ایف اے ٹی ایف اجلاس: امریکہ پاکستان کی کیا مدد کر سکتا ہے؟

قریشی-پومپیو تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان کو امریکہ سے جو توقعات ہیں ان کی 'بڑی ٹھوس وجوہات' بھی ہیں

چین میں منگل کو بین الاقوامی تنظیم فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کا اجلاس ہونے جا رہا ہے جس کی سربراہی چین اور انڈیا مشترکہ طور پر کریں گے۔ اس اجلاس میں پاکستان کی جانب سے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔

پاکستانی وزیر خارجہ نے حال ہی میں امریکی سکیریٹری خارجہ مائیک پومپیو سے ملاقات کے بعد یہ امید ظاہر کی تھی کہ امریکہ اس اجلاس کے دوران پاکستان کے حق میں آسانیاں پیدا کرنے میں معاون کا کردار ادا کرے گا۔

پاکستان کو واشنگٹن سے توقعات کیوں ہیں؟

ایف اے ٹی ایف کے 35 ارکان ہیں جن میں امریکہ کے علاوہ برطانیہ، چین اور انڈیا بھی شامل ہیں۔ تو ایسے میں پاکستان کو امریکہ سے ہی مدد کی امید کیوں ہے؟

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اپنے موقف کو دہرایا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ ’امریکہ کا نمائندہ اس اجلاس میں پاکستان کے لیے سہولت پیدا کرے گا۔‘

یہ بھی پڑھیے

ایف اے ٹی ایف: پاکستان پر لٹکتی بدنامی کی تلوار

ایف اے ٹی ایف کا اجلاس اور پاکستان کی مشکلات

ایف اے ٹی ایف کا اجلاس، پاکستان کے امتحان کی گھڑی

امریکی سکیریٹری خارجہ مائیک پومپیو سے اپنی حالیہ ملاقات کو بہت حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ان توقعات کی ’بڑی ٹھوس وجوہات‘ بھی ہیں۔ ان کے مطابق ’پاکستان نے گذشتہ دس ماہ میں ایسے قابل ذکر اقدامات اٹھائے ہیں جو گذشتہ دس سال میں بھی ممکن نہیں ہو سکے تھے۔‘

شاہ محمود قریشی ان اقدامات کو یقینی بنانے کے حوالے سے وزارت خزانہ کی کارکردگی کو ناقابل فراموش قرار دیتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شاہ محمود قریشی

منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے اقدامات اتنے مناسب اور اتنے ٹھوس ہیں کہ جنھیں سراہا جانا چائیے۔ تاہم یہ ایک ٹیکنیکل ایشو ہے اگر کہیں کوئی غلطی رہ بھی گئی ہے تو اس کی بھی درستگی کر دی جائے گی۔ اہم بات یہ ہے کہ اب پاکستان نے اپنی سمت درست کر لی ہے۔‘

پاکستانی وزیر خارجہ کے خیال میں ان فیصلہ کن اقدامات کو دیکھتے ہوئے ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی بیان دیا تھا کہ وہ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کو حوصلہ افزا سمجھتے ہیں۔

امریکہ پاکستان کے لیے کیا کر سکتا ہے؟

بین الاقوامی مالیاتی فنڈز کی طرح ایف اے ٹی ایف بھی ایک بین الاقوامی ادارہ ہے جو آزادی سے اپنے فیصلے کرتا ہے۔ ماہرین کے خیال میں امریکی تعاون پاکستان کو اس مشکل سے نکالنے کے لیے کافی نہیں ہوگا۔ اس اجلاس کے تمام ارکان کو مطمئن کرنے کے لیے پاکستان کو ناقابل واپسی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔

امریکی سیاسی اور سکیورٹی تجزیہ کار مائیکل کگلمین نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان کی ایف اے ٹی ایف کی ’گرے لسٹ‘ سے نکلنے کی کوششیں صرف امریکی تعاون سے کامیاب نہیں ہو سکتی ہیں۔

ان کے خیال میں یہ فیصلہ ایف اے ٹی ایف میں شامل دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے ’فیصلہ سازوں‘ نے بھی کرنا ہے۔

جب یہ سوال پاکستان کے وزیر خارجہ سے پوچھا گیا کہ انھیں دیگر ممالک سے حمایت کی کتنی امید ہے تو شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ’چین نے بالکل ہماری رہنمائی بھی کی ہے اور ہمیں رستہ بھی دکھایا ہے کہ ہم کیسے ان اقدامات کو بہتر انداز میں آگے بڑھا سکتے ہیں۔ (اس کے بعد) ہم نے دیانتداری سے کوشش کی ہے۔‘

شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ انھوں نے ایف اے ٹی ایف کے دیے گئے اہداف میں اہم پیش رفت سے متعلق دیگر ممالک کو بھی بتایا ہے۔ وہ اس بار چین کے علاوہ انڈیا سے بھی ’میرٹ‘ کی امید رکھتے ہیں۔

Image caption محمد عامر رانا

سکیورٹی امور کے ماہر عامر رانا کی رائے میں امریکہ کا ایف اے ٹی ایف پر ایک محدود اثر تو ہے لیکن مشکلات سے نکلنے کے لیے پاکستان کو ہر صورت اپنی خامیوں اور کوتاہیوں کا تدارک کرنا ہو گا۔

ان کے خیال میں گذشتہ اجلاس میں چین نے پاکستان کو بیل آؤٹ کیا تھا تو پھر اس پر دباؤ ہو گا کہ وہ ہر بار پاکستان کی حمایت نہ کرے جس کی بنیاد پر اب پاکستان امریکہ کو منانے کی کوشش کر رہا ہے۔

مائیکل کگلمین کے خیال میں امریکہ کا اب بھی ایف اے ٹی ایف سے متعلق پاکستان کے حوالے سے موقف سخت ہے اور وہ اس وقت تک پاکستان کو اس فہرست سے باہر نکالنے پر آمادہ نہیں ہو گا جب تک پاکستان ایسے اقدامات نہیں اٹھائے گا جن سے پیچھے ہٹنا ممکن نہ ہو۔

یاد رہے کہ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کو دس نکاتی ایکشن پلان پر جنوری 2019 تک عمل درآمد کرنے کو کہا گیا تھا۔ اس دس نکاتی ایکشن پلان کے مطابق پاکستان کو یہ واضح کرنا تھا کہ وہ منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت اور اداروں کے درمیان ہم آہنگی سے متعلق اقدامات کرنے میں کتنا کامیاب ہوا۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ اس سلسلے میں پاکستان کی معاونت کرتی رہے گی۔ پاکستان چاہتا ہے کہ اس کا نام تنظیم کی 'گرے لسٹ' سے ہٹا دیا جائے۔

عامر رانا نے بی بی سی کو بتایا کہ 21 جنوری کو چین میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں انڈیا بھی میزبانی کر رہا ہے جس سے پاکستان کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

اس حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ انڈیا اس سے قبل بھی ایسے اجلاسوں کی صدارت کر چکا ہے، اس معاملے کو میرٹ پر دیکھنا چائیے، انڈیا کی بہتری بھی ایک مستحکم پاکستان میں ہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ FATF
Image caption فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) ایک بین الحکومتی ادارہ ہے جو 1989 میں قائم ہوا

ایف اے ٹی ایف کیا ہے؟

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) ایک بین الاقوامی ادارہ ہے جس کا قیام 1989 میں عمل میں آیا تھا۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی نظام کو دہشت گردی، کالے دھن کو سفید کرنے اور اس قسم کے دوسرے خطرات سے محفوظ رکھا جائے اور اس مقصد کے لیے قانونی، انضباطی اور عملی اقدامات کیے جائیں۔

اس تنظیم کے 35 ارکان ہیں جن میں امریکہ، برطانیہ، چین اور انڈیا بھی شامل ہیں، البتہ پاکستان اس تنظیم کا رکن نہیں ہے۔

اس ادارے کی ویب سائٹ کے مطابق یہ ایک 'پالیسی ساز ادارہ' ہے جو سیاسی عزم پیدا کرنے کے لیے کام کرتا ہے۔

اس کے ارکان کا اجلاس ہر تین برس بعد ہوتا ہے جس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کی جاری کردہ سفارشات پر کس حد تک عمل درآمد ہو رہا ہے۔

نائن الیون کے بعد ایف اے ٹی ایف کی خاص توجہ دہشت گردی کے لیے رقوم فراہم کرنے کو روکنا ہو گیا ہے۔ یہ ادارہ مختلف ملکوں کے قوانین پر بھی نظر رکھتا ہے اور ان میں خامیوں کو دور کرنے کے لیے مشورے دیتا ہے۔

سنہ 2000 کے بعد سے ایف اے ٹی ایف وقتاً فوقتاً ایک فہرست جاری کرتی ہے، جس میں ان ملکوں کے نام شامل کیے جاتے ہیں جو اس کے خیال میں کالے دھن کو سفید کرنے اور دہشت گردی کی مالی پشت پناہی سے روکنے کی سفارشات پر عمل پیرا نہیں ہوتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان نے اپنے بچاؤ کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں؟

ایف اے ٹی ایف کے اہداف کے تعاقب میں گذشتہ برس فروری میں حکومتِ پاکستان نے ایک صدارتی آرڈیننس جاری کیا جس کے تحت اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دی جانے والی تنظیموں کو پاکستان میں بھی کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت جن تنظیموں کو دہشت گرد قرار دیا گیا ہے ان میں طالبان کے علاوہ حقانی نیٹ ورک، فلاح انسانیت، الرشید ٹرسٹ، اختر ٹرسٹ، جماعت الدعوۃ، روشن منی ایکسچینج، حاجی خیر اللہ حاجی ستار منی ایکسچینج، حرکت جہاد الاسلامی، اُمہ تعمیرِ نو اور راحت لمیٹڈ شامل ہیں۔

اس آرڈیننس کے نفاذ کے بعد پاکستان میں حکام نے لشکرِ طیبہ کے بانی حافظ سعید سے منسلک دو تنظیموں جماعت الدعوۃ اور اس کے فلاحی ونگ فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے خلاف بھی کارروائیاں کی ہیں۔

حافظ سعید انڈیا اور امریکہ کو دہشت گردی کے الزام میں مطلوب ہیں۔ پاکستان نے لشکرِ طیبہ پر تو پہلے ہی پابندی لگا دی تھی لیکن اس سے مبینہ طور پر منسلک جماعت الدعوۃ اور فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن نامی خیراتی ادارے بدستور کام کر رہے تھے۔

حالیہ کارروائیوں کے تحت ان تنظیموں کے تحت چلنے والے مدارس اور اداروں کو حکومتی کنٹرول میں لے لیا گیا ہے۔

اسی بارے میں