سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی جانب سے سنگین غداری کے جرم میں سزائے موت کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر

پرویز مشرف تصویر کے کاپی رائٹ ASIF HASSAN
Image caption پرویز مشرف نے 1999 میں نواز شریف کی حکومت کو برطرف کر کے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا

سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے گذشتہ برس دسمبر میں آئین شکنی کے مقدمے میں خصوصی عدالت کی طرف سے سنائی گئی سزائے موت کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر کی طرف سے دائر کی گئی اس اپیل میں وفاق اور خصوصی عدالت کو فریق بنایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’ملزم پرویز مشرف بنام سرکار حاضر ہوں‘

سپیشل کورٹ غیر آئینی، لیکن کیا سزا بھی ختم ہوئی؟

پیرا 66 سے آگے: خصوصی عدالت کے فیصلے میں کیا ہے؟

اس اپیل میں کہا گیا ہے کہ خصوصی عدالت نے آئین شکنی کے مقدمے پر فیصلہ سناتے ہوئے نہ تو ملزم کے وکیل کو سنا اور نہ ہی اُنھیں شفاف ٹرائل کا موقع دیا گیا۔

اپیل میں یہ موقف بھی اپنایا گیا ہے کہ خصوصی عدالت نے ضابطہ فوجداری کے قواعد کو سامنے نہیں رکھا اور ان کے موکل کو ان کی عدم موجودگی میں موت کی سزا سنائی گئی ہے جو کہ خلافِ قانون ہے لہٰذا خصوصی عدالت کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔

واضح رہے کہ خصوصی عدالت نے گذشتہ سال دسمبر میں آئین شکنی کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو پانچ بار سزائے موت کا حکم دیا تھا۔

اس اپیل میں کہا گیا ہے کہ خصوصی عدالت کا فیصلہ اسلامی ریاست کے بنیادی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔ اس کے علاوہ پرویز مشرف کی طرف سے ایک متفرق درخواست بھی دائر کی گئی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے سنگین غداری کیس کی شکایت داخل کرنے کے لیے وفاقی حکومت کی منظوری نہیں لی گئی۔

عدالت غیر آئینی تو سزا کے خلاف اپیل کیوں؟

واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سابق فوجی صدر کے خلاف آئین شکنی کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کی تشکیل کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔

نتیجتاً یہ سوال موجود ہے کہ جب لاہور ہائی کورٹ نے اس خصوصی عدالت کو غیر آئینی قرار دیا ہے تو کیا اس کی سنائی گئی سزا بھی اس کے ساتھ ختم نہیں ہو گئی؟ اور ایسی صورت میں اس پہلے سے ختم سزا کے خلاف اپیل کیسے دائر کی جا سکتی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کچھ آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب لاہور ہائی کورٹ نے خصوصی عدالت کی تشکیل کو ہی غیر آئینی قرار دیا ہے تو پھر اس عدالت کے فیصلے بھی غیر قانونی قرار پا کر ختم ہوجائیں گے۔

تاہم کچھ قانونی ماہرین اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ خصوصی بینچ کی تشکیل سپریم کورٹ کے حکم پر ہوئی تھی اس لیے سپریم کورٹ کی ایک ماتحت عدالت سپریم کورٹ کے حکم پر تشکیل کردہ عدالت کو کیسے ختم کرسکتی ہے؟

اس حوالے سے پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آئین شکنی کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کی تشکیل کے خلاف لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ ایک رٹ پٹیشن پر آیا تھا جو کہ خصوصی عدالت کی طرف سے پرویز مشرف کو موت کی سزا سنانے کے فیصلے سے پہلے دائر کی گئی تھی۔

اُنھوں نے کہا کہ اگرچہ لاہور ہائی کورٹ میں یہ رٹ گذشتہ تین ماہ سے زیر سماعت تھی لیکن اس کے باوجود خصوصی عدالت نے آئین شکنی کے مقدمے کا فیصلہ سنا دیا۔

سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ رٹ پٹیشن پر سزائیں ختم نہیں ہوتیں اور وہ سزا صرف اپیل کے ذریعے ہی ختم ہوگی۔ اُنھوں نے کہا کہ ان کے پاس خصوصی عدالت کے اس فیصلے کے اپیل دائر کرنے کا آج آخری دن تھا۔

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کے مقدمے کی فریق وفاقی حکومت ہے تاہم ابھی تک اس بات کے امکانات بہت کم ہیں کہ وہ لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرے گی۔

Image caption سپریم کورٹ نے پانامہ لیکس کے معاملے میں وزیراعظم نواز شریف سمیت دیگر متعلقہ افراد سے دو ہفتے میں جواب طلب کیا ہوا ہے

قانونی ماہر اور اسلام آباد کے سابق ایڈووکیٹ جنرل طارق محمود جہانگیری کا کہنا ہے کہ اگر وفاق اس فیصلے کے خلاف اپیل میں نہیں جاتی تو کوئی بھی شخص لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں یہ موقف لے کر درخواست دائر کرسکتا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوئے۔

اُنھوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ اس درخواست کو از خود نوٹس میں تبدیل کرکے اس کو سماعت کے لیے مقرر کرسکتی ہے۔

پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین امجد شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات کے روز پاکستان بار کونسل کے اجلاس میں خصوصی عدالت کی تشکیل کو کالعدم قرار دینے سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر غور ہوگا۔

اُنھوں نے کہا کہ اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا عدالت عالیہ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا یا نہیں۔

اسی بارے میں