ڈیمنشیا: کیا پاکستان آنے والے وقت کے چیلنج کے لیے تیار ہے؟

دماغ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کسی حادثے، بیماری، یا ذہنی دباؤ کی صورت میں یاداشت کی کمزوری ڈیمنشیا نہیں بلکہ یہ یاداشت کے علاوہ کئی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کی بتدریج کمزوری کا نام ہے

علی تجمل کینیڈا میں بینکنگ کے کیرئر کو خیرباد کہنے کے بعد حال ہی میں پاکستان پہنچے ہیں۔ وہ اور ان کی اہلیہ طاہرہ تجمل خود بھی ریٹائرمنٹ کے بعد بڑھاپے کی زندگی کی تیاری میں ہیں لیکن اس وقت ان کی بڑی ذمہ داری ان کی عمر رسیدہ والدہ کی دیکھ بھال ہے۔

لاہورمیں واقع علی تجمل کے آبائی گھر کے مکینوں کا اکثر وقت ایک ایسے بزرگ کی دیکھ بھال میں گزرتا ہے جو اپنے ماضی کی چھوٹی بڑی باتوں کو بھلا چکا ہے، اپنے حال سے غافل ہے اور جس کا مستقبل ایک تاریکی کے سوا کچھ نہیں ہے۔

ڈیمنشیا کے اس مرض کے بعد اہلخانہ ہی اس مریض کی ’یاداشت‘ ہیں۔

اچھا خاصا عاقل انسان اگر خود ہی اپنی کہی بات دو منٹ کے بعد بھول جائے۔ خاتون خانہ کو یہ یاد نہ آئے کہ کچن میں چینی کا مرتبان کہاں رکھا تھا یا اپنا چشمہ دن میں کئی بار گم کر دیا جائے تو تشویش تو ہو گی۔

یہ بھی پڑھیے

ڈمنشیا:ہر تین سیکینڈ میں نیا مریض، امید کی کوئی کرن

’لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی ذہنی مسئلہ ہے تو آپ پاگل ہیں‘

خواتین میں آٹزم کی تشخیص مشکل کیوں

علی تجمل نے بھی چند سال قبل ایسی ہی علامات والدہ میں دیکھنا شروع کیں تو ان کو پریشانی ہوئی۔ یہ علامات شدید تر ہوتی چلی گئیں اور پھر بات ڈیمنشیا کی تشخیص تک پہنچی۔

وہ بتاتے ہیں ’والدہ رات کو اٹھ جاتی تھیں۔ ڈر رہتا کہ کہیں گر نہ جائیں۔ ان کی ایک کروٹ کسی کو سلاتے اور دوسری جانب کوئی رکاوٹ رکھتے، وہ پھر بھی اٹھ جاتیں۔ ایک بار گریں بھی اور فریکچر ہوا۔‘

Image caption علی تجمل کینیڈا میں رہتے ہوئے ڈیمنشیا سے متاثرہ افراد کی دیکھ بھال کا نظام دیکھ چکے ہیں۔ وہ اپنی والدہ کے لیے بھی ایسی ہی تدابیر پاکستان میں کرنے کی کوشش کرتے ہیں

اب والدہ کی دیکھ بھال چوبیس گھنٹے کی زمہ داری میں تبدیل ہو چکی تھی۔ تب سے علی تجمل اور ان کی اہلیہ طاہرہ تجمل ڈیمنشیا سے متعلق اپنی معلومات بڑھاتے چلے آئے ہیں۔

الزائمرز اور اس کے تحت ڈیمنشیا کو بالعموم بھول جانے کی بیماری کے طور پر جانا جاتا ہے لیکن یہ اس قدر سادہ بھی نہیں ہے۔ کسی حادثے، بیماری، یا ذہنی دباؤ کی صورت میں یاداشت کی کمزوری ڈیمنشیا نہیں بلکہ یہ یاداشت کے علاوہ کئی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کی بتدریج کمزوری کا نام ہے۔ جن میں توجہ اوردھیان نہ دے پانا، جسم اور ذہن کی ہم آہنگی کم ہونا، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں کمی سبھی شامل ہیں۔

