ججوں کے خلاف ریفرنس: ’صدر کا کردار ربڑ سٹمپ ہے تو یہ خطرناک بات ہے‘

جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس پر سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی روکنے سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے 10 رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے ہیں کہ اگر ججوں کے خلاف ریفرنس بھیجنے میں صدر کا کردار ربڑ سٹمپ ہے تو پھر یہ انتہائی خطرناک بات ہے۔

پیر کو ان درخواستوں کی سماعت کے دوران بینچ کے سربراہ نے یہ ریمارکس سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکیل رضاربانی کی طرف سے پیش کیے گئے دلائل کے جواب میں دیے۔

درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ آئین میں صدر کا کردار غیر جانبدارانہ لکھا گیا ہے لیکن صدر مملکت موجودہ حکومت کا ہی ایک حصہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کون اور ان کے فیصلوں پر تنازعے کیا؟

موازنہ جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ اور عمران خان کے ٹیکس کا

’جج کی جاسوسی، ذاتی زندگی میں مداخلت بھی توہین ہے‘

رضا ربانی کا کہنا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی اور سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس کے کے آغا کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں بھیجے جانے والے صدارتی ریفرنس دراصل آزاد عدلیہ کے اختیارات کو سلب کرنے کے مترادف ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ صدر کے پاس یہ اختیار ہے کہ اگر اُنھیں یہ معلوم ہو کہ حکومت کی طرف سے کسی بھی جج کے خلاف بھیجی جانے والی شکایت میں کچھ شکوک و شہبات ہیں تو صدر مملکت اس معاملے کو واپس وزیراعظم کو بھجوا سکتے ہیں لیکن اس معاملے میں ایسا نہیں کیا گیا۔

رضا ربانی نے، جو پاکستان کے ایوانِ بالا یعنی سینیٹ کے چیئرمین بھی رہے ہیں، دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 175 اے اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری سے متعلق ہے جبکہ آئین کا آرٹیکل 209 اگر ایک طرف ججوں کی برطرفی سے متعلق ہے تو وہیں اسی آرٹیکل کے تحت ججوں کی مدت ملازمت کا تعین بھی ہوتا ہے کیونکہ اگر ججوں کی مدت ملازمت کا معاملہ ہوا میں معلق رہے گا تو پھر انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہو سکتے۔

اُنھوں نے کہا کہ حکومت کے پاس کوئی اختیار نہیں تھا کہ اعلی عدلیہ کے ان دونوں ججوں کے خلاف تحقیقات کے لیے پہلے ایف بی آر پھر ایف آئی اے اور اس کے بعد فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کو تفصیلات اور تفتیش کرنے کی ذمہ داری سونپتی ۔

تصویر کے کاپی رائٹ Supreme Court of Pakistan

بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ اگر سالانہ گوشواروں میں ان جائیدادوں کا ذکر نہیں کیا جاتا جبکہ بعد میں انھیں تسلیم کر لیا جاتا ہے اور صدارتی ریفرنس دائر ہونے کے بعد یہ معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل اپنے ہاتھ میں لے لیتی ہے اور درخواست گزار ججوں کو نوٹس جاری کر دیتی ہے تو کیا اس پر جواب طلبی نہیں کرنی چاہیے۔

سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکیل کا کہنا تھا کہ بہتر ہوتا کہ سپریم جوڈیشل کونسل اس معاملے میں معاونت کے لیے ایف بی آر کی خدمات حاصل کرتیں۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان کے سنہ 1956 کے آئین کے تحت اگر اعلی عدلیہ کے کسی جج کو ان کے عہدے سے ہٹایا جانا مقصود ہوتا تھا تو یہ معاملہ پارلیمنٹ میں لایا جاتا اور اگر پارلیمنٹ میں موجود دو تہائی اکثریت اس کے حق میں فیصلہ دیتیں تو پھر ہی اس جج کو ان کے عہدے سے ہٹایا جاتا تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ سنہ 1962 کے آئین میں اعلی عدلیہ کے ججوں کے خلاف کارروائی کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل تشکیل دی گئی جس کے مطابق اگر کسی بھی جج کے خلاف کوئی شکایت اس کونسل کے سربراہ یعنی چیف جسٹس کو بھیجی جاتی تو وہ دوسرے ججوں کو یہ معاملہ بھجوا دیتے جو کہ شکایت کا جائزہ لینے کے بعد اپنی رائے چیف جسٹس کو بھجواتے جس کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل متاثرہ جج کو نوٹس جاری کرتی تھی۔

رضاربانی کا کہنا تھا کہ اعلی عدلیہ کے ان ججوں کے خلاف ریفرنس بھیجتے ہوئے صدر مملکت نے اپنی رائے کا اظہار نہیں کیا بلکہ ایک پوسٹ آفس کا کردار ادا کیا کہ جس طرح کی سمری وزیر اعظم اور وزیر قانون کی طرف سے آئی اسے سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوا دیا۔

اُنھوں نے کہا کہ اعلی عدالتوں میں 80 فیصد سے زائد ایسے مقدمات زیرِ سماعت ہیں جن کا تعلق ایگزیکٹیو کے اختیارات کے غلط استعمال یا ان کے فیصلوں کے بارے میں ہے۔

بینچ میں موجوہ جسٹس منصور علی شاہ نے سوال اٹھایا کہ آئین کے تحت صدر مملکت کو بہت سے معاملات میں استثنیٰ حاصل ہے جس پر درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ صدر کو حاصل استثنیٰ لامحدود نہیں ہے بلکہ محدود ہے جس کا ذکر آئین میں موجود تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں