سندھ حکومت آئی جی کلیم امام سے بھی ناخوش: صوبائی حکومت کو پولیس سربراہان سے مسئلہ کیا رہا ہے؟

کلیم امام تصویر کے کاپی رائٹ SINDH POLICE
Image caption سندھ میں پولیس کے سربراہان کی تعیناتی صوبائی حکومت کے لیے مسئلہ رہی ہے

پاکستان کے صوبہ سندھ میں حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اپنے دور میں پولیس کے ایک اور صوبائی سربراہ کو اس کے عہدے سے ہٹانے کے درپے نظر آ رہی ہے۔

سندھ کی کابینہ نے آئی جی پولیس کلیم امام کو ہٹانے کی منظوری دے دی ہے اور اس سلسلے میں صوبائی حکومت کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو آگاہ بھی کر دیا گیا تھا۔

صوبائی وزیر سعید غنی نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں آئی جی سندھ پر چارج شیٹ جاری کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ وہ صوبے میں امن و امان قائم نہیں رکھ سکے ہیں، انھوں نے ارشاد رانجھانی قتل کیس اور دعا منگی اور بسمہ کے اغوا کا بھی حوالہ دیا جو تاوان کی ادائیگی کے بعد رہا ہوئیں۔

انھوں نے کلیم امام پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے مسلسل نظم و ضبط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے براہ راست سفارت کاروں سے ملاقاتیں کیں اس حوالے سے صوبائی اور وفاقی حکومت سے کوئی اجازت نہیں لی گئی۔

یہ بھی پڑھیے

وزیر اعلیٰ پنجاب کا معافی نامہ قبول

زخمی ملزمان کے سر میں گولی مارنے والا پولیس اہلکار گرفتار

کراچی: ٹرک ڈرائیوروں کی ہلاکت کی ایف آئی آر درج

ادھر حکومت سندھ کے ترجمان مرتضیٰ وہاب کا دعویٰ ہے کہ کراچی میں موٹرسائیکل اور کار چھیننے، چوریوں اور سٹریٹ کرائم کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اس حوالے سے انہوں نے سٹیزن پولیس لیاژان کمیٹی کے اعداد و شمار پیش کیے۔

تاہم آئی جی دفتر کے ذرائع ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کاد عویٰ ہے کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے، عوام کا اعتماد بحال ہوا جس کا ثبوت مقدمات درج کروانے کی شرح میں 23 فیصد اضافہ ہے۔ اس کے علاوہ سٹریٹ کرائم میں سات فیصد کمی آئی اور 54 فیصد مفرور ملزمان گرفتار کیے گئے ہیں۔

آئی جی کا دفتر حکومت کے عدم تعاون کی شکایت کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ رواں مالیاتی سال میں درخواست کے باوجود اسلحہ اور گاڑیوں کی خریداری نہیں کی گئی، سیف سٹی منصوبے پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہوا اور نہ ہی فورنسک ایجنسی کا قیام عمل میں لایا گیا ، اسی طرح انویسٹی گیشن کمپلیکس ، نئے پولیس تھانوں اور پولیس لائن کے منصوبے بھی تعطل کا شکار ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ SINDH POLICE

ترجمان حکومت مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ آئی جی کو قانون کے مطابق صوبائی اور وفاقی حکومت کی باہمی مشاورت سے ہٹایا جائے گا۔

ان کے مطابق وزیر اعلیٰ نے دسمبر میں وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات میں آگاہی دی تھی کہ ان کی حکومت کا آئی جی پر کوئی اعتماد نہیں رہا، امن و امان کے حوالے سے پولیس آزاد ہے لیکن تنقید کا نشانہ انہیں بننا پڑتا ہے۔ مرتصیٰ وہاب کے مطابق وزیر اعظم نے اس سے اتفاق کیا تھا۔

حکومت سندھ کے شکوے شکایات بظاہر امن و امان کے قیام کے حوالے سے نظر آتے ہیں لیکن اگر بیانات اور واقعات کا مشاہدہ کیا جائے تو اختلافات کی ایک اہم وجہ ایس ایس پیز اور ڈی آئی جیز کے تبادلے اور تعیناتی نظر آتی ہے جس کا ذکر صوبائی وزرا کی پریس کانفرنس میں بھی ملتا ہے۔

سعید غنی کا کہنا تھا کہ جب ڈی آئی جی خادم رند کا تبادلہ کیا گیا تو آئی جی نے چیف سیکریٹری کو ایک خفیہ خط لکھا جس میں خادم رند کی تبادلے پر احتجاج کیا اور اس خطے کی کاپی میڈیا میں لیک کی۔

صوبائی وزیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ شکارپور کے ایس ایس پی رضوان احمد کی تعیناتی کے لیے آئی جی کلیم امام نے دباؤ ڈالا اس کے باوجود کے انہوں نے 22 لوگوں پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔

آئی جی دفتر کا کہنا ہے کہ 2008 میں جیکب آباد میں پولیس چوکی پر حملے پانچ اہلکاروں کی ہلاکت اور لاشوں کے بے حرمتی کے مقدمے میں ایک ملزم محمد صلاح شہلیانی کو گزشتہ سال گرفتار کیا گیا، جس کی گرفتاری کے فوری بعد صوبائی حکومت نے ایس ایس پی قیوم پتافی کا تبادلہ کردیا۔ یاد رہے کہ گرفتار ملزم ایک سابق رکن سمبلی کا قریبی رشتے دار ہے اور مقامی طور پر بڑا اثر رسوخ رکھتا ہے۔

ملزم کو جیکب آباد سے شکارپور جیل منتقل کیا گیا، جہاں سے اسے عدالت میں پیش کیا جانا تھا بعض ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ ذاتی گاڑی میں بغیر ہتھکڑیوں کے انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش ہوتے تھے ایس ایس پی رضوان میمن کے حکم پر اس ملزم کو ہتھکڑیاں لگائی گئیں۔ جس پر انہیں مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

سندھ پولیس کے مرکزی دفتر میں انتظامی پوسٹ پر تعینات ایک ڈی آئی جی پر ایک مشیر اس بات پر ناراض ہوئے کہ انہوں نے اس کا ٹیلیفون اٹینڈ نہیں کیا جس کی شکایت انہوں نے حکام کو کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ SINDH POLICE

ڈی آئی جی خادم حسین رند اور ایس پی رضوان احمد نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور عدالت نے دونوں کا تبادلہ معطل کردیا۔

حکومت سندھ کے ترجمان مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ خادم رند کے بارے میں آئی جی سندھ خود حکومت کو مشورہ دے چکے ہیں کہ انہیں سرینڈر کیا جائے کیونکہ پروفیشنل قابلیت اور ساکھ کے حوالے سے ٹھیک نہیں اور جب حکومت نے ان کا تبادلہ کیا تو اس کی مخالفت کی۔

مرتضیٰ وہاب نے اپنی پریس کانفرنس میں ایس ایس پی شکارپور رضوان احمد کو آئی جی کا منظور نظر قرار دیا اور کہا کہ مقامی لوگوں پر انسداد دہشت گردی کا مقدمہ درج کرنے اور بعد کی تحقیقات کے بعد انہیں ہٹانے کے لیے کہا گیا تو انہوں نے انکار کیا۔

عمرکوٹ ضلع میں تحریک انصاف کے رکن اسمبلی حلیم عادل شیخ جب قافلے کے ساتھ ٹرین حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد سے تعزیت کے کنری پہنچے تو ان پر نامعلوم افراد نے حملہ کیا انہوں نے اس کا مقدمہ صوبائی وزیر نواب تیمور تالپور پر دائر کرنے کی کوشش کی لیکن یہ مقدمہ نہ ہوسکا جس کے بعد عدالت سے رجوع کیا گیا اور نواب تیمور اور دیگر پر یہ مقدمہ دائر ہوا۔

آئی جی نے ایس ایس پی کے تبادلے کی کوشش کی لیکن ایس ایس پی اعجاز شیخ کا تبادلہ نہ ہوسکا۔