وقت کے ساتھ یہ علامات پختہ ہو کر مریض کے لیے روزمرہ کی سماجی ذندگی کے معمولات انجام دینا ناممکن بنا دیتی ہیں اور مریض کو مسلسل دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔

اسے بالعموم بڑھاپے کی بیماری سمھجا جاتا ہے لیکن ماہر ڈاکٹر کی مدد سے اس کے اثرات پہلے بھی دیکھے جا سکتے ہیں،خاص طور پر جب خاندان میں بیماری پہلے سے موجود رہی ہو۔

عالمی اقتصادی فورم کی رپورٹ کیا کہتی ہے؟

عالمی اقتصادی فورم نے اس سال کے شروع میں بڑے عالمی خطرات کی فہرست جاری کی ہے۔ صحت کے شعبے میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں این سی ڈیز یعنی ایک سے دوسرے کو نہ لگنے والی بیماریوں کی شرح وبائی امراض سے زیادہ ہو جائے گی۔

این سی ڈیز سے اب تک دنیا بھر میں ہر سال چار کروڑ دس لاکھ اموات ہوتی ہیں جبکہ رپورٹ میں عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ یہ تعداد دو ہزار تیس تک بڑھ کر پانچ کروڑ بیس لاکھ ہو جائے گی۔

ان این سی ڈیز میں ڈیمنشیا سر فہرست ہے۔ آنے والے وقت میں دنیا بھر میں ہر سال ڈیمنشیا سے متاثرہ افراد کی تعداد میں ایک کروڑ کا اضافہ ہونے لگے گا۔

رپورٹ کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ افراد کی اوسط عمر میں اضافہ ہے۔ مختلف معاشروں میں اوسط متوقع عمر بیس سے پچاس سال تھی جو اب مجموعی طور پر ستر سال ہو چکی ہے۔ جبکہ مخلتف ترقی پزیر اور ترقی یافتہ ملکوں کے درمیان اوسط عمر کا فرق تینتیس سال تک پہنچ گیا ہے۔

اقتصادی فورم کی رپورٹ نے اس ضمن میں خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر کے صحت کے موجودہ نظام ناکامی سے دوچار ہو رہے ہیں اور بیماریوں کی بدلتی ہوئی نوعیت سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ملکوں کے بجٹ بوڑھے افراد کی دیکھ بھال پر خرچ ہونے لگیں گے اور افراد کی ذاتی ذندگی میں بھی کمائی اور پینشن تعلیم، رہائش، اور دیگر اخراجات سے زیادہ بڑھاپے کے ان مسائل سے نمٹنے میں لگیں گے۔

Image caption سیکرٹری الزائمرز پاکستان ڈاکٹر حسین جعفری

کیا پاکستان آنے والے وقت کے اس چیلنج کے لیے تیار ہے؟

عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پچیس فیصد اموات این سی ڈیز کے باعث ہوتی ہیں۔

الزائمرز پاکستان کے سیکرٹری ڈاکٹر حسین جعفری نے بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ پاکستان میں ڈیمنشیا کے اعداد و شمار کے لیے کوئی رجسٹری قائم نہیں ہے لیکن ایک اندازے کے مطابق پانچ سے دس لاکھ افراد اس مرض کا شکار ہیں اور یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔

پاکستان کے سرکاری ہسپتالوں میں الزائمرز یا ڈیمنشیا کے لیے مخصوص شعبے قائم نہیں ہیں۔ اس سلسلے میں نجی شعبے میں ہی ڈاکٹرز سے مدد لی جاتی ہے لیکن یہاں بھی ایسے مریضوں کے لیے نگہداشت کے مراکز یا ڈے کیئرز موجود نہیں۔

جبکہ موجودہ نظام کی ابتری کی ایک مثال اب تک پولیو پر قابو پانے میں ناکامی بھی ہے۔ این سی ڈیز سے نمٹنے کے چیلنج کے لیے پاکستان سے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ صحت کا موجودہ نظام اس کے لیے بالکل تیار نہیں ہے۔

