#MohsinDawar: پی ٹی ایم کے رہنما محسن داوڑ چند گھنٹے حراست کے بعد رہا، منظور پشتین کی ضمانت کی درخواست خارج

اسلام آباد
Image caption منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف ان کی جماعت کی جانب سے منگل کو ملک میں اور بیرونِ ملک احتجاج کیا جا رہا ہے

گذشتہ شب رکن قومی اسمبلی اور پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما محسن داوڑ کو چند گھنٹے گرفتار رہنے کے بعد رہا کر دیا گیا۔

محسن داوڑ کو اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ اسلام آباد میں پریس کلب کے سامنے منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی مظاہرے میں حصہ لے رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

منظور پشتین کون ہے؟

اور کتنے غدار باقی ہیں دوست؟

منظور پشتین کے ساتھ تصویر بنوانا غیر قانونی؟

’اپنا بچہ‘ فوج کی نظر میں دشمن قوتوں کا آلۂ کار کیوں بن گیا؟

رہائی کے بعد سماجی ٹوئٹر پر سلسہ وار ٹویٹس میں محسن داروڑ کا کہنا تھا کہ منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف دنیا بھر میں ہونے والے پی ٹی ایم کے مظاہروں میں ایک بھی پُرتشدد واقعہ سامنے نہیں آیا۔

’میں نے اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج میں شرکت کی اور یہاں کے مظاہرین دوسرے مقامات کی طرح پر امن تھے۔‘

’تاہم ریاست نے ایک بار پھر ہمیں یاد دلایا کہ ان کے نزدیک ہمارے حقوق کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ انھوں نے تو ہماری گرفتاریوں کے لیے ٹھوس بنیاد پیدا کرنے کی زحمت تک گوارا نہیں کی۔‘

ان کا کہنا تھا ’پی ٹی ایم اور اے این پی کے کارکنان کے ساتھ انھیں گھسیٹ کر لیجایا گیا۔‘

محسن داوڑ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہماری آزادی سلب کی جا رہی ہے اس لیے اب چپ نہیں رہا جا سکتا۔‘

انھوں نے بتایا کہ مظاہرین میں سے کچھ اب بھی جیل میں ہیں۔ ’ہم کل تک انتظار کریں گے تاکہ اس بات کا اندازہ لگا سکیں کہ ابھی کتنے لوگ جیل میں ہیں۔ اس کے بعد ہم تب تک احتجاج کریں گے جب تک سب رہا نہیں ہو جاتے۔‘

اس سے پہلے پشاور کی عدالت نے پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما منظور پشتین کی عارضی ضمانت کی درخواست خارج کرتے ہوئے انھیں ڈیرہ اسماعیل خان کی عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

یاد رہے منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف ان کی جماعت کی جانب سے منگل کو ملک میں اور بیرونِ ملک احتجاج کیا جا رہا ہے۔

محسن داوڑ کی گرفتاری کے بارے میں اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کی نامہ نگار فرحت جاوید کو بتایا کہ انھیں اس وقت گرفتار کیا گیا جب انھوں نے ’اس باؤنڈری کو کراس کرنے کی کوشش کی جس کے بارے میں ان کے ساتھ پہلے سے طے ہوا تھا کہ وہ اس سے آگے نہیں جائیں گے، لیکن انھوں نے خاردار تاروں کو کراس کرنے کی کوشش کی اور منع کرنے کے باوجود ہماری نہیں سنی۔‘

Image caption کوئٹہ میں احتجاجی جلوس کا آغاز ٹیکسی اسٹینڈ سے ہوا جس میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی

پشتون تحفظ موومنٹ کے احتجاجی مظاہرے کا آنکھوں دیکھا حال

اسلام آباد میں پریس کلب کے سامنے ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں ہماری نامہ نگار فرحت جاوید بھی موجود تھیں۔ اس مظاہرے کا آنکھوں دیکھا حال ان کی زبانی۔

پولیس نے نیشنل پریس کلب کے باہر سپر مارکیٹ کو جانے والی روڈ پر خاردار تاریں لگا رکھی تھیں۔ وہاں موجود ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام سے جب ہم نے پوچھا کہ کیا آج یہاں گرفتاریاں بھی کی جائیں گی، تو انھوں نے کہا کہ ’یہ راستہ صرف سکیورٹی کے لیے بند کیا گیا ہے۔‘

جبکہ وہیں موجود ایک اور افسر نے سامنے فٹ پاتھ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’احتجاج کی اجازت صرف اس پوائنٹ تک دی گئی ہے، اس سے آگے بڑھنے کی کوشش کی گئی تو قانونی کارروائی کریں گے۔‘

Image caption اسلام آباد میں پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا

اس احتجاج کے دوران محسن داوڑ سمیت پی ٹی ایم کے کئی کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔

گرفتاری سے پہلے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پی ٹی ایم کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی علی وزیر نے کہا تھا کہ آج وہ صرف احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں جبکہ آئندہ کا لائحہ عمل بعد میں طے کیا جائے گا۔

تاہم عصمت شاہ جہاں نے بتایا کہ آج مارچ بھی کریں گے۔

’پولیس اہلکاروں نے موبائل چھین لیا‘

احتجاج میں شریک کارکنوں نے منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر ان کی رہائی کا مطالبہ درج تھا۔ احتجاج میں ریاستی اداروں کے خلاف نعرے بازی کی گئی تاہم صورتحال قابو میں رہی۔

اسی دوران پولیس کی بھاری نفری بھی طلب کر لی گئی۔

تقاریر کے بعد پی ٹی ایم کے رہنما اور کارکن فوج کے خلاف نعرے لگاتے آگے بڑھے جہاں پولیس نے انہیں روکا اور بتایا کہ وہ مارچ نہیں کر سکتے اور اس مقام سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔ اس موقع پر احتجاج میں شریک سیاستدان اور سابق سینیٹر بشریٰ گوہر ضلعی انتظامیہ کے نمائندوں کے پاس آئیں اور ان سے اجازت طلب کی۔

تاہم اسی دوران پی ٹی ایم کے بعض کارکنوں نے اسلام آباد پولیس کے خلاف بھی نعرے بازی شروع کر دی۔

Image caption کراچی

دونوں طرف سے ہاتھا پائی ہوئی اور پہلے نعرے بازی کرنے والے نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا اور اس کے بعد محسن داوڑ کو بھی پولیس اہلکاروں نے حراست میں لے لیا۔

اس موقع پر سادہ کپڑوں میں ملبوس ایک اہلکار نے بی بی سی کا موبائل چھین لیا اور فوٹیج بنانے سے منع کر دیا۔ احتجاج میں شریک پی ٹی ایم کے رہنما علی وزیر اس وقت تک وہاں سے جا چکے تھے جبکہ بشریٰ گوہر اور افراسیاب خٹک وہیں موجود رہے۔

گرفتار افراد کو اسلام آباد کے کوہسار پولیس سٹیشن منتقل کیا گیا ہے۔

ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'انھیں نعرے بازی پر گرفتار نہیں کیا بلکہ اجازت کے خلاف احتجاج کا دائرہ بڑھانے پر گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے قانون ہاتھ میں لیا تھا'۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا پی ٹی ایم نے مارچ کرنے کی بھی اجازت لے رکھی تھی یا نہیں کیونکہ بقول انتظامیہ اجازت صرف مختص مقام پر احتجاج کی دی گئی تھی۔

Image caption کوئٹہ

پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماؤں کی گرفتاری کی مذمت

پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے محسن داوڑ کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پُر امن احتجاج کوئی جرم نہیں ہے‘۔

یاد رہے اس سے قبل حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی منظور پشتین کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف منگل کو پشاور، کوئٹہ، لاہور، کراچی اور اسلام آباد سمیت پاکستان کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے۔

منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ کوئٹہ میں احتجاجی جلوس کا آغاز ٹیکسی اسٹینڈ سے ہوا جس میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ جلوس میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنماﺅں اور کارکنوں نے شرکت کی۔

شرکا کے ہاتھوں میں کالے جھنڈے تھے جبکہ انہوں نے بازﺅں پر سیاہ پھٹیاں بھی باندھی تھیں۔

جلوس کے شرکا انسکمب روڈ اور قندہاری بازار سے ہوتے ہوئے باچاخان چوک پہنچے جہاں احتجاجی جلسہ منعقد کیا گیا۔

احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے منظور پشتین سمیت پی ٹی ایم کے دیگر رہنماﺅں اور کارکنوں کی گرفتاری کی مذمت کی۔

مقررین نے گرفتاریوں کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے پی ٹی ایم کے سربراہ اور دیگر گرفتار کارکنوں کی فوری رہائی کامطالبہ کیا۔

منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف چمن سمیت بلوچستان کے دیگر شہروں میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے

Image caption کراچی میں پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، اس احتجاج میں پی ٹی ایم کے ساتھ پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی اور عوامی جمہوری پارٹی کے کارکن بھی شریک ہیں