ایس ایس پی کراچی غربی کیپٹن اظفر مہیسر کی جانب سے 40 قتل میں ملوث ملزم اقبال ٹھیلے والا کو جب گرفتار کیا تو اس کا یہ بیان بھی سامنے آیا کہ اس نے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ سے بھی ملاقات کی تھی۔ وزیر اعلیٰ نے اس کی شدید تردید کی جس کے بعد وزیر اعلیٰ اور آئی جی میں تبادلے پر بالاخر اظفر مہیسر کا تبادلہ کیا گیا۔

سندھ میں پولیس افسران کی تقریاں اور تبادلے کافی عرصے سے متنازع بنی ہوئی ہیں۔ سندھ حکومت نے پولیس اختیارات کے فوری حصول کے لیے مشرف دور کے پولیس آرڈر کو بحال کرنے کی منظوری دی تھی۔ جس کے تحت پبلک سیفٹی کمیشن قائم کی گئی ۔ تاہم انسپکٹر جنرل سندھ کا مؤقف رہا ہے کہ پولیس کے انتظامی اور آپریشنل اختیارات آئی جی کو حاصل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Sindh Police
Image caption 2016 سے جنوری 2018 کے درمیان حکومت سندھ نے تین بار اے ڈی خواجہ کو ہٹانے کا فیصلہ کیا لیکن عدالت نے یہ نوٹیفیکیشن مسترد کر دیے

سنہ 2008 سے سندھ میں حکمران پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ آئی جی پولیس کے اختلافات کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے قبل اے ڈی خواجہ کو بھی ہٹانے کی کوشش کی گئی تھی۔ اے ڈی خواجہ اور حکومت میں تبادلوں ، تعیناتیوں اور بھرتیوں پر اختلافات سامنے آئے تھے۔

2016 سے جنوری 2018 کے درمیان حکومت سندھ نے تین بار اے ڈی خواجہ کو ہٹانے کا فیصلہ کیا لیکن عدالت نے یہ نوٹیفیکیشن مسترد کر دیے۔ سندھ ہائی کورٹ نے حکم دیا تھا کہ اے ڈی خواجہ پانچ سال تک اس منصب پر کام کریں، بعد میں ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف حکومت سندھ نے بھی سپریم کورٹ سے رجوع کیا عدالت عالیہ نے حکومت کی درخواست مسترد کی اور تبادلوں اور تعیناتیوں کا اختیار اے ڈی خواجہ کے پاس برقرار رکھا تھا۔

اے ڈی خواجہ کی تعیناتی سے قبل عدالت کے حکم پر آئی جی غلام حیدر جمالی کو ہٹایا گیا تھا تاہم انھیں بچانے کی کوشش کی گئی تھی۔ غلام حیدر جمالی پر قواعد کے خلاف ورزی کرتے ہوئے بھرتیوں کا الزام تھا جبکہ 2015 میں سندھ ہائی کورٹ کے احاطے میں سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے محافظوں اور صحافیوں پر پولیس تشدد پر انہیں توہین عدالت کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا۔

غلام حیدر جمالی اس وقت قومی احتساب بیورو کے ریفرنس کا سامنا کر رہے ہیں، جس میں ان پر الزام ہے کہ انہوں نے غیر قانونیاں بھرتیاں کیں اور اس کے بدلے رشوت لی۔

عدالت کے حکم پر ثنااللہ عباسی نے یہ تحقیقات کی تھی جو رپورٹ عدالت میں جمع کرائی گئی جس میں کہا گیا کہ پانچ سے سات گریڈ کے 19 ہزار 380 بھرتیاں کی گئی ہیں جن میں سے 4748 قواعد اور ضوابط کے منافی کی گئی ہیں۔ ۔

اے ڈی خواجہ کے دور میں ان امیدواروں کے دوبارہ ٹیسٹ لیے گئے اور جو امیدوار کامیاب ہوئے انھیں ملازمتیں دی گئیں تھیں۔

اسی بارے میں