لاہور میں ڈیمنشیا کے مریضوں کے لیے قائم خصوصی مرکز

الزائمر، ڈیمنشیا، یا بھولنے کے مرض پر پاکستان میں سرکاری ہسپتالوں میں ایسے مریضوں کے لیے کوئی خصوصی شعبہ موجود نہیں ہے۔ ان مریضوں کی دیکھ بھال کرنے والے افراد مریض کے لیے تو پرائیویٹ ڈاکٹر ڈھونڈ سکتے ہیں لیکن خود اپنی کاؤنسلنگ کے لیے کہاں جائیں۔

ڈاکٹر حسین جعفری کے مطابق ڈیمنشیا سے متاثرہ شخص کی دیکھ بھال کرنے والے افراد زیادہ بڑی مشکل کا شکار ہوتے ہیں۔ ان کے چوبیس گھنٹے ایسے مریض کے لیے وقف ہوں تو ہی ان کی دیکھ بھال کی جا سکتی ہے۔ ایسے میں دیکھ بھال کرنے والے افراد کی اپنی ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے کاؤنسلنگ درکار ہے۔

لاہور کے ایک نسبتاً خاموش علاقے پی سی ایس آئی آر میں ایک عمارت ایسے ’کیئر ٹیکرز‘ کو دعوت عام دیتی ہے، یہاں ماہرین کے ساتھ اور آپس میں بات کرنے سے ہی ان اہلخانہ کی تھکاوٹ دور ہوتی ہے جو کسی عزیز کی یاداشت کا بوجھ اپنے ذہن میں لیے پھرتے ہیں۔

Image caption لاہور کے علاقے پی سی ایس آئی آر میں ایک عمارت ڈیمنشیا کے مریضوں کے ’کیئر ٹیکرز‘ کو دعوت عام دیتی ہے جو کسی عزیز کی یاداشت کا بوجھ اپنے ذہن میں لیے پھرتے ہیں

اس سپورٹ گروپ میٹنگ میں ڈاکٹر حسین جعفری مریض کی دیکھ بھال کے ساتھ، اہل خانہ کو خود اپنی ذہنی صحت کے متعلق آگاہی بھی دیتے ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ ایسے افراد کی ذمہ داری لینا آسان نہیں ہے۔ چ

چوبیس گھنٹے کی اس ڈیوٹی کے لیے بہت سے لوگ بیروزگار ہوئے ہیں، سماجی رابطے برقرار نہیں رکھ سکے، انھیں دوستوں اور مشاغل کو ترک کرنا پڑا۔

اہلخانہ کو متاثرہ فرد کے جسمانی مسائل میں مدد کے علاوہ ان کا چڑ چڑا پن، غصہ، جھنجھلاہٹ بھی برداشت کرنا ہوتا ہے اور یہ سب آسان نہیں ہے۔

کینیڈا سے لوٹنے والے علی تجمل اور طاہرہ جعفری بھی یہاں پاکستان میں سپورٹ گروپ کے اس سہارے سے خوش ہیں اور سیشنز کے لیے یہاں آتے ہیں۔

یہاں ان کے علاوہ دوسرے افراد کے تجربات سنیں تو اس بیماری کی مشکلات کا اندازہ ہوتا ہے۔ سپورٹ گروپ کے مذکر نامی ایک نوجوان رکن نے بتایا کہ وہ ڈیمنشیا کے مریض والد کے ساتھ اکیلے رہتے ہیں۔

والد کی دیکھ بھال کی زمہ داری میں ان کی نوکری چلی گئی جبکہ اب ایک فیکٹری میں عارضی طور پر کام کر رہے ہیں لیکن والد کو اکیلے گھر پر چھوڑنا ایک بڑا مسئلہ ہے۔

کاؤنسلنگ سیشن کے دوران مذکر نے خصوصی طور پر معاشرتی رویوں کا شکوہ کیا۔

’لوگوں کا رویہ اس سلسلے میں بہت تکلیف دیتا ہے۔ رشتہ دار مجھ سے کہتے ہیں کہ میں شادی کیوں نہیں کر رہا جبکہ اس صورتحال میں رشتہ ملنا بھی مشکل ہے جیسے یہ میرا ہی قصور ہو۔‘

اسی طرح ایک اور گھریلو خاتون اپنے بیٹے کے ساتھ موجود تھیں جن کے گھر میں ان کے شوہر کے بڑے بھائی ڈیمنشیا کے مریض ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مریض کا غصہ اور چڑچڑاپن بہت بڑھ گیا ہے اور وہ خود اس کی وجہ سے ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔

Image caption پاکستان کے سرکاری ہسپتالوں میں الزائمرز یا ڈیمنشیا کے لیے مخصوص شعبے قائم نہیں ہیں

ایسے میں تمام اہلخانہ کے لیے مشورہ دیا گیا کہ وہ دیگر احباب سے مدد لینے میں نہ ہچکچائیں اور کچھ وقت اپنی دلچسپی کے مشاغل میں ضرور صرف کریں۔

جبکہ متاثرہ فرد کے لیے بھی فزیو تھراپی کے ساتھ کسی جسمانی اور ذہنی سرگرمی کا بندوسبت کریں۔

ڈیمنشیا اور خواتین

دی گلوبل وائس آن ڈیمنشیا نامی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق خواتین میں ڈیمنشیا لاحق ہونے کا خطرہ مردوں سے زیادہ ہے۔ اور ان میں ظاہر ہونے والی علامات کی نوعیت بھی شدید ہے۔

ڈاکٹر حسین جعفری اس کا ایک پہلو کیئر ٹیکرز کے حوالے سے بھی بتاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی معاشرے میں مرد گھر سے باہر چلے جاتے ہیں جبکہ گھر میں موجود خاتون ایسے مریض کے ساتھ سب سے زیادہ وقت گزارتی ہے۔

گھر کے کام کاج اور بچوں کی زمہ داری کے ساتھ گھریلو خاتون کو اگر ڈیمنشیا کے کسی مریض کی دیکھ بھال بھی کرنا ہو تو اس کی اپنی ذہنی صحت کئی خطرات سے دوچار ہوتی ہے۔

جبکہ دنیا بھر میں کیئر ہومز میں بھی ایسے مریضوں کی دیکھ بھال کا پیشہ اپنانے والوں میں زیادہ تعداد بھی خواتین کی ہے۔

یاداشت کو کیسے سنبھال کر رکھیں

ماہرین کے مطابق الزائمرز، ڈیمنشیا سے بچاؤ کا کوئی مخصوص اور ثابت شدہ طریقہ کار نہیں ہے۔ اس مرض کی تشخیص بھی اتنی سیدھی سادی نہیں ہے۔ علامات کئی سال کے عرصے تک دھیرے دھیرے ظاہر ہوتی ہیں اور زور پکڑتی ہیں۔

لیکن طرز ذندگی میں کچھ تبدیلیوں سے اس عمل کو سست کیا جا سکتا ہے۔ خود کو جسمانی اور ذہنی طور پر مصروف رکھنا اس ضمن میں انتہائی ضروری ہے۔

علی تجمل کینیڈا میں رہتے ہوئے ڈیمنشیا سے متاثرہ افراد کی دیکھ بھال کا نظام دیکھ چکے ہیں۔ وہ اپنی والدہ کے لیے بھی ایسی ہی تدابیر پاکستان میں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ان کی والدہ کے علاوہ ان کے ماموں بھی اس مرض میں مبتلا رہ چکے ہیں۔ خاندان میں بیماری کی اس بہتات کے بعد وہ اور ان کی اہلیہ خود بھی بڑھاپے کی دہلیز پر یہ خدشہ محسوس کر تے ہیں کہ یاداشت ان کا ساتھ چھوڑ سکتی ہے۔

ایسے میں وہ اس خوف کو جھٹک کر کتابوں، بچوں اور احباب میں اپنی پناہ ڈھونڈتے ہیں اور کار زندگی سمیٹنے لگتے ہیں اس سے پہلے کہ سب کچھ یاد کے طاقچے سے ذرا ذرا کھسکنے لگے۔

اسی بارے میں