آٹے کا بحران: کہیں روٹیاں پاپڑ بن گئیں تو کہیں تندور سرد پڑے ہیں

پاکستان میں آٹے کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ خیبر پختونخوا میں تندور بند ہو گئے ہیں اور چار نان بائی گرفتار ہیں جبکہ بلوچستان سندھ اور پنجاب میں آٹے کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

وفاقی حکومت نے صورتحال کا نوٹس تو لیا ہے اور صوبائی حکومتیں اسے مصنوعی بحران قرار دے رہی ہیں لیکن زمینی حقائق کے مطابق لوگوں کے گھروں میں دسترخوان ویران اور بازاروں میں تندور بند ہو گئے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں آٹے کا بحران

خیبر پختونخوا میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پشاور سمیت مختلف شہروں میں نان بائیوں کی ہڑتال جاری ہے جبکہ پولیس نے چار نان بائیوں کو کل رات گرفتار بھی کیا ہے۔

نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق حکومت کے ساتھ نان بائیوں کے مذاکرات ہوئے ہیں لیکن اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی جس وجہ سے آج سے نان بائیوں نے ہڑتال شروع کر دی ہے ۔

پشاور شہر میں آج تندور بند تھے اس لیے لوگ متبادل خوراک جیسے چاول اور بیکری پر دستیاب اشیاء سے گزارا کرتے رہے۔

یہ بھی پڑھیے

’گھی لگا کر بچوں کو روٹی دیں تو بچے بیمار ہو جاتے ہیں‘

پاکستان میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ کیا ہے؟

پشاور میں عمومی طور پر روٹی تندور سے منگوانے کا رجحان ہے اور یہی وجہ ہے کہ شہر میں 2500 کے قریب نان بائی ہیں۔

خیبر پختونخوا نان بائی ایسوسی ایشن کے صدر حاجی محمد اقبال نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک ماہ پہلے تک فائن آٹے کی 85 کلو گرام کی بوری کی قیمت 4000 روپے تک تھی لیکن اب اس کی قیمت 5000 روپے تک پہنچ گئی ہے جبکہ اس عرصے میں گیس کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ قیمت میں اضافہ نہ کریں اور حکومت انھیں مجبور کر رہی ہے کہ روٹی کی قیمت میں اضافہ نہ کیا جائے۔

حاجی اقبال نے بتایا کہ پشاور میں سال 2013 میں 170 گرام کی روٹی کی قیمت 10 روپے مقرر ہوئی تھی جو اب تک جاری ہے لیکن اس دوران آٹے اور دیگر تمام اشیاء کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔

حکومت کے ساتھ مذاکرات میں نان بائی 150 گرام کی روٹی کی قیمت 15 روپے مقرر کرنے کا مطالبہ کرتے رہے جبکہ حکومت کی جانب سے 170 گرام کی روٹی پر اصرار کیا جاتا رہا ہے۔ حاجی اقبال نے بتایا کہ حکومت سے انھوں نے کہا کہ وہ ہڑتال سے بچنے کے لیے 170 گرام کی روٹی پر بھی راضی ہیں لیکن حکومت نوٹیفیکیشن جاری کرنے سے انکار کر رہی ہے۔

Image caption کئی تندوروں پر تالا لگا ہوا ہے

یہاں پشاور میں نان بائی بھی مقررہ وزن پر روٹی فروخت نہیں کرتے بیشتر نان بائی 100 گرام تک کی روٹی فروخت کرتے ہیں اور بعض علاقوں میں وزن اس سے بھی کم ہوتا ہے۔

پشاور کے حیات آباد کے ایک مقامی شہری محمد اسحاق نے بتایا کہ یہاں تو نان بائیوں نے پشاوری نان سے پاپڑ بنا دیے ہیں روٹی اتنی سخت ہو جاتی ہے کہ اگر ذرا ٹھنڈی ہو جائے تو کھائی بھی نہیں جاتی۔

حکومت اس معاملے کو حل کرنے میں اب تک ناکام نظر آتی ہے۔ نان بائیوں سے جرمانوں کی مد میں رقم وصول کی جاتی ہے لیکن روٹی کا وزن اور اس کے معیار کی طرف توجہ نہیں دی جاتی۔

حاجی محمد اقبال نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے افغانستان آٹا بھیجنے کے لیے ایک ماہ پہلے پرمٹ جاری کیے تھے جس سے خیبر پختونخوا میں گندم کا سٹاک ختم ہو گیا تھا اور اب یہی صوبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

پشاور کے رام پورہ گیٹ کے قریب غلے منڈی میں آٹے کے تھیلے بڑی مقدار میں پڑے تھے۔ ان آٹا ڈیلروں نے بتایا کہ بنیادی طور پر 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت ایک ماہ پہلے تک 850 روپے تک تھی اور اب اس کی قیمت 1100 روپے ہو گئی ہے۔ ان ڈیلروں نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا اور کہا کہ آٹے کی قیمت میں اضافے سے خریداروں کی تعداد اب کم ہو گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ایک آٹا ڈیلر نے بتایا کہ ’وہ راولپنڈی اسلام آباد سے 20 کلو آٹے کا تھیلہ 1030 روپے میں لاتا ہے جس پر 30 روپے فی تھیلہ خرچ آتا ہے اور وہ 1080 یا 1100 روپے تک فروخت کرتا ہے اب حکومت اس فلور مل کے مالک سے نہیں پوچھتی کہ اس نے آٹا کیوں مہنگا کیا ہے۔`

صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ ’پنجاب سے گندم خیبر پختونخوا کی فلور ملوں کو فراہم کی جا رہی ہے اور جلد ہی آٹے کے مصنوعی بحران پر قابو پا لیا جائے گا۔‘

بلوچستان میں آٹے کا بحران

بلوچستان میں دوسرے صوبوں کے مقابلے میں آٹے کی قیمتیں پہلے ہی زیادہ تھیں۔

نامہ نگار محمد کاظم آٹا ڈیلرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے صدر خدائیداد خان نے بتایا کہ کوئٹہ شہر میں اس وقت آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت 11 سو سے 1120 روپے تک ہو گئی ہے۔

کوئٹہ اور بلوچستان میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ گذشتہ سال اکتوبر میں شروع ہوا تھا۔

اکتوبر سے پہلے آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت 850 روپے تھی لیکن اس کے بعد اس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

گندم اور آٹے کے بحران کے پیش نظر گذشتہ سال کے آخر میں حکومت بلوچستان نے سیکرٹری خوراک اور ڈائریکٹر جنرل خوراک کو معطل کیا تھا۔

حکومت بلوچستان کا انہیں معطل کرنے سے متعلق یہ موقف تھا کہ انھوں نے بروقت گندم کی خریداری نہیں کی جس کے باعث آٹے کا بحران پیدا ہوا۔

تاہم معطل کیے جانے والے اہلکاروں کا کہنا تھا کہ انہیں بلوچستان کے علاقے نصیر آباد سے جو گندم خریدنے کا کہا گیا تھا وہ ناقص تھی جس کے باعث انھوں نے وہ گندم نہیں خریدی۔

آٹا ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر خدائیداد خان کاکڑ کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے بلوچستان میں فلور ملوں کو گندم کی فراہمی کو یقینی نہیں بنایا تو اوپن مارکیٹ میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا۔

حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے بتایا کہ حکومت گندم اورآٹا بحران پر قابو پانے کی کوشش کررہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت بلوچستان نے پاسکو کو ڈھائی لاکھ بوری گندم کی فراہمی کے لیے کہا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ایک ڈیڑھ ہفتے تک یہ گندم حکومت بلوچستان کے حوالے کی جائے گی۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے گندم اور آٹا بحران کا نوٹس لیا ہے۔

انھوں نے تمام کمشنروں اورڈپٹی کمشنروں اپنے ڈویژنوں اور اضلاع میں عوام کو حکومت کے مقرر کردہ نرخ پر آٹے اور گندم کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

انھوں نے سرکاری حکام کو ہدایت کی کہ گندم اور آٹے کی مصنوعی قلت پیدا کرنے اور ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی جائے۔

انھوں نے محکمہ خوراک کو ہدایت کی گوداموں میں دستیاب گندم فلور ملوں کو فراہم کرے۔

وزیر اعلیٰ نے ضلعی انتظامیہ کو آٹے کی سمگلنگ کی روک تھام کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔

سندھ میں آٹا نایاب

کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق سندھ کے دارالحکومت کراچی کے رہائشی آٹے کی قیمتوں میں اضافہ کا سامنا کر رہے ہیں لیکن صحرائی علاقے تھر میں حالات سنگین ہیں جہاں گندم کی کاشت ہی نہیں ہوتی۔

تھر کے دارالحکومت مٹھی میں اس وقت عام دکان پر آٹا 55 رپے تک فروخت ہو رہا ہے جبکہ ننگرہار کر سمیت سرحدی علاقوں کے گاوں دیہاتوں میں اس کی قیمت 70 سے 80 روپے فی کلو ہوجاتا ہے۔

واضح رہے کہ صحرائے تھر گذشتہ کئی سالوں سے خشک سالی کا شکار تھا، یہاں سے خواتین اور بچوں میں غذائی قلت کی وجہ سے یہاں نومولود بچوں کی ہلاکت کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں، گذشتہ سال بھی محکمہ صحت کی اعداد و شمار کے مطابق 800 کے زائد بچے ہلاک ہوئے۔

گذشتہ سال یہاں بارشیں ہوئیں جس سے لوگوں نے باجرے اور جوار کی بھی کاشت کی لیکن ٹڈی دل کے حملوں اور بعد کی بارشوں اور تیز ہواں سے فصلیں شدید متاثر ہوئیں۔

مقامی صحافی کھاٹائو جانی کے مطابق حکومت نے مٹھی، اسلام کوٹ سمیت چار شہروں میں 43 رپے فی کلو آٹا فراہم کرنے کے لیے اسٹال لگائے لیکن لوگوں کی تعداد زیادہ اور آٹے کی بوریاں کم ثابت ہوئیں۔ ان میں سے بھی کچھ اسٹال گذشتہ دو روز سے بند ہیں۔

مقامی سماجی کارکن اکبر درس آٹے کی فراہمی کے لیے تحریک چلا رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی سٹون پالیسی کی وجہ سے بھی صحرائی علاقے متاثر ہوتے ہیں، فلور ملزز میں جتنے سٹون ہوں گے اسے اتنے ہی بوریاں فراہم کی جائیں گی تھر میں دو سے چار سٹون والی ملز ہیں جن کا یومیہ فی اسٹون سات بوریاں کوٹہ ہے جو ناکافی ہے۔

سندھ کے دوسرے بارانی علاقے کاچھو میں بھی آٹا 70 رپے فی کلو دستیاب ہے، مقامی سماجی کارکن معشوق برہمانی نے بتایا کہ صرف جوھی شہر کے قریب کچھ گندم ہوتی ہے جبکہ کھیر تھر پہاڑی سلسلے میں کہیں بھی گندم کاشت نہیں کی جاتی، یہاں سے بلوچستان کے بھی کئی علاقوں میں گندم جاتی ہے۔

دوسرے جانب کراچی میں آٹے کی قیمتیں زیادہ ہونے اور معیار بہتر نہ ہونے کی شکایت ہیں تاہم صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ خریداری مراکز پر 43 رپے فی کلو آٹے کی فراہمی کو یقینی بنایا جارہا ہے۔

صوبائی وزیر زراعت اسماعیل راہو نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ سال 30 لاکھ 40 ہزار میٹرک ٹن گندم کی پیداوار ہوئی تھی، موجودہ وقت بھی سکھر اور لاڑکانہ کے مراکز میں 3 لاکھ میٹرک ٹن گندم موجود ہے ، پاسکو نے 90 ہزار میٹرک ٹن گندم رلیز کردی ہے جبکہ باقی 3 لاکھ ٹن ابھی آنی ہے جس سے یہ آٹے کے عدم دستیابی اور مہنگے ہونے کی شکایت ختم ہوجائیں گی۔

ان کا دعویٰ تھا کہ آٹے کا بحران مصنوعی طور پر پیدا کیا گیا ہے سندھ سے گندم پنجاب اور بلوچستان منتقل کی گئی افغانستان بھی سمگل ہوتی ہے، بقول ان کے پاسکو سے گندم کی فراہمی میں تاخیر گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال کی وجہ سے ہوئی تھی آئندہ دو روز میں صورتحال معمول پر ہوگی۔

انھوں نے بتایا کہ سندھ میں سردی میں اضافے اور بارشوں سے گندم کی فصل پر مثبت اثرات ہوئے ہیں اور آنے والی فصل بمپر کراپ ہوگی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پنجاب میں اجلاس

حکومتِ پنجاب نے خیرسگالی کے طور پر روزانہ کی بنیاد پر پانچ ہزار ٹن صوبہ خیبرپحتونخوا بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے اس بات کا اعلان پنجاب کے وزیرِ اعلٰی سردار عثمان بزدار نے ملک میں آٹے کے بحران کے حوالے سے ایک خصوصی اجلاس کے بعد کیا۔

عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ 'پنجاب میں آٹے کا بحران نہیں ہے اور وافر گندم کے سٹاک موجود ہیں۔'

تاہم محکمہ خوارک پنجاب کو چکی آٹا کی قیمت میں استحکام کے لیے اقدامات اٹھانے کی ہدایات کر دی گئی ہیں۔ محمکہ خوراک نے خصوصی اجلاس کے دوران وزیرِاعلٰی کو بتایا کہ اس حوالے سے فلور ملوں کی چھان بین جاری ہے۔

تاحال 1119 ملوں کی جانچ پڑتال کی گئی جس میں 542 کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان کا گندم کا کوٹہ معطل کر دیا گیا۔ جبکہ 88 فلور ملوں کے لائسنس معطل کر کے ان پر 14 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے۔ ان میں وہ ملیں بھی شامل ہیں جنہوں نے گندم کے کوٹہ کو اوپن مارکیٹ میں فروخت کیا۔

بریفنگ میں وزیرِ اعلٰی کو بتایا گیا کہ پنجاب میں فلور ملوں تقریباً 25 ہزار ٹن گندم فراہم کی جا رہی ہے۔ وزیرِاعلٰی پنجاب کی ہدایت پر قائم سیل پوائنٹس پر سرکاری نرخوں پر آٹے کے تھیلوں کی فراہمی جاری ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں