ترک صدر رجب طیب اردوغان کا پاکستانی پارلیمنٹ سے خطاب: ایف اے ٹی ایف پر پاکستان کی حمایت کی یقین دہانی

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کا پاکستان کی پارلیان سے خطاب تصویر کے کاپی رائٹ Anadolu Agency

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے جمعے کو پاکستان کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) میں بھرپور تعاون کا یقین دلایا ہے۔

طیب اردوغان نے مزید کہا کہ ماضی کی طرح مستقبل میں بھی ’ہم پاکستان کا بھرپور ساتھ دینے کا سلسلہ جاری رکھیں گے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ایف اے ٹی ایف کے اجلاسوں میں پاکستان پر سیاسی دباؤ ڈالے جانے کے بجائے پاکستان کی حمایت جاری رکھنے کا یقین دلاتے ہیں۔‘

ترک صدر رجب طیب اردوغان دو روزہ سرکاری دورے پر جمعرات سے پاکستان میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’پاکستان کو دھمکی دی نہ عدم شرکت پر مجبور کیا‘

عمران خان کو کوالالمپور اجلاس میں عدم شرکت پر افسوس

سعودی وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان کو کیا تسلی دے گا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Anadolu Agency

وہ پاکستان کی پارلیمنٹ سے سب سے زیادہ چار مرتبہ خطاب کرنے والے پہلے غیر ملکی سربراہ مملکت بن چکے ہیں۔ اس سے قبل وہ دو بار بطور وزیر اعظم اور ایک بار بطور صدر پاکستان کی پارلمیان سے خطاب کر چکے ہیں۔

جمعے کی صبح تقریباً گیارہ بجے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے پر وزیراعظم عمران خان، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ان کا استقبال کیا۔ وزیراعظم عمران خان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، رہنما ن لیگ خواجہ آصف سمیت اراکان پارلیمان کی بڑی تعداد نے مشترکہ اجلاس میں شرکت کی۔

جمعے کے خطاب کے دوران انھوں نے پاکستان سے تعلقات مزید بہتر بنانے سے متعلق اپنے عزم کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا جس طرح ترکی گذشتہ تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک پی کے کے اور فیتو جیسی تنظیموں کی شدت پسندی کا شکار رہا ہے ایسے ہی پاکستان شدت پسندی سے بری طرح متاثر ہونے والا ملک ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کو درپیش مشکلات سے آگاہ ہیں۔ ’ہم دہشتگردی کے خلاف تعاون جاری رکھیں گے۔ پاکستان کی شدت پسندی کے خلاف کامیابیوں اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔‘

صدر طیب اردوغان نے ترکی میں بغاوت کو ناکام بنانے میں پاکستان کی حمایت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایسا ہی تھا جیسے جنگ آزادی کے بعد دوسری جنگ نجات میں پاکستان نے ہمارا ساتھ دیا ہے‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ General Photographic Agency
Image caption خیال رہے کہ چنا کلے ترکی کا وہ مقام ہے جہاں موجودہ ترکی نے 1923 میں آزادی کی فیصلہ کن جنگ جیتی تھی

انھوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی ترکی کا بھرپور ساتھ دیا ہے، ’پاکستان نے پاک ترک سکولوں کا نظام ہمارے حوالے کر کے حقیقی دوست ہونے کا ثبوت دیا‘۔

انھوں نے کہا کہ ’جب پشاور میں 2016 میں آرمی پبلک سکول پر دہشتگردی کا حملہ ہوا تو ترکی نے ایک دن ماتم کا اعلان کیا تھا۔‘

کشمیر ترکی کا ’چنا کلے‘

ترک صدر نے کہا کہ 'کشمیر ترکی کے لیے 'چنا کلے' کی حیثیت رکھتا ہے'۔ خیال رہے کہ چنا کلے ترکی کا وہ مقام ہے جہاں موجودہ ترکی نے 1923 میں آزادی کی فیصلہ کن جنگ جیتی تھی۔ اس جنگ میں ہزاروں ترک فوجی مارے گئے تھے۔

طیب اردوغان اپنے ہر خطاب میں اس معرکے کا ذکر کرتے ہیں اور اس میں برصغیر کے مسلمانوں کا نوآبادیاتی چیلنجز کے خلاف کھڑے ہو کر ترکی کی سفارتی، اخلاقی، جانی اور مالی تعاون کرنے کے لیے ہر بار شکریہ ادا کرتے ہیں۔

ترک صدر نے جمعے کے خطاب میں بھی کہا کہ ’اس وقت کشمیر بھی ہمارے (ترکی) کے لیے وہی ہے جو آپ کے لیے (چنا کلے) تھا۔ کل چنا کلے تھا اور آج چنا کلے ہے، کوئی فرق نہیں ہے ان میں۔‘

ترک صدر نے کہا کہ ’پاکستان کا درد ترکی کا درد ہے اور پاکستان کی خوشی ترکی کی خوشی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’بھارت کے یکطرفہ اقدامات سے کشمیری بھائیوں کی تکالیف میں اضافہ ہوا لیکن مسئلہ کشمیر کا حل جبری پالیسیوں سے نہیں بلکہ انصاف سے ممکن ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Anadolu Agency

انھوں نے کشمیر کے مسئلے کے پرامن حل پر بھی زور دیا۔

ترک صدر نے امریکہ کے مشرق وسطیٰ کے لیے امن منصوبے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ امن منصوبہ نہیں ہے بلکہ وہ ایک قبضے کا منصوبہ ہے۔‘

رجب طیب اردوغان نے کہا کہ پاکستانی حکومت کے مثبت اقدامات سے سرمایہ کاری اور تجارت کا ماحول سازگار ہو رہا ہے لیکن اقتصادی ترقی چند دنوں میں حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’پاکستان اور ترکی کی دوستی مفاد پر نہیں بلکہ عشق و محبت پر مبنی ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں