پاکستان نے بچیوں کا ریپ کرنے والے مفرور مجرم کو برطانیہ کے حوالے کر دیا

Choudhry Ikhalaq Hussain تصویر کے کاپی رائٹ GMP

برطانیہ میں ایک نوجوان لڑکی کے ریپ کے جرم میں سزا پانے والے ایک مفرور شخص کو پاکستان سے گرفتار کر کے برطانوی حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

38 سالہ چوہدری اخلاق حسین نامی اس شخص کو برطانوی عدالت نے 19 سال قید کی سزا سنا رکھی تھی۔ ان کے مقدمے میں دیگر نو افراد کو بھی روشڈیل قصبے میں نوجوان لڑکیوں کے ساتھ سنگین جنسی جرائم سرزد کرنے پر مختلف سزائیں سنائی گئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

زیادتی اور پھر طالب علم کی خود کشی، ملزمان کو سزا

پاکستان میں ریپ کا شکار افراد سامنے کیوں نہیں آ پاتے؟

’خدا کے لیے کسی پر اندھا اعتبار نہ کریں‘

چوہدری اخلاق حسین کا تعلق برطانیہ کے ایک چھوٹے شہر مےفیلڈ ٹیرس سے ہے۔ 2015 میں اپنے مقدمے کے دوران وہ اپنے خاندان میں فوتگی میں شرکت کے بعد فرار ہوگئے تھے۔

گذشتہ سال انھیں پاکستان کے صوبے پنجاب میں پکڑا گیا تھا اور اب انھیں برطانیہ منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس دوران انھیں پاکستان میں برطانوی حکام کی درخواست پر زیر حراست رکھا گیا تھا۔

2016 میں ایک برطانوی عدالت نے انھیں ایک بچی کے ریپ اور جنسی ہراسانی پر سزا دی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ National Crime Agency

ان کے مقدمے کے بعد مانچسٹر پولیس نے آپریشن ڈوبلٹ نامی ایک آپریشن شروع کیا جس میں روشڈیل میں نوجوان بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے ممکنہ واقعات کی تحقیقات کی گئیں۔

اس کارروائی کی تفتیشات میں زیادہ تر واقعات 2004 اور 2008 کے درمیان پیش آئے تھے تاہم ان میں 13 سے 23 سال کی لڑکیوں اور خواتین کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

ان لڑکیوں میں سے ایک کو مقدمے میں ملوث دس کے دس مردوں نے ریپ کیا تھا۔ وہ لڑکی اس وقت پولیس کے پاس گئی جب نو ایشیائی مروں کو ایک مقامی عدالت نے ایک اور مقدمے میں سفید فام بچیوں کو نشانہ بنانے کے سلسلے میں سزا سنائی تھی۔

مانچسٹر پولیس کے ڈپنی چیف انسپکٹر جیمی ڈینیئلز کا کہنا تھا کہ ’چوہدری اخلاق حسین کو شاید یہ غلط فہمی تھی کہ وہ ایک جنسی شکاری ہوتے ہوئے کسی اور ملک میں بھاگ کر ایک اچھی زندگی گزارے گا جبکہ ان کے نشانے پر آنے والوں کو اس کے کیے کے نتائج بھگتنا پڑیں گے اور ان سے انصاف چھین لیا جائے گا۔‘

’اس کی گرفتاری اس بات کا ثبوت ہے کہ جب بات بچوں یا بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی آئے گی تو ہم چاہے کوئی دنیا کے کسی کونے میں بھی ہو، اس کا پیچھا کریں گے۔‘

اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمشین سے ڈاکٹر کرسچن ٹرنر کا کہنا تھا کہ اخلاق حسین کی برطانیہ کو حوالگی اس بات کا ثبوت ہے کہ قانون سے بھاگنے والوں کو کوئی راہِ فرار نہیں ملے گی۔

اسی بارے میں