہ وہ مجرم ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ رانا ثنا اللہ نے اس مقدمے کو جعلی قرار دینے کے بارے میں حلف اُٹھایا جبکہ شہر یار آفریدی نے اس مقدمے کے درست ہونے کے بارے میں حلف اُٹھایا تو ایسے حالات میں بہتر ہے کہ لاٹری نکال دیں جس سے معلوم ہو جائے گا کہ کون گنہگار ہے اور کون بے گنا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اے این ایف کے سربراہ مزید کسی سوال کا جواب دیے بغیر اپنی گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہو گئے۔

منگل کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی رانا ثنا اللہ اور وزیر مملکت شہریار آفریدی کا بھی منشیات کے مقدمے کا معاملہ ایوان میں اُٹھایا۔

ایم این اے رانا ثنا اللہ نے حلف اُٹھا کر کہا کہ ان کے خلاف درج ہونے والا مقدمہ جھوٹا ہے اور اس معاملے کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی یا عدالتی کمیشن بنایا جائے۔ اُنھوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے خلاف وزیر اعظم اور شہریار آفریدی نے سازش کی ہے۔

رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ان کی گرفتاری کے بعد کہا گیا کہ وہ منشیات فروشوں کے گینگ کے اہم رکن ہیں جو افغانستان سے ہیروئن لاکر فیصل آباد اور لاہور کے راستے بیرون ملک سمگل کرتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ ان کی گرفتاری کے بعد سے اے این ایف نے ابھی تک اس گروہ کا ایک رکن بھی گرفتار نہیں کیا جس سے ان کا تعلق جوڑا جائے۔

اینٹی نارکوٹکس کنٹرول کے وزیر شہر یار آفریدی نے حلف اُٹھا کر کہا کہ ان کے خلاف نہ تو وزیر اعظم نے اور نہ ہی اُنھوں نے کوئی سازش کی ہے تاہم اُنھوں نے اس مقدمے کی درست ہونے کے بارے میں کوئی حلف نہیں اُٹھایا لیکن ان کا دعویٰ تھا کہ رانا ثنا اللہ کے خلاف مقدمہ حقیقت پر مبنی ہے۔

اپنے اس بیان کو تقویت دینے کے لیے شہر یار آفریدی کا کہنا تھا کہ رانا ثنااللہ اس مقدمے کی عدالتی کارروائی شروع کروانے میں لیت ولعل سے کام لے رہے ہیں۔

اس وقت قومی اسمبلی کے اجلاس کی صدارت کرنے والے سید فخر امام نے رولنگ دی کہ ایسے معاملات میں قرآن پاک کو نہ لایا جائے اور نہ ہی اپنی بات کو سچا ثابت کرنے کے لیے قسمیں کھائی جائیں۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ منشیات کا مقدمہ عدالت میں ہے اور عدالت ہی اس پر فیصلہ کرے گی۔

منشیات کے مقدمے میں لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے رانا ثنااللہ کی ضمانت کے بعد حکومت ’بیک فٹ‘ پر ہے اور اس مقدمے کے حوالے سے ڈی جی اے این ایف کو بھی وفاقی کابینہ کے اجلاس میں طلب کرکے ان سے تفصیلات حاصل کی گئیں تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption صحافیوں کے پوچھنے پر وزیر مملکت برائے داخلہ امور نے اصرار کیا کہ انھوں نے صرف فوٹیج کا لفظ استعمال کیا تھا جس کو غلط رنگ دیا گیا اور کہا گیا کہ انھوں نے ویڈیو شواہد کا ذکر کیا ہے

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کی سفارشات

دوسری طرف انسداد منشیات کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رکن نور عالم خان نے تجویز دی کہ 20گرام منشیات کا جرمانہ 20 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار روپے کر دیا جائے۔

اے این ایف کے افسر برگیڈیئر صغیر احمد نے قائمہ کمیٹی کے ارکان کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ایران اور افغانستان سے بھاری مقدار میں منشیات آ رہی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ بلوچستان بارڈر پر ڈرگ سمگلنگ کا کام جاری ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ’آئیس ڈرگ‘ نوجوانوں کو آسانی سے مل جاتی ہے اور طلبا زیادہ تر امتحانات کے دوران اس کے عادی ہو جاتے ہیں۔

برگیڈئیر صغیر احمد کا کہنا تھا کہ ڈرگ استعمال کرنے والوں کا ٹرینڈ تبدیل ہو گیا مگر قوانین پرانے ہی ہیں۔

سیکرٹری نارکوٹکس کنٹرول امجد جاوید سلیمی کا کہنا تھا کہ بلوچستان اور پختون خواہ سے زیادہ منشیات پکڑی جاتی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ جو لوگ چرس کا کام کرتے تھے اب وہ آئیس اور دیگر منشیات فروخت کرنے لگ گئے ہیں۔

کمیٹی کی رکن عظمیٰ ریاض نے تجویز دی کہ سکول کالجز میں طلبا کے داخلے کے وقت ان کا میڈیکل چیک اپ کروایا جائے۔

اسی بارے میں