مشترکہ خاندانی نظام یا الگ گھر: ’جوائنٹ فیملی سسٹم میں آپ اپنا آپ تو جیتے ہی نہیں‘

شادی شدہ جوڑا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

’جوائنٹ فیملی سسٹم میں آپ اپنا آپ تو جیتے ہی نہیں، وہ صرف دکھاوا ہوتا ہے، اپنا کمرہ صاف کر کے نکلنا ہے، کھانا اچھا ہونا چاہیے، تیار اچھا ہونا چاہیے، کوئی کچھ نہ بھی کہے تو آپ کو محسوس ہوتا کہ کوئی آپ کے بارے میں نجانے کیا کہے گا، جتنے زیادہ لوگ ہوتے ہیں، اتنی ہی آپ کی پرائیویسی کم ہوتی ہے، نہ چاہتے ہوئے بھی مسائل ہو جاتے ہیں۔‘

ایسا کہنا ہے مومنہ ارشاد کا، جو اپنے شوہر حمزہ خالد اور اپنی ڈیڑھ برس کی بیٹی کے ساتھ اسلام آباد میں رہتی ہیں۔ اس جوڑے کی شادی کو چار برس کا عرصہ گزر چکا ہے اور وہ شروع سے ہی اپنے خاندان سے الگ رہ رہے ہیں۔

حمزہ کہتے ہیں کہ خاندان سے الگ رہنے کا فیصلہ ان کا اپنا تھا تاہم ان کے گھر والوں کو بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ وہ بتاتے ہیں کہ الگ رہنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ اپنے گھر والوں سے بالکل بھی رابطے میں نہیں ہیں۔

لیکن اسلام آباد کے ہی ایک اور رہائشی جوڑے عدیل طارق اور ماریہ عدیل، جن کی شادی ہوئے بھی چار برس گزر گئے ہیں، اپنے دو بچوں کے ساتھ جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’ہم نے اپنی کہانی خود لکھی، کسی کو نہیں لکھنے دی‘

’خاندان کا جھگڑا باعثِ ندامت ہے‘

بدسلوکی کرنے والے شریکِ حیات کی شناخت کیسے ہو؟

ماریہ نے ہمیں بتایا ’بہت سے لوگ پوچھتے ہیں کہ آپ لوگ الگ گھر کیوں نہیں لیتے، آپ لوگوں کو تو کوئی مالی مشکلات کا بھی سامنا نہیں لیکن ہم جوائنٹ سسٹم میں رہنا پسند کرتے ہیں۔‘

Image caption عدیل طارق اور ماریہ عدیل

کچھ جوڑے شادی کے بعد مشترکہ خاندانی نظام میں رہنا پسند کرتے ہیں لیکن کچھ جوڑے ایسے بھی ہے جو علیحدہ رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

پاکستانی معاشرے میں برسوں سے یہ روایت رہی ہے کہ اکثر لڑکا اور لڑکی شادی کے بعد الگ نہیں رہتے اور اگر کوئی جوڑا الگ رہنا بھی چاہے تو اس کی وجہ سے خاندانی مسائل اتنی شدت اختیار کر لیتے ہیں کہ خاندان کے باقی لوگ اور معاشرہ ان کو ایسا کرنے نہیں دیتا یا ایسا کرنے کی صورت میں انھیں شدید تنقید کا سامنا بنایا جاتا ہے۔

’الگ رہنے کا سوچ کر صورتحال مشکل لگتی ہے‘

عدیل طارق کہتے ہیں کہ وہ اکثر اپنے کام کے سلسلے میں گھر سے باہر رہتے ہیں اور الگ رہنے کا سوچ کر انھیں صورتحال خاصی مشکل لگتی ہے۔

’یہ سوچ کر تسلی رہتی ہے کہ گھر میں دوسرے لوگ بھی میری بیوی اور بچوں کے ساتھ موجود ہیں، تو مجھے اطمینان رہتا ہے کہ وہ محفوظ ہیں۔‘

ماریہ کا بھی کچھ ایسا ہی کہنا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اکیلے رہنا اور اکیلے بچوں کی دیکھ بھال کرنا ایک مشکل کام ہے۔

’میں سوچ بھی نہیں سکتی کہ ایک اکیلے گھر میں دو بچوں کے ساتھ رہنا کیسا ہو گا۔ یہ بہت مشکل لگتا ہے۔‘

لیکن مومنہ خاندان سے الگ رہنے کو ہی ترجیح دیتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ آپ کو اپنے جیون ساتھی کس سمجھنے کے لیے وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔

مومنہ کا ماننا ہے کہ اکیلے رہنے سے انھیں اپنی مرضی سے رہنے کا موقع زیادہ ملتا ہے۔ وہ کہتی ہیں ’میں نے اگر کوئی چیز پھینک دی تو وہ گری ہی رہے جب میرا دل کرے گا میں اٹھا لوں گی۔‘

Image caption حمزہ خالد اور مومنہ ارشاد

حمزہ بھی اپنی اہلیہ کی اس رائے سے اتفاق کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اکیلے رہنے سے آزادی کا احساس زیادہ ہوتا ہے۔

'ہم گھر میں بمشکل ہی کھانا بناتے ہیں، ہر کام کرنے سے پہلے کسی کو بتانا نہیں پڑتا، لیکن ’ہمیں جب بھی ضرورت پڑتی ہے، تو ہماری فیملی ہمیں سپورٹ بھی کرتی ہے۔‘

’بچوں کی پرورش میں خاندان کا کردار کتنا اہم‘

ماریہ عدیل کہتی ہیں کہ کچھ مائیں اس بارے میں بہت حساس ہوتی ہیں کہ ہمارے بچے کو کچھ نہ کہا جائے لیکن وہ ایسا نہیں سوچتیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ ان کے بچے دادا دادی کے ساتھ وقت گزاریں اور ان سے سیکھیں کیونکہ ان کا تجربہ زیادہ ہے۔

’والدین اپنے بچوں کو اپنی زندگی کا بہترین وقت دیتے ہیں، لیکن اگر بچے بڑے ہو کر یہ فیصلہ کر لیں کہ انھیں الگ رہنا ہے، تو یہ والدین کے ساتھ زیادتی ہے۔‘

حمزہ کو اپنے والدین سے دور رہنے کا صرف ایک نقصان جو نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ انھیں اپنی بیٹی کی تربیت میں اپنے والدین کی کمی محسوس ہوتی ہے۔

وہ کہتے ہیں ’بچے اپنے دادا نانا سے زیادہ سیکھتے ہیں، شاید ان کے پاس بچوں کے لیے زیادہ وقت ہوتا ہے، وہ بچے کو پوری توجہ دیتے ہیں جو شاید ہم بھی نہیں دے سکتے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

لیکن حمزہ کی اہلیہ مومنہ ان کی اس بات سے اتفاق نہیں کرتیں۔ ان کے خیال میں دادا دادی اور نانا نانی بچوں کو بے جا لاڈ پیار دے کر ان کی عادتیں بگاڑ دیتے ہیں۔

'داداد دادی اور نانا نانی بچوں کو ڈانٹتے نہیں ہیں اور بچوں کو لگتا ہے کہ ہم کچھ بھی کر لیں تو ہمیں کچھ نہیں کہا جائے گا۔‘

ذمہ داریوں کے لحاظ سے کون سا نظام زیادہ بہتر ہے؟

عدیل کا ماننا ہے کہ الگ رہنے سے ذمہ داریوں میں اضافہ ہو جاتا ہے اور آپ کو ہر چیز کا خود دھیان رکھنا پڑتا ہے،

’سب چیزیں آپ کو خود کرنی پڑ جائیں تو بہت مشکل ہو جاتا ہے، تو ہر لحاظ سے والدین کے ساتھ رہنے کا آپ کو فائدہ ہی ہے۔‘

ماریہ کا ماننا ہے کہ جوائنٹ فیملی سسٹم میں کام اور ذمہ داریاں تقسیم ہو جاتی ہیں،اور کام آپس میں بانٹ لیا جاتا ہے۔

’اگر جوائنٹ فیملی سسٹم کا موازنہ الگ رہنے سے کیا جائے تو الگ رہنے میں ذمہ داریاں کہیں زیادہ ہیں کیونکہ آپ کو ایک ایک چیز خود دیکھنا ہوتی ہے۔‘

بجلی، گیس، پانی، اور موٹر چلانے سے لے کی نجانے دن کے کتنے کام ایسے ہوتے ہیں جو آپ کو اکیلے دیکھنا پڑتے ہیں۔‘

’میرے سسرال میں کھبی اس قسم کے مطالبات نہیں کیے گئے کہ ہمیں فلاں کھانا ہی کھانا ہے، اس وقت پر کھانا ہے، مجھے کبھی ایسا کام کربے پر مجبور نہیں کیا گیا جو کرنے کو میرا دل نہ چاہ رہا ہو۔‘

مومنہ ارشاد جو خاندان سے الگ رہنے کو ترجیح دیتی ہیں ان کا بھی ماننا ہے کہ اکثر گھر کے کام اور بچی کی دیکھ بھال کرتے ہوئے انھیں یہ ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ کوئی ان کا ہاتھ بٹا دے، یا تھوڑی دیر کے لیے ان کی بیٹی کو اٹھا لے۔

’بیوی بچوں کو الگ الگ وقت دینا کبھی کبھی مسئلہ ضرور بن جاتا ہے‘

عدیل کا ماننا ہے کہ جوائنٹ فیملی سسٹم میں والدین اور بیوی بچوں کو الگ الگ وقت دینا کبھی کبھی مسئلہ ضرور بن جاتا ہے۔ لیکن یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں، کیونکہ آپ چیزوں کو جتنا بڑا بناتے جائیں گے وہ اتنا بڑا بنتے جائیں گے، جتنا ان چیزوں کو چھوٹا رکھیں گے وہ چھوٹی رہیں گی۔ آپ کو ان چیزوں سے اچھے طریقے سے نمٹنا آنا چاہیے۔‘

دوسری جانب حمزہ بتاتے ہیں کہ الگ رہنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہم اپنے گھر والوں سے نہیں ملتے۔

’میں تقریباً روزانہ ہی اپنے والدین سے ملنے جاتا ہوں اور فون پر بھی دن میں دو تین بار بات ضرور ہوتی ہے، مگر جو لوگ قریب سے نہیں جانتے وہ یہی کہتے ہیں کہ یہ تو شاید چھ چھ ماہ نہیں ملتا۔‘

اسی بارے میں