وزارتِ انسانی حقوق کی رپورٹ: پاکستانی جیلوں میں 425 قیدی ایڈز کے مریض

تصویر کے کاپی رائٹ AAMIR QURESHI
Image caption صوبہ سندھ کی مختلف جیلوں میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد 117 ہے

وفاقی حکومت نے ملک بھر کی جیلوں میں قید ایسے افراد کی فہرست عدالت میں پیش کی ہے جو ایڈز اور دیگر جان لیوا بیماریوں میں مبتلا ہیں۔

وزارتِ انسانی حقوق کی طرف سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کروائی جانے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر کی جیلوں میں 5189 افراد مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ اِن میں ایڈز، ہیپاٹائٹس، ٹی بی اور دیگر جان لیوا بیماریاں شامل ہیں۔ ان میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد 425 ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق آبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی مختلف جیلوں میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد 257 ہے جن میں دو خواتین قیدی بھی شامل ہیں۔ صوبہ سندھ کی مختلف جیلوں میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد 117 ہے جن میں ایک خاتون قیدی بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان: ایڈز پر قابو پانے میں سب سے بڑی رکاوٹ کیا؟

پاکستان میں ایچ آئی وی کی صورتحال تشویش ناک قرار

'ہم مسلمان ہیں، ہمیں ایڈز کیسے ہو سکتا ہے؟'

صوبۂ خیبر پختونخوا کی جیلوں میں ایسے مریضوں کی تعداد 39 ہے جبکہ رقبے کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کی جیلوں میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد 13 ہے اور ان میں کوئی خاتون قیدی نہیں ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسے موذی امراض میں مبتلا قیدیوں کے علاج اور ان کے بچاو کے لیے بھی مناسب سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Syed Zargham

اسلام آباد ہائی کورٹ میں ملک بھر کی جیلوں میں قیدیوں کی حالتِ زار سے متعلق مقدمہ زیر سماعت ہے۔ اِس مقدمے کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے ہیں کہ اگر کوئی سزا یافتہ مجرم ہے اور جس کا علاج جیل میں ممکن نہیں ہے تو ایسے مجرم کو رہا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو بیماری کی وجہ سے ضمانت اور پھر علاج کی غرض سے بیرون ملک بھیجنے کے بعد راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ایک قیدی خادم حسین نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھا تھا کہ ان کی صحت بھی ٹھیک نہیں ہے لہذا اُنھیں بھی علاج کی غرض سے بیرون ملک بھجوایا جائے۔ جس کے بعد عدالت نے ملک بھر جیلوں میں قید افراد کے بارے میں وفاقی حکومت سے رپورٹ طلب کی تھی۔

وزارتِ انسانی حقوق کی اِس رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ملک بھر کی مختلف جیلوں میں ایسے قیدیوں کی تعداد زیادہ ہے جن کے خلاف مقدمات مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ ان میں سے سب سے زیادہ افراد کے مقدمات صوبہ خیبر پختونخوا کی مختلف عدالتوں میں ہیں اور ایسے افراد کی تعداد کل قیدیوں کا 71 فیصد ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق صوبہ سندھ میں انڈر ٹرائل قیدیوں کی تعداد مجموعی تعداد کا 70 فیصد جبکہ بلوچستان میں 59 فیصد اور پنجاب میں 55 فیصد ہے۔

رپورٹ میں خواتین قیدیوں کے بارے میں بھی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔ صوبہ سندھ کی مخلتف جیلوں میں انڈر ٹرائل خواتین قیدی 139 جبکہ سزا یافتہ خواتین قیدیوں کی تعداد 32 ہے۔

پنجاب کی مختلف جیلوں میں خواتین قیدیوں کی تعداد 452 جبکہ سزا یافتہ خواتین قیدیوں کی تعداد 301 ہے۔

خیبر پختونخوا میں خواتین قیدیوں کی تعداد 140 ہے جبکہ 51 قیدیوں کو مخلتف عدالتوں سے سزائیں سنائی گئی ہیں۔ صوبہ بلوچستان میں 21 خواتین قیدی ہے جن میں سے پانچ خواتین کو مختلف مقدمات میں سزا سنائی گئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ ARIF ALI

اس رپورٹ میں اس بات کا بھی زکر کیا گیا ہے کہ صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ کی جیلوں میں 120 خواتین قیدی اپنے بچوں کے ساتھ رہ رہی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک کی مختلف جیلوں میں قیدیوں کی تعداد گنجائش سے بہت زیادہ ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختون خوا کی 20 جیلوں میں 4500 قیدیوں کی گنجائش ہے جبکہ اس وقت ان جیلوں میں قیدیوں کی تعداد 9900 ہے۔

پنجاب کی 41 جیلوں میں قیدی رکھنے کی گنجائش 32477 ہے جبکہ اس وقت ان جیلوں میں 45324 قیدی موجود ہیں۔ صوبہ سندھ کی 24 جیلیں 13500 قیدیوں کے لیے تعمیر کی گئی تھیں جبکہ اس صوبے کی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد 16315 ہے۔

صرف بلوچستان ایسا صوبہ ہے جہاں قیدیوں کی تعداد گنجائش سے کم ہے۔ بلوچستان کی 11 جیلوں میں 2500 قیدیوں کی گنجائش ہے جبکہ وہاں پر قیدیوں کی تعداد 2100 ہے جو کہ گنجائش سے کم ہے۔

رپورٹ میں حکومت کی طرف سے عدالت کو آگاہ کیا گیا ہے کہ مختلف جیلوں میں خواجہ سرا قیدیوں کے لیے الگ سے بیرکیں تعمیر کی جائیں گی۔ تاہم رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ بیرکیں کب تعمیر ہوں گی۔

رپورٹ میں قیدیوں کی بیویوں کو ان کے بینک اکاونٹس تک رسائی کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شریں مزاری نے عدالت کو بتایا کہ بینک اکاونٹس تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے ان قیدیوں کی بیویوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں