#HafizSaeed: حافظ سعید کی فلاحی تنظیموں پر پابندیوں، الزامات اور عدالتوں سے آنکھ مچولی تک کا سفر

حافظ سعید تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد حافظ سعید پر وہ الزامات ثابت ہو گئے ہیں جن کی زد میں وہ تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے تھے۔

لشکر طیبہ، جماعت الدعوۃ اور مرکز دعوۃ والارشاد کے بانی حافظ محمد سعید کے جاننے والوں کا کہنا ہے کہ اُن کی سوچ اور نظریے پر 1971 میں ملک کے دو لخت ہونے اور بنگلہ دیش کے قیام کے گہرے اثرات پائے جاتے ہیں اور اپنے نظریے کو عملی جامہ پہنانے کا آغاز دراصل انھوں نے انیس سو اکہتر کے فوراً بعد ہی کر دیا تھا۔

لیکن اس نظریے کی تشہیر کے لیے باقاعدہ نتظیم سازی کا آغاز انھوں نے سن 1986 میں ایک ماہانہ میگزین 'الدعوۃ' کی اشاعت سے کیا۔

اسی وقت مرکز دعوۃ والارشاد کی تشکیل بھی عمل میں آئی۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ اس تنظیم کا کام تبلیغ و فلاح کرنا تھا۔ اس مقصد کے لیے مختلف رسائل اور جرائد کے علاوہ مختلف فلاحی کاموں کا بھی سہارا لیا گیا۔

’حافظ سعید جیسے عناصر بوجھ ہیں، جان چھڑانے کے لیے وقت چاہیے‘

’حافظ سعید کے خلاف بھی اسامہ جیسی کارروائی نہ ہو جائے‘

اقوام متحدہ کی فہرست میں شامل تنظیمیں پاکستان میں کالعدم

ان میں سرفہرست تعلیمی اداروں کا قیام تھا۔ مرکز الدعوۃ کے زیراہتمام ملک کے مختلف علاقوں میں مدارس کھولے گئے۔ حافظ سعید نے زیادہ توجہ پنجاب کے دیہات اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر پر مرکوز رکھی۔

حافظ سعید نے اپنی سرگرمیوں کا محور لاہور کے نواح میں واقع قصبے مریدکے میں قائم مرکز دعوۃ والارشاد کو بنایا۔

لشکر طیبہ

اس دوران انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں ایک نئی علیحدگی پسند تحریک نے جنم لیا۔ اب تو جیسے حافظ سعید کی برسوں پرانی خواہش ہو گئی۔ بعض لوگ تو اس امکان کو بھی مسترد نہیں کرتے کہ کشمیر میں آزادی کی نئی تحریک میں حافظ سعید اور ان کے ساتھیوں کا اہم کردار تھا۔

اسی کی دہائی کے ختم ہوتے ہوتے، حافظ سعید نے کشمیر میں جاری تحریک میں باضابطہ طور پر شمولیت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کے لیے عسکریت پسندوں کی بھرتی کا کام شروع کر دیا گیا۔ 1990 تک ان کے پاس اتنی تعداد میں تربیت یافتہ ہتھیار بند ’جہادی‘ موجود تھے جن کے بل بوتے پر انھوں نے لشکر طیبہ کے نام سے ایک نئی تنظیم کی بنیاد رکھی۔

دیکھتے ہی دیکھتے حافظ محمد سعید کی تنطیم لشکر طیبہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں سرگرم عمل عسکری تنظیموں میں ایک مؤثر گروپ کے طور پر سامنے آئی۔ تنظیم کی زیادہ تر رکنیت پاکستانیوں کی تھی۔ یہ سلسلہ دس برس چلتا رہا۔ اس دوران لشکر طیبہ کی عسکری کارروائیاں اتنی زیادہ تعداد میں ہونے لگیں کہ خود حافظ سعید اپنی اصل تنظیم مرکز الدعوۃ کے بجائے لشکر طیبہ کے نام سے پہچانے جانے لگے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اور پھر امریکہ میں گیارہ ستمبر 2001 کے حملے ہوگئے۔

ان حملوں نے پاکستان اور بھارت میں عسکریت پسندی کی تحریکوں کو جیسے ایک نئے دور میں داخل کر دیا اور کچھ گروہوں کو باضابطہ طور پر دہشت گرد قرار دیا گیا۔ کشمیر کے بارے میں پاکستانی اور بھارتی حکومتوں کے درمیان خاموش معاہدے ہوئے جن کے نتیجے میں کشمیر میں عسکری کارروائیوں کا سلسلہ سرد پڑتا چلا گیا۔

جماعت الدعوۃ

لشکر طیبہ اس وقت ایک نئی صورتحال سے دو چار ہوئی جب نومبر 2001 میں انڈین پارلیمنٹ پر ہونے والے خودکش حملوں کے الزام میں اس پر حکومت پاکستان کی جانب سے پابندی عائد کر دی گئی۔ لیکن چونکہ پابندی کا دائرہ اثر صرف پاکستان کے اندر تھا تو اس سے نمٹنے کے لیے حافظ سعید نے اپنے دیرینہ ساتھی ذکی الرحمٰن لکھوی کو اس تنظیم کا سربراہ مقرر کر کے اس کے دفاتر پاکستان کے زیرانتظام کشمیر منتقل کر دیے اور خود ایک بار پھر مرکز الدعوۃ کے کاموں میں مصروف ہو گئے۔ لیکن اس تنظیم کا نام انھوں نے بدل کر جماعت الدعوۃ رکھ دیا۔

ممبئی حملوں سے انکار اور سر کی قیمت

چھبیس نومبر دو ہزار آٹھ میں ممبئی میں ہوئے دہشت گرد حملوں کا الزام فوری طور پر حافظ سعید اور ان کی تنظیم پر لگا۔ ان کے قریبی ساتھی اور لشکر طیبہ کے سربراہ ذکی الرحمٰن لکھوی اپنے کئی ساتھیوں سمیت اس حملے میں ملوث ہونے کے الزام کا سامنا کر رہے ہیں۔

حافظ سعید آج بھی ان حملوں سے اعلان لا تعلقی کرتے ہیں لیکن انڈیا کے ساتھ ساتھ امریکہ ابھی انہیں ان حملوں کا ماسٹر مائنڈ قرار دیتا ہے۔ اسی بنا پر ’کافی شواہد‘ ملنے کے بعد امریکہ نے حافظ سعید کے بارے میں گرفتاری اور سزا میں مدد دینے والے کے لیے ایک کروڑ ڈالر انعام کا بھی اعلان کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

قانون اور عدالتوں کے ساتھ آنکھ مچولی

ممبئی حملوں کے بعد سے حافظ سعید کئی بار گرفتار ہوئے یا نظر بند کیے گئے لیکن ہر بار ’ناکافی‘ ثبوتوں کی بنا پر رہا کر دیے گئے۔

پہلی بار انہیں ممبئی حملوں کے چند روز بعد نظر بند کیا گیا اور ان کی تنظیم کو دہشت گرد گروہ قرار دے کر اس کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا۔

شدید بین الاقوامی دباؤ کے بعد پاکستان نے سنہ 2015 کے بعد ان کی تنظیم جماعت الدعوۃ کو ان شدت پسند تنظیموں کی فہرست میں ڈالا جو سرکار کے زیر نگرانی یا واچ لسٹ میں تھے۔

سنہ 2017 میں 31 جنوری کو انھیں لاہور کے جوہر ٹاؤن میں واقع ان کے گھر میں خدشۂ نقصِ امن کے تحت نظربند کیا گیا تھا۔

انھیں 10 ماہ کے بعد نومبر 2017 میں اس وقت رہا کیا گیا تھا جب لاہور ہائی کورٹ نے ان کی نظر بندی میں توسیع کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں