جنرل بپن راوت: کشمیر میں انتہا پسندی سے متاثر بچوں کے لیے ڈی ریڈکلائزیشن کیمپ

بپن راوت تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت

انڈیا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں لوگوں کو انتہا پسند نظریات سے نکالنے کے لیے حکومت کے ذریعے کیمپ چلائے جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے ’ڈی ریڈیکلائزیشن کیمپ ان لوگوں کے لیے ضروری ہیں جو انتہا پسند نظریات کی گرفت میں آ چکے ہیں‘۔

جنرل راوت نے یہ بات دلی میں منعقدہ 'رائے سینا ڈائیلاگ' میں جمعرات کو ایک مذاکرے میں کہی۔ انھوں نے کہا کہ اس طرح کے کیمپ انڈیا میں موجود ہیں اور ان میں بچوں کو بھی ڈی ریڈیکلائزیشن کے لیے رکھا جاتا ہے۔

یہ پہلی بار ہے جب کسی اعلیٰ اہلکار نے انتہا پسندی کے خیالات سے نکالنے کے لیے کیمپوں کی موجودگی کا اعتراف کیا ہے۔ ان کے اس انکشاف پر سوشل میڈیا میں سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کشمیری خواتین کے مظاہرے پر پولیس کا دھاوا

کشمیر: سخت کرفیو میں انڈیا مخالف مظاہرے جاری

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں پھنسی پاکستانی خواتین

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 9 اگست 2019 کو لی گئی اس تصویر میں انڈیا کے پولیس اہلکار انڈیا کے شہر چنائی میں اپنے زیرِ انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کو گرفتار کر رہے ہیں

جنرل راوت نے کہا ہے کہ انڈیا کے زیر انتطام کشمیر میں دس بارہ برس کے چھوٹے بچوں تک کو ریڈیکلائز کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ایسے لوگوں کو اب بھی رفتہ رفتہ انتہا پسندی سے الگ کیا جا سکتا ہے لیکن ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں پوری طرح ریڈیکلائز کر دیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ 'ایسے لوگوں کو الگ رکھنے کی ضرورت ہے۔ ممکنہ طور پر انہیں کسی ڈی ریڈیکلائزیشن کمیپ میں رکھا جا سکتا ہے۔ ہمارے ملک میں ایسے ڈی ریکلائزیشن کیمپ پہلے سے چل رہے ہیں۔'

انھوں نے مزید کہا کہ 'پاکستان بھی یہی کر رہا ہے۔ اب ان کی سمجھ میں آ گیا ہے کہ وہ جو دہشت گردی کی معاونت کررہے تھے اب وہ انہیں کو نقصان پہنچانے لگی ہیں۔'

جنرل راوت نے کہا کہ اگر ان نظریات کو پھیلانے والوں کی تہہ تک پہنچا جا سکے توانتہا پسند نظریات کو پنپنے سے روکا جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا 'انتہا پسندی کے نظریات، سکولوں، یونیورسٹیز اور مذہبی مراکز اور ویب سائٹس سے پھیلائے جا رہے ہیں۔ لوگوں کا ایک گروپ ہے جو انتہا پسند نظریات پھیلا رہا ہے۔'

تبصرہ نگار ساکیت گوکھلے نے ایک ٹویٹ پیغام میں لکھا ہے کہ 'جرنل روات نے اعتراف کیا ہے کہ جموں و کشمیر میں بچوں کے لیے 'ڈی ریڈیکلائزیشن کیمپس' پہلے سے ہی چل رہے ہیں۔

اکتوبر میں خبر آئی تھی کہ 144 نابالغ بچوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔ دسمبر میں ‏عدالت عظمیٰ نے کہا کہ وہاں کوئی بھی نابالغ بچہ حراست میں نہیں ہے۔ جنرل راوت کے اس اعتراف کے بعد اس کیس کی دوبارہ تفتیش ہونی چاہیئے'۔

سینیئر صحافی مایا میر چندانی نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ 'چین کا سنکیانگ ماڈل اپنانے کے ساتھ جنرل راوت نے انتہا پسندی کی طرف جانے والوں کی شناخت کرنے اور انہیں کیمپ میں بھیجنے کا جو ذکر کیا ہے وہ رونگٹے کھڑے کرنے والا ہے۔

ان کے بیان سے کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی شناخت کا طریقہ کار کیا ہے؟ یہ کیمپ کہاں واقع ہیں؟

مجلس اتحادالمسلیمن کے رہنما اور سینیئر رکن پارلیمان اسدالدین اویسی نے پوچھا ہے کہ ’ماب لنچنگ‘ کرنے والوں کو کون ڈی ریڈیکلائز کرے گا۔

انھوں نے کہا کہ جنرل راوت کا یہ پہلا مضحکہ خیز بیان نہیں ہے ۔ پالیسیوں کا فیصلہ سویلین انتظامیہ کرتی ہے کوئی جنرل نہیں۔ 'پالیسی اور سیاست پر بول کر جنرل راوت سویلین برتری کو کمزور کر رہے ہیں۔‘

اسی بارے میں