اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کشمیر کی صورتحال کا جائزہ، انڈیا اور پاکستان کی جانب سے متضاد دعوے

سکیورٹی کونسل تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اقوام متحدہ میں بدھ کو ایک بار پھر کشمیر کا معاملہ اس وقت زیرِ بحث آیا جب سلامتی کونسل کے ایک بند کمرہ اجلاس میں اقوام متحدہ کے مبصرین نے کشمیر کے ساتھ ساتھ پاکستان اور انڈیا کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول کی حالیہ صورتحال پر بریفنگ دی ہے۔

گذشتہ پانچ ماہ کے دوران سلامتی کونسل میں چین کی درخواست پر کشمیر کے مسئلے پر دوسرا اجلاس ہے۔ گذشتہ سال اگست کے دوران سلامتی کونسل کے اراکین نے کشمیر کے مسئلے کے پُرامن حل پر زور دیا تھا اور کہا تھا کہ پاکستان اور انڈیا اپنے مسائل باہمی طور پر حل کریں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق حالیہ اجلاس میں کئی ممالک نے انڈیا کے زیرِانتظام کشمیر کی صورتحال پر تشویش ظاہر کی جبکہ انڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی رکن نے پاکستان کے الزامات پر ان کی حمایت نہیں کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اگست 2019 میں کشمیر پر سلامتی کونسل کے اجلاس میں کیا ہوا تھا؟

سلامتی کونسل: کشمیر پر مشاورتی اجلاس کا مطلب کیا ہے؟

کشمیر کی حیثیت میں تبدیلی: پاکستان اب کیا کر سکتا ہے؟

سلامتی کونسل اجلاس کا جشن کب تک؟

سلامتی کونسل کے اجلاس میں کیا ہوا؟

اجلاس کے بارے میں جمعرات کو پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس میں اقوام متحدہ کے مبصرین نے صورتحال پر وضاحت پیش کی۔ ’بتایا گیا کہ پانچ اگست سے کشمیر میں انڈیا کے اقدامات سے مقامی صورتحال تناؤ کا شکار ہے۔ سیاسی رہنماؤں کی گرفتاریاں کی گئی ہیں جبکہ انٹرنیٹ اور مواصلاتی نظام کی بندش ہے۔‘

پاکستان کے مطابق ’کئی ممالک نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی صورتحال پر تشویش ظاہر کی ہے جہاں کشمیریوں کے لیے کرفیو ہے اور مزید کشیدگی کا خطرہ ہے۔‘

بیان میں پاکستان کی جانب سے کشمیر کے مسئلے کا جائزہ لینے پر سلامتی کونسل کا شکریہ بھی ادا کیا گیا ہے۔

سلامتی کونسل کے مستقل رکن چین کے مندوب زینگ جن نے اجلاس کے بعد نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر کے باہر صحافیوں کو بتایا تھا کہ ’جموں اور کشمیر پر ہماری ایک ملاقات ہوئی ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ 15 ارکان کی کونسل کے اجلاس میں کشمیر کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی ہے۔

جب ان کے پوچھا گیا کہ کشمیر پر چین کا کیا موقف ہے تو انھوں نے جواب دیا کہ ’ہمارا موقف واضح ہے۔ امید ہے اس ملاقات سے دو فریقوں کے درمیان مزید تناؤ کے خطرات کے بارے میں سمجھنے میں مدد ملے گی اور مذاکرات کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کی جائے گی تاکہ اس سے حل تلاش کیا جا سکے۔۔۔ یہ مددگار ثابت ہو گا۔‘

تاہم چین کے نمائندے نے اس حوالے سے کوئی وضاحت نہیں دی کہ اقوام متحدہ کے مبصرین نے اپنی رپورٹ میں کشمیر اور لائن آف کنٹرول کی صورتحال کے بارے میں کیا کہا۔

’جنوبی ایشیا کے امن کو خطرات لاحق ہیں‘

اس اجلاس کے بعد امریکہ میں ہی موجود پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ انھوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس سے ملاقات میں بھی خطے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ اٹھایا ہے۔

شاہ محمود قریشی کے مطابق اس ملاقات میں انھوں نے ’کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور جنوبی ایشیا کے امن کو لاحق خطرات کا ذکر کیا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’نہتے کشمیریوں کو ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری معصوم کشمیریوں کو نجات دلائیں۔

’ذرائع ابلاغ پر مکمل پابندی اور مواصلات کے بلیک آؤٹ کے ذریعے حقائق کو دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/@AkbaruddinIndia

انڈیا: ’کسی نے پاکستان کی حمایت نہیں کی‘

ادھر اقوام متحدہ میں انڈیا کے مندوب سید اکبرالدین نے اجلاس کے بعد ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’آج اقوام متحدہ میں ہمارا پرچم بلند لہرا رہا ہے۔ جھوٹ بولنے کی کوشش کرنے والوں کو بھرپور جواب دیا ہے۔‘

انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ: ’پاکستان نے ایک بار پھر یہ مسئلہ اٹھانے کی کوشش کی لیکن کسی نے ان کی حمایت نہیں کی۔ ہمیں خوشی ہے کہ اقوام متحدہ نے پاکستان کی طرف سے عائد کردہ الزامات کو بحث کے قابل نہیں سمجھا۔‘

گذشتہ سال اگست کے دوران سعید اکبرالدین نے سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد کہا تھا کہ انڈیا کا کشمیر کے معاملے میں آرٹیکل 370 کے بارے میں لیا گیا قدم انڈیا کا اندرونی معاملہ ہے اور جو بھی مسائل ہیں وہ شملہ معاہدے کے تحت ہی حل کیا جائے گا۔

اگست 2019 میں انڈیا کی جانب سے اپنے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے چین نے تین مرتبہ سلامتی کونسل میں کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لینے کی درخواست کی ہے۔ ان میں میں گذشتہ سال اگست اور دسمبر جبکہ رواں سال جنوری شامل ہیں۔

اسی بارے میں