منظور پشتین کی ضمانت خارج

اس سے پہلے منگل کو پشاور کی سیشن عدالت کے جج محمد یونس خان کی عدالت میں منظور پشتین کے وکلا نے استدعا کی کہ کیونکہ ایف آئی آر ڈیرہ اسماعیل خان میں درج ہوئی ہے اس لیے انھیں عارضی ضمانت دی جائے تاکہ وہ ڈیرہ اسماعیل خان کی عدالت میں پیش ہو سکیں۔

واضح رہے پشتونوں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم پشتون تحفظ موومنٹ منظور پشتین کو پولیس نے اتوار کی شب صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں تہکال کے علاقے سے گرفتار کیا تھا۔

تاہم عدالت نے یہ کہہ کر یہ درخواست خارج کر دی کہ ڈیرہ اسماعیل خان پولیس یہاں موجود ہے جو منظور پشتین کو ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کر دے گی جہاں انھیں عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

اس سے قبل منظور پشتین کو پشاور کی عدالت نے 14 دن کے ریمانڈ پر پشاور جیل بھیج دیا تھا۔

پی ٹی ایم کے رہنما اور رکنِ قومی اسمبلی محسن داوڑ نے منظور پشتین کی گرفتاری پر بی بی سی کے خدائے نور ناصر سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس گرفتاری کے پیچھے دو عوامل کار فرما ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’گرفتاری کی ایک بڑی وجہ 12 جنوری کو بنوں میں ہونے والے جلسے میں منظور پشتین کی جانب سے ایک پختون جرگے کے قیام کا اعلان ہے۔ جس میں انھوں نے پختونوں کے اتحاد کی بات کی تھی اور اس خطے میں جاری جنگ کی روک تھام اور اپنے حقوق کے حصول کے لیے جرگہ بلانے کا کہا تھا۔‘

محسن داوڑ کا یہ بھی کہنا تھا ’ہماری ریاست میں موجود چند ایسے عناصر جو پشتونوں کا اتحاد نہیں چاہتے شاید انھیں یہ بات بہت ناگوار گزری تھی۔‘

رکن اسمبلی کا کہنا تھا گرفتاری کی دوسری وجہ یہ ہے کہ ’29 جنوری کو شمالی وزیرستان کے اتمان زئی قبائل پشاور میں ایک احتجاجی جلسہ کر رہے ہیں جس کی حمایت کا اعلان پی ٹی ایم نے بھی کر رکھا ہے۔‘

محسن داوڑ نے کہا کہ منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف منگل کو پاکستان سمیت پوری دنیا میں پشتون تحفظ موومنٹ کے کارکن اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں گے جبکہ اس کے بعد کے لائحہ عمل کا اعلان احتجاجی مظاہروں کے بعد کیا جائے گا۔

ادھر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے ٹوئٹر پر پیغام میں کہا گیا ہے کہ 'منظور پشتین کو پرامن طریقے سے انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر حراست میں لیا گیا ہے۔ اور انھیں غیر مشروط طور پر فوری رہا کیا جانا چاہیے۔‘

Image caption محسن داوڑ کا کہنا ہے کہ منظور پشتین کی اس وقت گرفتاری کی وجہ ان کی جانب سے پختون جرگے کے قیام کا اعلان ہے (فائل فوٹو)

منظور پشتین گرفتاری کب اور کیوں عمل میں آئی؟

پولیس کے مطابق رات ایک بجے کے قریب تہکال کے علاقے شاہین کالونی میں ایک مکان پر چھاپہ مارا گیا جہاں سے منظور پشتین کو گرفتار کیا گیا۔

پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ ان کے ہمراہ مزید چار سے پانچ افراد ہیں جنھیں کرایہ داری قانون پر عمل درآمد نہ کرنے کے جرم میں حراست میں لیا گیا۔

پولیس کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ منظور پشتین نے 18 جنوری کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے آئین کو ماننے سے انکار کیا اور ریاست کے بارے میں توہین آمیز الفاظ استعمال کیے ہیں۔

دوسری جانب قومی اسمبلی کے رکن محسن داوڑ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پشاور میں پی ٹی ایم اپنے ایک نیا دفتر کے قیام پر کام کر رہے تھے جہاں سے انھیں گرفتار کیا گیا۔

اس سے قبل انھوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ منظور پشتین کو حراست میں لینے کی وجہ ان کی تحریک کی جانب سے پر امن اور جمہوری انداز میں اپنے حقوق کا مطالبہ کرنا ہے اور انھیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔

اسی بارے میں