پاکستانی نژاد برطانوی بہنوں کی گجرات میں ہلاکت: ’بہنوں کی موت سے چند گھنٹے قبل ہم فون پر ہنسی مذاق کر رہے تھے‘

پریسٹن تصویر کے کاپی رائٹ family handout
Image caption ماریا نوکری پیشہ تھیں جبکہ نادیہ کالج کی طالبہ تھیں

پاکستان میں گیس لیک ہونے کے باعث ہلاک ہونے والی پاکستانی نژاد برطانوی بہنوں کی تیسری بہن ساریا رحمان نے بتایا ہے کہ وہ دونوں اپنی موت سے صرف چند گھنٹے قبل اُن سے فون پر بات کرتے ہوئے ہنسی مذاق کر رہی تھیں۔

واضح رہے کہ 18 سالہ نادیہ اور ان کی 24 سالہ بہن ماریا صوبہ پنجاب کے شہر گجرات کے علاقے دولت نگر میں واقع اپنے گھر میں 12 جنوری کو مردہ حالت میں پائی گئیں تھیں۔

دونوں بہنیں اپنے دادا کی برسی کی تقریب میں شمولیت کے لیے برطانیہ سے پاکستان آئی ہوئی تھیں۔

پولیس حکام نے اپنی تفتیش کے بعد کہا ہے کہ برطانوی شہر پریسٹن سے تعلق رکھنے والی دونوں بہنوں کی موت میں کسی قسم کے مشکوک حالات و اسباب نہیں ہیں اور وہ دونوں باتھ روم میں گیس کے اخراج کے باعث ہلاک ہوئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

دہلی: سکول میں گیس پھیلنے سے 200 بچیاں ہسپتال داخل

بھوپال حادثے کو 35 سال ہو گئے: اب وہاں زندگی کیسی ہے؟

’ہم تو فون پر ہنسی مذاق کر رہے تھے‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ساریا رحمان نے بتایا کہ نادیہ کو ’گھومنے پھرنے‘ کا شوق تھا جبکہ ماریا ان کے لیے ’دوسری ماں‘ کی حیثیت رکھتی تھیں۔

بی بی سی ایشین نیٹ ورک کی راحیلہ بانو سے بات کرتے ہوئے ساریا نے بتایا کہ جب انھیں اپنی بہنوں کی موت کی خبر ملی تو انھوں نے یقین کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

’میری ان سے رات میں ہی فون پر بات ہوئی تھی اور ہم ہنسی مذاق کر رہے تھے۔‘

ساریا نے کہا کہ ان کی دونوں بہنوں میں بہت قربت تھی اور وہ ہر کام ایک ساتھ کیا کرتی تھیں۔ انھوں نے بتایا کہ ان کی بڑی بہن ماریا ہمیشہ ان کا خیال رکھتی تھیں۔

ماریا کے بارے میں مزید تفصیلات دیتے ہوئے ساریا نے کہا کہ وہ نوکری پیشہ تھیں اور ساتھ ساتھ انھوں نے ماڈلنگ بھی شروع کر دی تھی کیونکہ انھیں ’بننا سنورنا بہت پسند تھا۔‘

چھوٹی بہن نادیہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ وہ کالج کی طالبہ تھیں اور ان کا خواب تھا کہ وہ ٹیچر بنیں اور دنیا کی سیر کریں۔

ساریا نے سوشل میڈیا پر چلنے والی افواہوں کی قطعی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’غیرت کے نام پر قتل‘ ہونے کا واقعہ نہیں ہے اور اس میں کوئی سچائی نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Instagram
Image caption 24 سالہ ماریہ اور ان کی 18 سالہ بہن نادیہ پاکستان کے دورے پر تھیں

انھوں نے بتایا کہ دونوں بہنوں کی شادی پاکستانی لڑکوں سے ہوئی تھی لیکن شادی کی ناکامی پر ان کی والد نے خود طلاق کا انتظام کیا تھا۔ اپنے بارے میں بتاتے ہوئے ساریا نے کہا کہ ان کی اپنی شادی پسند کی ہے اور ان کی والدین نے پوری طرح ان کی حمایت کی اور آزادی دی۔

واقعے کا پسِ منظر

برطانیہ سے پاکستان کا دورہ کرنے والی دو بہنیں اپنے گھر میں گیس کے اخراج کی وجہ سے ہلاک ہو گئی تھیں۔

دونوں بہنوں کا تعلق لنکاشائر کے علاقے پریسٹن سے تھا۔ پولیس کا ابتدائی تفتیش کے بعد کہنا تھا کہ جائے وقوعہ سے ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جس سے شبہ ہوتا کہ ان دونوں بہنوں کی ہلاکت میں کوئی دوسرا فریق ملوث ہے۔

پولیس نے ان دونوں کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا ہے۔

پولیس کے ترجمان نے کہا تھا کہ انھوں نے ’گیس سلینڈر، پائپ اور لڑکیوں کی لاشوں کی پوری طرح جانچ کر لی ہے اور جائے وقوعہ کا بغور جائزہ لیا ہے مگر کسی قسم کے شواہد نہیں ملے جس سے کسی پر شک ظاہر ہو۔‘

پریسٹن میں خواتین کی مسجد کے امام حیدر علی نے کہا کہ دونوں بہنوں کی موت سے انھیں ’شدید غم اور دکھ‘ ہوا ہے۔

اسی بارے میں